زین العابدین ندوی
سنت کبیر نگر ۔ یوپی
تاریخی مشاہد ہ یہی بتاتا ہے بلکہ سنت اللہ فی الارض بھی یہی ہے کہ جو شخص یا اس سے بڑھ کر جوا قوام پنے مقدر کا فیصلہ کرنے کی صلاحیتیں نہیں رکھتیں ان کا نام و نشان اس طرح مٹا دیا جاتا ہے جس کے آثار و نشانات بھی بمشکل دکھائی پڑتے ہیں، یہاں عزت و حمیت اور سر بلندی کے ساتھ جینے کے لئے اپنے جاگتے رہنے کا ثبوت دینا پڑتا ہے بصورت دیگر بوریا بستر لپیٹ دیا جاتا ہے اور اب تک یہی ہوتا آیا ہے ، یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں دین اسلام کی بدولت نا اہلی کے با وجود بھی مکمل نیست و نابود ہونے سے بچائے رکھا، اس کے بعد بھی ہمارا رویہ ایسا ہے کہ بس خدا کی پناہ ۔۔۔۔
اللہ نے ہمیں دین اسلام سے مربوط کیا جو ہر خیر اور بھلائی کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جس میں کسی کمی کا شائبہ تک نہیں یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے عمل سے اس کا نمونہ پیش کرنے میں ناکام ہیں جس کا انجام بھی ہماری نظروں کے سامنے ہے، لیکن اس کو تسلیم کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے کہ ہزار کمیوں کوتاہیوں کے باوجود ہم مسلمان ہیں، ہماری اس نسبت اسلام ہی کی وجہ سے ملک کے مختلف علاقوں میں ہمیں تختہ مشق بنایا جا رہا ہے، جس پر ہر اسلام پسند بلکہ انصاف پسند انسان کو دلی تکلیف ہوتی ہے، ایسے میں کوئی غم غلط کرنے کے بجائے اس ظلم کو درست بتانے لگے مظلوموں کے حق میں آواز اٹھانے کے بجائے انہیں کو قصور وار باور کرانے لگے تو ایسے ہمدردان قوم ومت سے کیا امید لگائی جا سکتی ہے؟ ان سے خیر کی کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ بات کو ہم کسی دوسرے زاویہ کی طرف نہیں لے جانا چاہتے ورنہ سلسلہ کلام لمبا ہو جانے کا اندیشہ ہے ۔
