کانپور (سیف الاسلام):  ہمارا ملک ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں بے شمار قومیں رہتی ہیں، جن میں مختلف زبان مختلف فکر ونظر ، مختلف تہذیب و ثقافت اور قبائل کے لوگ رہتے ہیں، کم و بیش 70 سالوں سے ملک ہندوستان میں کمزور طبقے کے ساتھ دوہرا رویہ اختیار کیا گیا ہے اور اس رویہ کے خلاف کسی نے بھی کوئی مثبت اقدام نہیں کیا، مسلمانوں، دیگر اقلیتوں اور پسماندہ طبقے کے لوگوں نے ملک کی سیاسی جماعتوں کو اپنا مسیحا سمجھا اور اپنا لیڈر تسلیم کرتے رہے مگر انہوں نے ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ غداری کی اور ان کی امیدوں پر کھرا نہیں اترے، ان کے تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے، جنہوں نے ان کو اپنا سمجھا اب ایسے وقت میں لوک سبھا انتخابات کی تیاری زور و شور سے شروع ہوچکی ہے اور ساری پارٹیاں اپنی حکمت عملی تیار کرکے میدان میں آنے کی شروعات کردی ہیں، لیکن دیکھنے کو یہ ملا کہ جس کو مسلم قائدین اپنا مسیحا سمجھتے تھے انہوں نے بھی مسلم نام سے دوریاں بنانا شروع کردیں، اپنے اسٹیج پر بھی بلانا گوارا نہیں کیا، بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں مسلم پارٹیاں مضبوط ہیں جیسے آسام میں مولانا بدرالداین اجمل ایک مظبوط سیاسی فریق ہیں اور انہوں نے ہمیشہ کانگریس کا ساتھ دیا مگر آج وہی کانگریس ان کی پارٹی پر پابندی کا مطالبہ کرتی ہے، تلنگانہ میں اسدالدین اویسی مضبوط ہیں، اتر پردیش میں ڈاکٹر ایوب، مولانا عامر رشادی اور بہت سے لوگ اپنی پارٹیوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں مگر اس دور میں ضرورت ہے اگر حزب اختلاف پارٹیاں مسلم سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ نہیں لینا چاہتی تو بندہ کی ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ ملک کے مسلم سیاسی رہنماء اور جماعتوں کے زمہ داروں سے سارے لوگ ان پارٹیوں کا ساتھ چھوڑ کر اپنا ایک مضبوط پلیٹ فارم تیار کریں جس میں سارے مسلم سیاسی قائدین مولانا بدرالدین اجمل اسد اویسی ڈاکٹر ایوب، مولانا عامر رشادی سارے لوگ ملکر اپنا ایک متحدہ پلیٹ فارم بنائیں اور پورے ملک میں لوک سبھا امیدوار الیکشن میں اتارے تاکہ ان لوگوں کو سمجھ میں آجائے کہ بغیر مسلم رہنماؤں کو ساتھ لئے ہم اس مضبوطی سے الیکشن نہیں لڑسکتے اور نہ ہی اس کے بہترین نتائج سامنے آنے کی امید ہے۔

 

عبدالماجد قاسمی

نورگنج پکھرایاں کانپور دیہات۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے