انجینئر مبشرسندھے ، عبدالجمیل ، اکرم علی اور سید ابراھیم صاحبان کا جماعت اسلامی ہند بیدر کے ہفتہ واری اجتماع سے خطاب 
بیدر۔ 27؍اگست (محمدیوسف رحیم بیدری): سورۃ زمر کی آیات53تا59کادر س دیتے ہوئے جناب محمد اکرم علی رکن جماعت اسلامی ہند بیدر نے کہاکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے کو پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح اللہ سبحانہ تعالیٰ بندے کو اپنی طرف رجوع کرواتاہے۔اورپلٹ آنا دراصل ایک دعا بھی ہے۔ ہرمتنفس اللہ کے عذاب کو دیکھ کر پشیمانی میں پڑجائے گا۔ قیامت کے دن چاندی اور سونے کافدیہ دے کر بچنا چاہیں تب بھی لوگ بچ نہیں سکیں گے۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جودنیا میں اللہ کی آیات کاتمسخر کیاکرتے تھے۔مسجد ابراھیم خلیل علیہ السلام چیتہ خانہ بیدر میں جماعت اسلامی ہند بیدر کے ہفتہ واری اجتماع میں درس قرآن دیتے ہوئے موصوف نے مزید کہاکہ آیات ِ قرآنی سے سبق لینا اور خود کاتزکیہ کرتے ہوئے قرآن مجید کی آیات پر عمل کرنا ضروری ہوجاتاہے۔ اور یہ کام کس طرح ہو اس کا ہرفرد انفرادی طورپر جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ جناب محمدعبدالجمیل کارکن جماعت اسلامی ہند بیدر نے درس حدیث دیتے ہوئے کہاکہ اللہ کے رسول کے پاس مفلس وہ شخص ہے جو آخرت میں نماز یں ، روزہ ، زکوٰۃ اور دیگر نیکیاں لے کرآئے گااور ساتھ ہی اس نے کسی پر تہمت لگائی ہوگی ۔ کسی کامال کھایاہوگا۔ نتیجہ یہ ہوگاکہ وہ ساری نیکیاں تہمت اٹھانے والوں کودے دی جائیں گی اور اس بندے کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔ وہ مفلس اور قلاش ہوکر رہ جائے گا۔ جناب عبدالجمیل نے بتایاکہ زبان پرلگام نہ ہوتو یہ زبان دوزخ میں لے جانے کاقوی اندیشہ پید اہوجاتاہے۔ صلہ رحمی کے بارے میں بھی انھوں نے بتایاکہ والدین ، اولادیں ، رشتہ دار ، پاس پڑوس ، سفر کے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
انجینئر عبدالسلام مبشرسندھے رکن جماعت اسلامی ہندبیدر نے ’’ملک کے موجودہ حالات اور ہمارارول‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسلم حکمرانوں  نے اپنے دور میں سبھی طبقات سے حسن سلوک کیا۔ اور ان کی مدد کرتے ہوئے اپناحق اداکردیاتھا۔ مسلمانوں کے بعد انگریزوں کی حکومت آ ئی تو ان لوگوں نے ہندوستان کے مختلف طبقات کو آپس میں لڑانے کاکام کیا۔ 1947؁ء میں ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا۔ آزادی کے بعد نئے مسائل اٹھ کھڑے ہوئے۔ فرقہ وارانہ فسادات کا ایک لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔ مسلمانوں کی تہذیب اور ان کی پہچان کو مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اکثریت اور اقلیت میں نفرت پھیلاد ی گئی۔ جناب مبشر سندھے نے حضرت صالح  ؑ ، حضرت موسیٰ  ؑ ، اوردیگر انبیائے کرام کاحوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حالات سے باہر آنے کے لئے ہمارا لائحہ عمل سنت اللہ اور نبی کریم کے بتائے ہوئے طریقے کے عین مطابق ہو۔ ہم نبی کریم  ﷺ کو جنگ ِ احزاب میں دیکھتے ہیں توہمیں ان سے صبر ، استقامت اور امید کادرس ملتاہے۔ خندق کھودی جارہی ہے اور کہاجارہاہے کہ قیصروکسریٰ کے خزانے (اور کنگن) تمہیں نصیب ہوں گے۔ دگرگوں حالات میں امید کاویژن دینانبی کریم  ﷺ کی سیرت کاحوصلہ افزاء اور رحمت والا سبق ہے۔ دراصل آزمائشیں جائزہ لینے آتی ہیں ، خوف اور ناامیدی پید اکرنے نہیں آتیں۔ مسٹر سندھے نے موجودہ حالات میں رہنمائی کرتے ہوئے کہاکہ (۱) صبر کریں (۲) خودحفاظتی اختیار کریں (۳) اپنے بھائی کی مدد کے لئے تیار رہیں (۴) کام کے انداز کو بدلیں ۔ ہمیں مظلوموں کے پاس پہنچنا ہوگا۔ ان کی مدد کرنی ہوگی ۔ اس عمل سے ہم بھی بچیں گے اور اللہ تعالیٰ کے پاس اجر بھی ملے گا۔ حالات کاذہنی ، جسمانی اور معاشی مضبوطی کے ذریعہ مقابلہ کریں۔ راہ ِ فرار اختیارکرنے سے بچیں ۔ جب کبھی حالات سے راہ ِ فرار اختیار کی گئی نقصان ہواہے۔ موصوف نے اس بات پر بھی زور دیاکہ ملک میں چند لوگ ہیں جو حالات کو خراب کرتے ہیں ورنہ تمام طبقات امن کے ساتھ زندگی کرنا چاہتے ہیں۔ ان چندغیرسماجی عناصرکی منفی کوششوں کو ناکام بناناہماری ذمہ داری ہے۔ اختتامی خطاب کرتے ہوئے جناب سید ابراھیم ، معاون امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیدر نے کہاکہ نماز پڑھتے ، روزہ رکھتے اور قرآن کاعلم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اقامت ِ دین کاکام بھی کرتے ہیں۔ لوگوں کواللہ کے دین کے ساتھ جوڑنا ایک الگ قسم کاجاب ہے۔ خود سدھرنا اور لوگوں کوسدھارنا یہ انبیاء کی بتائی ہوئی راہ ہے اور مشکل راہ ہے۔ اس راہ پر وہی چل سکتے ہیں جن کے ایمان مضبوط ہوں ۔
جناب سید ابراھیم نے مشورہ دیاکہ جماعت اسلامی ہند سے وابستہ افراد کااہم کام دراصل افرادسازی ہے۔ ایک ہفتہ کے دوران ایک وطنی بھائی کو کتاب دیں ، ویڈیو کلپ بھیجیں اور دین ِ اسلام سمجھائیں۔ جس طرح ہم اپنے بچوں کی شادی اور ان کی پرورش کے لئے فکرمند ہیں ویسے ہی فکرمندی دین کو پھیلانے کے لئے ہونی چاہیے۔ان ہی کی دُعا پر اجتماع اختتام کوپہنچا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے