تحریر: ڈاکٹر محمد نعمت اللہ ادریس ندوی

آج کل ملکی ہی نہیں عالمی پیمانے پر مختلف قسم کے ذرائع ابلاغ (media) کے ذریعے جس طرح اسلام کی تصویر کو مسخ کیا جارہاہے ، قرآن کریم کی بے حرمتی کی جارہی ہے اور مسلمانوں کی کردار کشی کی مہم چھڑی ہوئی ہے، وہ کوئی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں ہے۔ اس کے بھیانک نتائج غلط فہمیوں کی گرم بازاری ، نفرت وعداوت کی مسموم فضا، ظلم وتشدد، قتل وغارت گری اورفرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں ظاہر ہورہے ہیں۔ ان حالات سے نبرد آزا ہونے کے لیے علما ومفکرین نے جو کاوشیں شروع کیں تو بڑی شدت سے یہ بات محسوس کی گئی کہ خود مسلمانوں کے درمیان دینی بیداری پیدا کرنے کی سخت ضرورت ہیں ورنہ ظاہر ہے کہ جہالت اور عدم واقفیت کی بنا پر غلط فہمیاں دور کرنا تو کجا، خود پروپیگنڈے کا شکار ہو کریا دنیوی ہو س ناکیوں کے پھندے میں پھنس کر اپنے دین پر اعتمادکھو بیٹھتے ہیں اور بسا اوقات ایمان سے محروم ہوجاتے ہیں، بل کہ لڑکیوں کے دیگر مذاہب میں شادی گویا کہ عزت وناموس کا سودا کرنے کے واقعات بھی ہونے ہی لگے ہیں۔ لہذا مسلم معاشرے میںدین اسلام کی خوبیوں کو اجاگر کرکے اعتماد بحال کرنا اور دولت ایمان کی قدر دانی سکھاناوقت کی اہم ضرورت ہے۔
دین اسلام کی خوبیوںکو سمجھنے کے لئے ان حالات کا جانناضروری ہے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ۔ ساری دنیا کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی، کشت وخون کا بازار گرم تھا ، ظلم و زیادتی عام تھی ،خاص طور پر جزیرئہ عرب اور اس سے متصل رومی وایرانی سلطنتوں کے حالات نہایت ابتر اور ناگفتہ بہ تھے،ایسی بگڑی ہوئی اور متعفن صورت حال میں اللہ نے بھٹکی ہوئی انسانیت کی رہنمائی کے لئے اور سسکتے ہوئے انسانوں کومخلوق کے ظلم وجبروت سے نکال کرخالق کے عدل وانصاف سے روشناس کرانے کے لئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہادی و رہبر او رحمۃ للعالمین بناکر بھیجا، اللہ کا ارشاد ہے:
’’وَمَاأَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘ (الأنبیاء : ۱۱) (ہم نے آپ کو ساری دنیا کے لئے رحمت بنا کر بھیجا)۔
یہ فطری بات تھی کہ جس دین کو رحمۃ للعالمین لے کر آئے ہوں وہ ان تمام اوصاف و کمالات کا مجموعہ ہو جس میں ساری انسانیت کی بھلائی کا راز پنہا ں ہو۔اللہ کے حقوق کی تعیین ہوجن کی ادائیگی سے اس کی خوشنودی کے دروازے کھلیں اور اس کی
رحمت متوجہ ہو ، ساتھ ہی وہ قوانین بھی اس دین کا حصہ ہوں جن میں بندوں کے آپسی تعلقات میں بہتری اور عدل وانصاف کے عام ہونے کی ضمانت ہو؛تا کہ معاشرہ میں فساد برپا نہ ہو۔انسان چونکہ جسم و روح کا مجموعہ ہے اس لئے اس دین میں دونوں کے تقاضوں کی تکمیل کے لئے احکامات جاری کئے گئے ہوں جن کی بنا پر اسے دنیا و آخرت دونوں میں سعادت وکامرانی حاصل ہو،اور انسانی زندگی اللہ کی مرضی کے مطابق راہ ہدایت پر گامزن رہے اورہمیشہ چین و سکون سے ہمکنار رہے۔
اسلامی تعلیمات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام ان تمام خصوصیات کا حامل ہے ۔ ارکان اسلام کی تفصیلات پرنظر ڈالئے تو یہ سمجھنا مشکل نظر نہیں آتا کہ ان کامقصداللہ کی طاعت و بندگی اور خوش نودی کے حصول کے علاوہ ، روح کی پاکیزگی ، اخلاق کی درستگی ،فواحش ومنکرات سے دوری اور قلب و باطن کی صفائی ہے ۔
پہلا رکن شہادتین:

سب سے پہلے ’’لاالہ الا اللہ ،محمد رسول اللہ‘‘ کی گواہی ہمیں اپنے دل کوغیر اللہ کی بندگی سے پاک کرکے صرف اللہ کی بندگی سکھاتی ہے؛ چناں چہ صاحب ایمان کے دل میں موجود ایمان اسی وقت تک سلامتی کا باعث اور سلامت روی کا ضامن ہے جب تک کہ اس میں شرک کی آمیزش نہ ہو،اللہ کا فرمان ہے:  ’’َ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ َیلْبِسُوْا إِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ ، أُوْلٰئِکَ لَھُمُ الْأمْنُ وَھُمْ مُھْتَدُوْنَ‘‘ ( الانعام : ۸۲)  ( وہ لوگ جو ایمان لائے ، اور انھوں نے اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہ کی ،توان کے واسطے ہمیشہ کا امن وچین ہے، اوروہی لوگ ہدایت پر ہیں)۔
اس آیت میں ظلم سے مراد شرک ہے جیساکہ صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
دوسرا رکن نماز: 

نمازہمیں برائیوں سے روکتی ہے،اللہ کا ارشاد ہے:  ’’إِنَّ الصَّلَاۃَ تَنْھَی عَنِ الْفَحْشَائِ وَالْمُنْکَرِ‘‘(العنکبوت: ۴۵)  (بے شک نماز فواحش ومنکرات سے باز رکھتی ہے) ۔

اور ہمارے گناہوں کا کفارہ بھی بنتی ہے ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’الصَّلَاۃُ الْخَمْسُ، وَ الْجُمُعَۃُ إِلَی الْجُمُعَۃِ؛ کَفَّارَۃٌ لِمَا بَیْنَھُنَّ مَا لَمْ تُغْشَِ الْکَبَائِرُ ‘‘ (مسلم: (۲۳۳) بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)  (پانچوں نمازیںاور جمعہ اگلے جمعے تک، ان گناہوں سے معافی دلانے کا سبب ہیں جو درمیانی وقفے میںسرزدہو تے ہیں، اگر کبیرہ گناہوں سے بچا جائے )۔
تیسرا رکن روزہ: 
یہ تقوے کا باعث اور گناہوں سے حفاظت کا ذریعہ ہے، ارشاد باری ہے:  ’’یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ‘‘(البقرۃ : ۱۸۳)

(اے ایمان والو!تم پر روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تا کہ تم پرہیزگار بنو) ۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر شادی شدہ لوگوں کو مخاطب کر کے کہا:  ’’یَا مَعْشَرَ الشَّبَاب، مَنِ اسْتَطَاعَ الْبَائَ ۃَ فَلْیَتَزَوَّجْ، فَإِنَّہُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِوَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ یَسْتَطِعْ فَعَلَیْہِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّہُ لَہُ وِجَائٌ‘‘ (البخاری:(۵۰۶۶) و مسلم :(۱۴۰۰)
(اے نوجوانو! جو نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے، یہ چیز سب سے زیادہ نگاہ کو نیچا رکھنے والی اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والی ہے ۔اور جو طاقت نہ رکھتا ہووہ روز ے رکھے، یہ اس کے لئے ڈھال ثابت ہونگے )۔
چوتھا رکن زکوۃ:
زکوۃ جہاں ایک طرف فقراء کے ساتھ ہمدردی اور ناداروں کی حاجت برآری کا ذریعہ ہے ،وہیں اس سے گناہ بھی دھلتے ہیں اور روحانی ترقی بھی حاصل ہو تی ہے ۔اللہ تعالی فرماتا ہے:  ’’خُذْ مِنْ أَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَ تُزَکِّیْھِمْ بِھَا‘‘  (التوبۃ : ۱۰۳)  (ان کے مالوں میں سے صدقہ وصول کرکے انہیں پاک بنائیے اور ان کا تزکیہ کیجئے)۔
دوسری آیت میں فرمان ربانی ہے:
’’وَفِی أَمْوَالِھِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُوْمِ ‘‘( الذاریات:۱۹)  (اور ان کے مال میں مانگنے والوں کا اور سوال سے بچنے والوں کا حق تھا )
پانچواں رکن حج:
حج، فسق و فجور اور جنگ و جدال سے بچنے کی ٹریننگ ہے۔اگر حاجی ان پابندیوں کے ساتھ حج کرے کہ ممنوعات احرام میں سے کسی کا ارتکاب نہ کرے ،
نافرمانیوں سے بچے اور لڑائی جھگڑے سے دور رہے، تو وہ پھر گناہوں سے دھل دھلا کر معصوم بچہ کی طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:  ’’مَنْ حَجَّ ھَذَاالْبَیْتَ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمُّہُ‘‘( البخاری: (۱۸۱۹) و مسلم :(۱۳۵۰) بروایت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)
(جس شخص نے اس گھرکا حج کیا اور جنسی باتوں میں انہماک اور نافرمانی سے اجتناب کیا، وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک ہوکر لوٹا جس دن اس کو اس کی ماں نے جنم دیا)۔
ارکان اسلام کی یہی خوبیاں اور خصوصیتیں ، جن کا مقصد یقینا ایسا نیک و صالح فرد برپا کرنا ہے جو ایک اچھے معاشرہ کی تعمیرمیں بھر پور کردار ادا کرے اور اللہ کی اس زمین میں اللہ کی بندگی اور اطاعت عام کرنے کے درپے رہے ،آپ کم وبیش دوسرے ان تمام احکامات میںمحسوس کریں گے جن کی مشروعیت دین اسلام میں انسانی زندگی کی بہتری اور سعادت وکامرانی کے لئے کی گئی ہے۔چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں اپنی بعثت کا مقصد یوں بتایا ہے: ’’إِنَّمَابُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ حُسْنَ الأَخْلَاقِ ( مسند الإمام أحمد)  (میں اخلاق کریمہ کی تکمیل کے لئے مبعوث ہوا ہوں)۔
وہ تمام مسائل و تشریعات جن کا تعلق انسانی ضرورتوں یعنی کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے ،شادی بیاہ ،لین دین،اجتماعیت و معاشرت یا جرم وسزا سے ہے، ان میں یہ حکمت مد نظر رکھی گئی ہے کہ ان کے ذریعہ کلیات خمسہ یعنی جان ،مال، عقل، دین اورعزت کی حفاظت کی جاسکے ۔ انسان اچھی اور محفوظ ومامون زندگی گذارسکے ۔
دین اسلام کی خوبیوں اور خصوصیتوں میں سے یہ بھی ہے کہ تمام انبیاء اور رسولوں پر اورتمام آسمانی کتابوں پر ایمان لانا،ارکان ایمان میں داخل ہے۔اس وقت تک ایمان قابل اعتبار نہیں جب تک محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سارے انبیاء کرام پر،چاہے ان کا نام ہمیں معلوم ہو یا نہ معلوم ہو،چاہے وہ موسیٰ ہوں یا عیسیٰ، ابراہیم ہوں یا نوح علیہم السلام یا اور کوئی نبی اور رسول،ایمان لانا واجب ہے ۔اسی طور پر ان پر نازل شدہ آسمانی کتابوں : توریت، انجیل، زبور اورسبھی آسمانی صحیفوں پر ایمان لانا فرض ہے۔ جس کسی نے بھی کسی ایک نبی یا رسول یا کتاب کا انکار کر دیا وہ مسلمان باقی نہیں رہ سکتا۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:  ’’آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُٔنْزِلَ إِلَیْہِ مِن رَّبِّہِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلَائِکَتِہِ وَکُتُبُہِ وَرُسُلِہِ لَانُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِہِ ‘‘(البقرۃ : ۲۸۵)  (رسول ایمان لائے اس پر جو ان کی طرف اللہ کی جانب سے اتری اور مومن بھی ایمان لائے ،یہ سب اللہ پر ،اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے،اورہم اس کے رسولوںمیں کسی میں تفریق نہیں کر تے)۔
دین اسلام کی خوبیوں اور امتیازات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ ساری انسانیت کی بھلائی کے لئے آیاہے ، اور رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے سیفنۂ نجات ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:  ’’وَمَا أَرْسَلْنٰکَ إِلَّا کَافَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا‘‘(سبأ: ۲۸)  (ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لئے خوشخبریاں سنانے والا اور
ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے)۔
لہذا اسلام ایک ایسا مکمل نظام حیات ہے جس میں انسان کی تمام ضرورتوںاور دنیوی و اخروی فلاح و بہبود کی رعایت رکھی گئی ہے ، اور ہر طرح کی مشقتوں اور زحمتوں سے بچا کر اسے سہل العمل بنادیا گیا ہے ،اللہ کا ارشاد ہے: ’’لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا‘‘( البقرۃ: ۲۸۶)  (اللہ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ مکلف نہیں بناتا)۔
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :  ’’إِنَّ الدِّیْنَ یُسْرٌ‘‘( البخاری (۳۹) بروایت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) (بے شک دین آسان ہے) ۔
دین اسلام کی ایک اہم خوبی اور اچھائی یہ ہے کہ جس طرح اس نے عقیدہ صحیحہ اور عبادات کے ذریعہ بندوں کا رشتہ اللہ سے جوڑ دیا ہے اسی طور پر بندوں کے آپس میں تعلقات و معاملات اور حقوق کی ادائیگی کے لئے عدل وانصاف پر مبنی قوانین وضع کئے ہیں، اور مسلمانوں کو رحمت ومہربانی اور احسان مندی کے ساتھ معاملہ کرنے کا مکلف بنایا گیا ہے چاہے معاملہ کافر کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔ارشاد ربانی ہے:  ’’ لَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِنْ دِیْنِکُمْ أَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْا إِلَیْھِمْ، إِنَّ اللّٰہِ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ‘‘(الممتحنۃ: ۸)  (جنہوں نے تمہارے ساتھ لڑائی نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمہیں نہیں روکتا۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتاہے)۔
اسی طرح اللہ تعالی نے ہمیں امانت داری اور سچائی کا حکم دیا ہے اور خیانت ودورغ گوئی سے منع فرمایا ہے ۔ والدین کی اطاعت وخدمت ،اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کاپابند بنایا ہے، فقراء ومساکین کے ساتھ احسان اور رحم دلی کی ترغیب دی ہے ، اور رفاہی کاموں میں حصہ لینے پر ابھارا ہے ۔

ہمارے دین کی بھلائی صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرنے کا حکم دیاگیا ہے اور ان کو تکلیف پہونچانے کی ممانعت کی گئی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: ’’ فِی کُلِّ کَبِدٍ رَطْبَۃٍ أَجْرٌ‘‘( البخاری : (۱۷۳) و مسلم ( ۲۲۴۴)  (ہر زندہ جگر رکھنے والی مخلوق میںاجر ہے )۔
دین اسلام کی خوبیوں کا احاطہ اس مختصرمضمون میں تو ممکن نہیں ،مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ الحمد للہ حق کے طلب گار پیاسوں کی طرح اسلام کی طرف اس کی امتیازی خصوصیات کی بنا پر ہی لپک رہے ہیں ۔اگر ہم بھی واقعتا اسلام کاعملی نمونہ بن جائیں اور اپنے عمل و کردار کے ذریعے ا س کی اچھائیاں لوگوں کے سامنے پیش کریں تو یہ یقینا دینی دعوت کی بہترین خدمت ہوگی، ارشاد باری ہے: ’’وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَی اللّٰہِ وَ عَمِلَصَالِحًا وَ قَالَ إِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ‘‘( فصلت : ۳۳) (اس سے زیادہ اچھی بات کس کی ہو سکتی ہے جو اللہ کی طر ف دعوت دے،نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں)۔

دعا ہے کہ اللہ ہمیں راہ ہدایت کا داعی بنائے ، دین کی اچھی سمجھ عطا فرمائے اور علی وجہ البصیرۃ دین کی دعوت کی توفیق دے، آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے