کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
زندگی میں شگفتہ مزاجی سے انسان کا غم تقریبا ختم ہوجاتاہے ، ہمیشہ عبوسیت و قنوطیت ، منھ بنا کے رہنا یہ ایک زندہ دل انساں کے لئے مضر ہے ، بہت لوگ ہنسی مذاق ، تداعب وتلاعب کے معاملے میں افراط وتفریط کے شکار ہیں ،ہنسی ومذاق ایسی کی پھوہڑ پن کا آخری حد چھلانگ ڈالے ،حتی کہ وقار وسنجیدگی شرما کے بھاگ جاۓ ،دوسری طرف یہ کہ ہمیشہ غموں کے بوجھ تلے دبے رہنا ، ذہن ودماغ پر مختلف الجھنوں کو سنوار کررکھنا صحتمند بدن کی علامت نہیں ہے ، موقعہ بہ موقعہ تبسم کرتے رہنا چاہئیے ۔۔۔۔۔ ہنسی مزاح فی نفسہ مذموم نہیں بلکہ اس میں حدود کو تجاوز کرجانا مذموم ہے ، مثلاً سنجیدگی کے موقعے پر ہنسنا یا ذرا ذرا سی بات پر قہقہہ لگا کر جبڑے پھاڑ کر ہنگامہ برپا کرنا یہ قابل مذمت ہے ،لیکن مناسب موقعہ سے ہنسی مزاح دلوں کو سرور اور روح کو تازگی ونشاط عطاء کرتا ہے ، ٹینشن دور ہوتا ہے اور ڈپریشن سے باہر آتا ہے ، دنیاوی مشاغل ومصروفیات سے راحت حاصل کرنے ،ذہنی تھکان دور کرنے ،پریشانی ،غم وغصہ خوف ووحشت کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہنسی مذاق بھی ہے ، ہنسی مزاح کرنا ،ظریف الطبع ہونا،طلاقت وجہ سے ملنا زیر لب تبسم ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ مستحسن فعل ہے ،
حضرت جریر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،”ما حَجَبَنِي النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ مُنْذُ أسْلَمْتُ، ولَا رَآنِي إلَّا تَبَسَّمَ في وجْهِي”اسلام لانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس آنے سے کبھی نہیں منع کیا ،اور جب بھی مجھ پر نظر پڑتی آپ مجھے دیکھکر مسکرا دیتے "بہر کیف اگر شگفتہ مزاجی نہ ہو تو انسان کا دل پژمردہ ہوجاتا ہے اور زندگی بے مزہ ہوکر رہ جاتی ہے ، علامہ صفی الرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ کے سلسلے میں کسی نے لکھا ہے کہ آپ جب کسی مجلس میں ہوتے اور بہت دیر تک خاموش فضاء بنی رہتی تو کہتے کہ ” سکوت مرگ چھارہا ہے کچھ باتیں ہونی چاہیئے”۔
