از قلم : ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجاہد عالم ندو ی صدر مدرس : مدرسہ مریم لتعلیم البنات تین کھمبا بیلا ارریہ بہار
مولانا محمد اسماعیل میرٹھی اردو زبان و ادب کے بلند پایہ ادیب و شاعر تھا ، معروف ادیب و نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ نے ان کا شمار مولانا خواجہ الطاف حسین حالی اور مولانا محمد حسین آزاد جیسے جدید اردو ادب کے اہم ترین ادباء و شعراء میں کیا ہے ، ان کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا ، ان کی ولادت 12 نومبر 1844ء کو میرٹھ کے محلہ ٫ مشائخان ٬ میں ہوئی تھی ، موجودہ وقت میں وہ علاقہ اسماعیل نگر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے ، مولانا اسماعیل میرٹھی تقریباً 73 برس کی عمر طبعی گزار کر یکم نومبر 1917ء کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔
مولانا محمد اسماعیل میرٹھی نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ، فارسی کی اعلیٰ تعلیم کے لیے مرزا رحیم بیگ کے شاگردگی اختیار کیا ، فارسی میں اچھی استعداد حاصل کرنے کے بعد وہ میرٹھ کے ٹیچرس ٹریننگ اسکول میں داخلہ لیا اور وہاں سے ٹیچر اہلیتی سرٹیفکیٹ حاصل کیا ، ان کو علم ہندسہ سے خاص دلچسپی تھی ، انھوں نے فزیکل سائنس اور علم ہیئت بھی پڑھا ، اسکول سے فارغ ہو کر انھوں نے رڑکی کالج میں اوور سیئر کے کورس میں داخلہ لیا ، لیکن مزاج میں ہم آہنگی نہیں ہونے کے سبب انہوں نے اس کورس کو پائے تکمیل تک نہیں پہچایا ، اسے ناتمام چھوڑ کر میرٹھ واپس آ گئے ، وہ اعلیٰ تعلیم تو حاصل نہیں کرسکے اور نا ہی یونیورسٹیوں سے بڑی بڑی ڈگریاں لے سکے ، مگر اپنی بےپناہ محنت اور اعلیٰ ذوق و شوق کے باعث اپنے اندر بےپناہ صلاحیت و قابلیت پیدا کر لی تھی ، اپنی زندگی کی ابھی سولہویں بہار ہی دیکھ رہے تھے تو محکمۂ تعلیم میں بطور کلرک ملازمت اختیار کر لی ۔
1867ء میں ان کا تقرر سہارنپور میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے ہوا ، جہاں انھوں نے تین سالوں تک بڑی دلجمعی کے ساتھ خدمات انجام دیں ، بعد ازاں پھر میرٹھ اپنے پرانے دفتر منتقل ہو گئے۔
1888ء میں وہ آگرہ کے ایک اسکول میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے بحال کئے گئے ، جہاں تقریباً گیارہ برسوں تک ناقابلِ فراموش تدریسی خدمات انجام دیں اور وہیں سے وہ 1899ء میں سبکدوش ہوئے ، اس کے بعد مستقل میرٹھ میں مقیم ہو گئے اور تاحیات تالیفات ، تصنیفات اور شعریات میں ہمہ تن مصروف و منہمک ہو گئے ، ان کی نو کتابیں اردو کتب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں ۔
اسماعیل میرٹھی کے معاصر ادباء ، شعراء اور عوام کو تو ان کی صلاحیت ، قابلیت اور ادبی و شعری خدمات کے اعتراف تھا ہی مزید برآں یہ کہ حکومت وقت تک بھی معترف تھی ، چنانچہ اس نے ان کو خان صاحب کا خطاب دیا تھا ۔
مولانا محمد اسمٰعیل میرٹھی کو ابتدائی دور میں شاعری سے دلچسپی نہیں تھی ، قلق میرٹھی کی صحبت نے انہیں شعر گوئی کی طرف مائل کیا تھا پھر اس کے بعد وہ نظموں کی طرف متوجہ ہوئے ، قلق میرٹھی نے انگریزی کی پندرہ اخلاقی نظموں کا اردو میں منظوم ترجمہ جواہر منظوم ٬ کے نام سے کیا تھا ، اس ترجمے سے اسماعیل میرٹھی اتنا متأثر ہوئے کہ ان کی شاعری میں جدت و ندرت کا دریا متموج ہوگیا ، یہی نہیں بلکہ جدید اردو نظم میں وہ انقلاب برپا ہوا کہ اردو ادب جدید نظم کے نادر خزانے سے مالا مال ہو گیا ۔
پروفیسر حامد حسین قادری نے مولانا اسماعیل میرٹھی کی خدمات کو جدید اردو نظم میں بہت اہمیت کا حامل قرار دیا ہے ، اور اس حقیقت سے نقاب کشائی کی ہے کہ نظم جدید کے میر کارواں کے طور پر آزاد اور حالی کا نام لیا جاتا ہے ، لیکن آزاد کی کاوشوں سے انجمن تحریک پنجاب کے تحت 9/ اپریل 1874ء کو منعقدہ تاریخ ساز مشاعرہ سے بہت پہلے میرٹھ میں قلق اور اسمٰعیل میرٹھی نظم جدید کے ارتقاء کے باب رقم کر چکے تھے ، اس طرح اسمٰعیل میرٹھی کو محض بچّوں کا شاعر سمجھنا غلط ہے ، ان کی تمام تحریروں کا خطاب بڑوں سے نہ سہی ، ان کے مقاصد بڑے تھے ، ان کی شخصیت اور شاعری کثیر الجہت تھی ، بچوں کا ادب ہو ، جدید نظم کے ہیئتی تجربات ہوں یا غزل ، قصیدہ ، مثنوی ، رباعی ہوں یا دوسری اصناف سخن ، اسمٰعیل میرٹھی نے ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا ۔
اسمٰعیل میرٹھی کے کلام کے مطالعہ سے ہمیں ایک ایسے ذہن کا پتہ چلتا ہے جو مخلص اور راست گو ہے ، جو خیالی دنیا کی بجائے حقیقی دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے ، انھوں نے اس دنیائے فانی کی مبنی بر حقیقت تصویر کشی کی ہے ، ان کے یہاں انسانی ابتلاء اور کلفتوں کے نقوش میں اک نرم دلی اور خلوص کی لہریں موجزن نظر آتی ہیں ، وہ زندگی کی نا پائیداری کے قائل ہیں ، لیکن اس سے راہِ فرار اختیار کرنے کی تلقین نہیں کرتے ، وہ خواب و خیال کی دنیا کے شاعر نہیں بلکہ ایک عملی انسان تھے ، ان کے بہت سارے اشعار ضرب الامثال کی حیثیت رکھتے ہیں اور زبان زد خواص وعوام بھی ہیں ۔
اسماعیل میرٹھی قوم و ملت کے بہت بڑے بہی خواہ اور سچے ہمدرد تھے ، وہ اپنی قوم کو ذہنی ، فکری اور عملی حیثیت سے بدلتے ہوئے ملکی حالات سے ہم آہنگ کرنا چاہتے تھے ، اسی لیے انھوں نے بچوں کی ذہن سازی کو خاص اہمیت دی ، ان کی خواہش تھی کہ بچے صرف علم نہ سیکھیں بلکہ وہ اپنی تہذیبی اور اخلاقی روایات سے بھی با خبر رہیں ۔
اسماعیل میرٹھی کا اردو زبان و ادب اور شاعری میں بہت بلند مقام ہے ، بعض ناقدین کا تو خیال یہ ہے کہ حالی اور آزاد کے ہمعصر انّیسویں صدی کے بہترین شاعر مولوی اسمٰعیل میرٹھی ہیں ، جن کی نظمیں محاسن شاعری میں آزاد و حالی دونوں سے بہتر ہیں ، بہرحال! اسماعیل میرٹھی نے بچوں کے لیے بہت ساری کہانیاں اور نظمیں لکھیں ، اسی لیے انہیں بچوں کا شاعر و ادیب کہا جاتا ہے ، مگر ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف بچوں کی کہانیوں اور شاعری تک ہی محدود تھے ، سچی بات تو یہ ہے کہ انہوں نے بچوں سے لےکر جوانوں اور بوڑھوں تک سبھی کے لیے نظمیں اور نثریں دونوں لکھیں ، اس لیے ان کو بچوں تک محدود کر دینا مجھے لگتا ہے ان کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ، بلکہ زیادتی کی بات ہے ۔
اردو کو جدید نظم سے روشناس کرانے والوں میں اسمٰعیل میرٹھی کو نمایاں مقام حاصل ہے ، انہوں نے جو نظمیں ، کہانیاں اور کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں وہ یقیناً اردو زبان و ادب کا بیش قیمتی اثاثہ ہیں نیز مولانا محمد اسماعیل میرٹھی کی شش جہت و نابغۂ روزگار شخصیت ، حیات و خدمات ہم اردو والوں کے لیے سرمایہ افتخار کے ساتھ ساتھ مشعل راہ کی حیثیت بھی رکھتی ہیں۔
