تحریر:۔۔۔۔احمد حیسن مظاہریؔ
موسمِ سرماکی آمد ہوچکی ہے،موسمِ سرما سرد ترین موسم ہوتا ہے، اس موسم کوجاڑا بھی کہتے ہیں۔اس موسم ميں دن چھوٹا اور رات لمبی ہوتی ہے ۔موسم سرماکی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں گرم کپڑوں میں لپٹے رہنے پر مجبورکردیتے ہیں ،ہواؤں کے خنک جھونکوں سے طبیعت مچل جاتی ہے، حرارت کی طلب بڑھ جاتی ہے ،ٹھنڈک کو دورکرنے کے لئے مختلف قسم کے ملبوسات اور بہت ساری چیزیں استعمال کرنے میں انسان لگ جاتے ہیں۔
سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی ماحول کا رنگ بدل جاتا ہے۔سورج کی تپش اور گرم ہوا کے تھپیڑے فضا سے ایسے غائب ہو جاتے ہیں گویا ان کا وجود ہی نہیں تھا۔اکثر اوقات لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ انہیں سال کے چار موسموں میں سے کون سا موسم زیادہ پسند ہے تو زیادہ تر افراد کا انتخاب موسم بہار ہوتا ہے۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو موسم سرما اور برف باری کا سال بھر انتظار کرتے ہیں۔یہاں ایک سوال درپیش ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کونسا موسم پسند تھا؟اس بارے میں کوئی واضح روایت نہیں ملی، البتہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو عرب کی گرمی میں ٹھنڈا پانی محبوب تھا۔
ایک بات آپ لوگوں کے گوش گزار کر نا از بس ضروری سمجھتا ہوں کہ بہت لوگوں کے اندر یہ کوتاہی دیکھنے میں آتی ہے کہ وہ موسمی تبصروں و تجزیوں میں وقت کو فضول ضائع کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے تبصروں میں قدرت کے نظام پر تنقیدی جملہ ادا کرنے کی کوتاہی کرنے کے مرتکب ہوتے ہیں۔جو انتہائی غلط بات ہے جس سے پچنا از حدضروری ہے،ورنہ عنداللہ مواخذہ ہوگا ۔یادرکھیں! سردی ہو یا گرمی سب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے لہذا انہیں بُرا کہنا درست نہیں ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:ابن آدم (انسان) مجھے تکلیف دیتا ہے(یعنی اس طرح کہ) وہ زمانہ کو برا کہتا ہے حال آں کہ زمانہ (کچھ نہیں وہ) میں ہی ہوں، سب تصریفات میں میرے قبضہ میں ہے، اور شب وروز کی گردش میرے ہی حکم سے ہوتی ہے۔(مسلم شریف)
مذکورہ حدیث میں "دھر” سے مراد زمانہ اور وقت دونوں ہی ہیں، کیوں کہ زمانہ اور وقت قریباً ایک ہی ہیں، وقت لمحے بھر کو بھی کہا جاتا ہے، جب کہ زمانہ کچھ مدت وقت کے لیے استعمال ہوتاہے، گویا وقت زمانے کا ہی حصہ ہے، جاہلوں کی عادت ہے کہ وہ انسانوں کو اپنی پیدا کی ہوئی پریشانیوں اور مصیبتوں کو برائی کی صورت میں زمانے اور وقت کے سرپر ڈال دیتے ہیں، اور اپنی زبان سے اس طرح کے الفاظ نکالتے ہے کہ زمانہ خراب ہے، بہت برا وقت ہے، حدیث شریف میں زمانہ اور وقت کو برا کہنے کی مذمت کی گئی ہے، کیوں کہ زمانہ کا خالق اللہ تعالیٰ ہے، اور زمانے کو برا کہنے کا مطلب اللہ تعالیٰ کو برا کہنے کے مترادف ہے۔ (مرقات)
ہمیں تبصرہ تو اس بات پر کرنا چاہیے کہ ہمارے قرب و جوار والے موسم سرما میں کس طرح زندگی گزارتے ہیں، بجائے اس کے ہم خواب خرگوش میں گرم لحاف کے ساتھ لپٹے ہوئے رہتے ہیں ۔کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے قرب و جوار کے رہنے والے موسم سرما میں کس طرح زندگی گزارتے ہیں اور ہم خوابِ خرگوش میں گرم لحاف کے ہمراہ لپٹے ہوئے رہتے ہیں!سردی کے موسم میں رات کے وقت ہر کوئی چاہے گا کہ گرم لحاف میں لپٹا ہوا ہو، بہترین گرم سوئیٹر اس کے پاس موجود ہو، جب کسی کام اور ضرورت سے باہر نکلنے کی ضرورت پیش آئے تو تمام تر حفاظتی واحتیاطی تدابیر کے ساتھ باہر نکلیں، لیکن اس دنیا میں ایسے کتنے لوگ ہیں کہ جن کے پاس سرچھپانے چھت نہیں، آرام کرنے نرم وگرم بستر نہیں ، سردی کی سخت راتوں میں ضرورت مند ومجبور سڑکوں کے کنارے،فٹ پاتھ پر،بس اسٹینڈ پر اکڑے ہوئے سورہے ہوں گے، جن کے پاس نہ گرم کپڑے ہیں اور نہ ہی گرم بستر ،ایسے میں جن کو اللہ تعالی نے دیا ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سردی سخت راتوں میں ان ضرورت مندوں کا بھی خیال رکھیں۔۔
بلادِ شام میں سے کسی شخص نے خواب میں مشہور تابعی بزرگ حضرت سیّدُنا صفوان بن سلیم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو جنّت میں دیکھا۔ وہ شخص آپ سے ملنے حاضر ہوا اور اپنا خواب بیان کرکے آپ کے عمل کے بارے میں سوال کیا کہ کس عمل کے سبب جنّت میں داخلہ نصیب ہوا؟ فرمایا: اس کا سبب ایک قمیص ہے جو میں نے ایک شخص کو پہنائی تھی۔ لوگوں نے واقعہ پوچھا تو فرمایا: سردی کی ایک رات میں مسجد سے نکلا تو ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس سردی سے بچاؤ کے لئے کچھ نہیں ہے، میں نے اپنی قمیص اُتار کر اسے پہنا دی۔(صفۃ الصفوۃ)
موسم سرما کی حقیقت کیا ہے؟
سائنسی طور پر موسمِ سرما کی بہت وجہ تسمیہ بیان کی جاتی ہے لیکن احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سردی جہم کے سانس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔موسم سرما میں شدت کی سردی اور گرما میں شدت کی گرمی……… جیسا کہ ابوہریرہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : جہنم نے اپنے رب کے پاس شکایت کی ، چناچہ کہا: اے میرے رب میرے ایک حصہ نے دوسرا حصہ کھایا ،تو اللہ نے اس کو دو سانسوں کی اجازت دی ، ایک سانس سرما میں اور دوسرا سانس گرما میں، چناچہ یہی وہ شدت کی گرمی ہے ،اور وہ شدت کی سردی ہے جسے تم محسوس کرتے ہو ۔(بخاری شریف) قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا::دن کے دونوں سروں میں نماز بر پا رکھ اور رات کی کئی ساعتوں میں بھی، یقینا نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے ۔سردیوں میں عبادت یا اعمال انجام دینے کے لئے وضو کرنا پڑتا ہے،موسم کی ٹھنڈک کی وجہ سے پانی بھی نہایت سرد ہوجاتا ہے، ایسے میں جب بندہ ٔ مومن وضو کرتا ہے تو نبی کریمﷺ نے اس کے لئے دوہرے اجرکی بشارت دی ہے۔ آپﷺ کا ارشادہے: جس نے سخت سردی میں کامل وضو(یعنی سنت کے مطابق) کیا اس کے لئے اجر کے دو حصے ہوتے ہیں۔عبید بن عمیر لیثیؒ فرماتے ہیں:جب سردی کا موسم آتا تو فرماتے: اے اہل قرآن تمھاری نمازوں کے لئے راتیں لمبی ہوگئی ہیں اور تمھارے روزے رکھنے کے لئے دن چھوٹے ہوگئے ہیں تو تم اسے غنیمت جانو۔
سردیوں کے آنے پر تو فرشتے بھی خوش ہوتے ہیں چنانچہ حضرت قَتادہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بےشک فرشتے مؤمنوں کیلئے سردیوں کے آنے پر خوش ہوتے ہیں، کیونکہ اس کے دن چھوٹے ہونے کی وجہ سے مؤمن روزہ رکھتا ہے اور رات لمبی ہونے کی وجہ سے قِیام کرتا ہے۔(الزہد لاحمد بن حنبل)مسلمان کو چاہئے کہ وہ دن،رات،مہینہ اور سال کی تبدیلی سے عبرت حاصل کرے،اور یہ جان لے کہ وہ اللہ کتنا طاقت و قدرت والا ہے جو دن و رات میں تبدیلی کرتا ہے۔اے اللہ! یہ سرما ہمارے لئے نفع بخش اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا سبب بنا ۔ (آمین)
