✒️غـفـــــــران احــمــد نـدوی

صــدر مــدرس مـدرسہ عــــربیہ تعلیم القـــــرآن سمـــریاواں سنـت کبیــر نگــر 

 

جس طرح تعلیم کا گہرا اور مضبوط رشتہ استاذ سے ہوتا ہے اسی طرح تربیت و تزکیہ کا پہلو بھی استاذ سے تعلق کے بغیر ناقص اور نامکمل ہی رہے گا ، تعلیم وتربیت دونوں لازم و ملزوم چیز ہیں ،تربیت کے بغیر تعلیم کا مقصد ناقص ہے اور تعلیم کے بغیر تربیت کا نفع بھی ادھورا ہے ،محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہمیشہ تعلیم کے ساتھ تربیت بھی کی ہے ،اساتذہ کو حقیقت میں مدرس کے ساتھ ساتھ سچا مربی ہونا چاہئے ، ان کے اندر اخلاق وپاکیزگی ،امانت ودیانت ،عدل وانصاف ،خیرخواہی اور استغناء جیسی اہم صفات ہونی چاھئے ، تربیت کیلئے طلبہ کے امراض سے واقف ہونا بے حد ضروری ہے ،طلبہ کے خیر خواہ بنیں ،اور اپنی زندگیوں کو پاک وصاف رکھیں ان شاء اللہ تعالیٰ اس کا اثر طلبہ پر ہوگا،مطالعہ کا شوق پیدا کریں ،کبھی طلبہ کو یہ محسوس نہ ہو کہ آپ بغیر مطالعہ کے درجہ میں آگئے ہیں ،طلبہ پر اپنی ذات سے اثر انداز ہوں.

اس دور میں اساتذہ کرام کے اندر بہت سی کوتاہیوں کے ساتھ موبائل کا استعمال سب سے سنگین عیب اور لا علاج بیماری بن کر سامنے آیا ہے ، موبائل بقدر ضرورت اور متعین وقت میں ہی استعمال ہو تو کسی قدر گنجائش ہے، ہر وقت، ہر جگہ اور حالت میں موبائل کا استعمال مستحسن نہیں ہے، وقار مجروح ہوتا ہے، طلبہ اور متعلقین کی نظر میں اہمیت گھٹ جاتی ہے، اپنا وضع قطع درست رکھیں ،طلبہ جب کبھی آپ کے کمرہ میں جائیں تو آپ کو مطالعہ کرتا ہوا پائیں نہ کہ موبائل استعمال کرتا ہوا ،اساتذہ اپنے آپ کو نمونہ بنائیں ،طلبہ کی شروع سے ہی رہنمائی کریں ،ان کو ان کے آنے کا مقصد بتائیں ،ان کو احساس دلائیں کہ مدارس اسلام کے قلعے اور جزیرے ہیں ، دین کے تحفظ کیلئے قائم کئے گئے ہیں ،مدارس چراغ ہیں طلبہ کو مثل شمع پگھل کر روشنی پھیلانا ہے ،اشاعت دین کے ساتھ حمیت دین کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں تاکہ طلبہ آپ کو اپنا نمونہ اور آئڈیل بنائیں ،طلبہ کو پورا پورا وقت دیں تاکہ ان کے اندر محنت کا جذبہ سرد نہ ہونے پائے ،طلبہ کو کما حقہ مطمئن رکھیں ،نصاب میں اعتدال برتیں ،ناغوں سے کلی احتراز کریں تاکہ اسباق میں تسلسل برقرار رہے ،ایسا کرنے سے نصاب کی تکمیل میں آسانی ہو گی ،اپنے اسباق اپنی ہی گھنٹیوں میں مکمل کرنے کی کوشش کریں تاکہ دوسرے اساتذہ کو شکوہ شکایت کا موقع نہ ملے ،طلبہ کے ساتھ شفقت ومحبت کا برتاؤ کریں ،ان کو اپنے سے جڑنے کا موقع دیں ،طلبہ کے سلسلے میں انتقامی جذبہ نہ رکھیں ،درجات میں جائیں تو سب سے پہلے ان کا ذھن ودل تعلیم کیلئے تیار اور راغب کریں ،جہاں جہاں طلبہ کے اشکالات ہوں ان کو رفع کریں ،تعلیمی اوقات میں لایعنی اور غیر مفید چیزوں میں اپنے آپ کو قطعی مشغول نہ کریں ،طلبہ کے سامنے احتیاط اور سلیقہ سے گفتگو کریں ،صفائی ستھرائی کی بار بار تلقین کرتے رہیں، اولاً پان مسالہ ،تمباکو ،بیڑی سگریٹ وغیرہ سے خود بھی احتیاط کریں اور طلبہ کو اس کے نقصانات بتائیں اور ہمیشہ یہ تنبیہ کرتے رہیں کہ اس سے پیسہ ضائع ہوتا ہے ،صحت بھی متاثر ہوتی ہے اور جگہ جگہ گندگی بھی پھیلتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اچھے ماحول اور معیاری معاشرے میں اس کو برا اور باعث ننگ وعار سمجھا جاتا ہے اور آخری بات جو ہمیشہ ہمارے ذھن ودماغ میں رہنی چاھئے کہ ہمارا خالق ومالک ہم کو دیکھ رہا ہے ،اس کا احسان ہے کہ ہماری بہت سی کمیاں کوتاھیاں اب بھی پردہ غیب میں ہیں ،ہم سب کو نئے سرے سے اپنا اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا چاھئے ،طالبان علوم نبوت کو علم کے سمندر سے سیرابی کا موقع فراہم کرنا اور خود بھی علم کے نئے نئے زیورات سے مزین ہونا ،بہترین ماحول میں زندگی کے لمحات بِتانا اور اعمال صالحہ کی توفیق ملنا یہ سب اللہ کا فضل ہے اس پرہم سب کو شکر ادا کرنا چاہئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے