مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھاڑکھنڈ
دور تک پہاڑوں کا سلسلہ پھیلا ہوا ہو تو ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ اور دوسرے میں جانے کے لیے پہاڑ کے اندر سے سُرنگ بنائی جاتی ہے، یہ طریقہ ملک و بیرون ملک میں کثرت سے رائج ہے۔ اس کی وجہ سے آمد و رفت میں سہولتیں بھی ہوتی ہیں اور پہاڑ کاٹ کر سڑک بنانے کے مشکل کام سے بھی بچنا ممکن ہو جاتا ہے، ان آسانیوں کے ساتھ قدرت کی نوازشات سے چھیڑ چھاڑ کے بھیانک نتائج بھی سامنے آتے ہیں اور کبھی کبھی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں، اتراکھنڈ میں ۲۱/ نومبر کی صبح ایسا ہی ایک واقعہ سلکیارا اتراکھنڈ میں پیش آیا، سرنگ کا ایک حصہ دھنس گیا اور اکتالیس مزدور اس میں پھنس کر رہ گیے، خوش قسمتی یہ رہی کہ تودے ان کے اوپر نہیں گرے، ورنہ سرنگ ہی ان کی قبربن جاتی، سرنگ کا جو حصۃ گرا وہ ساٹھ میٹر تھا، اور جہاں پر یہ مزدور کام کر رہے تھے وہ دو سو پچاس میٹر کی جگہ محفوظ رہ گئی، اور اللہ رب العزت نے ان کی زندگی کی حفاظت فرمائی اور ظاہرا اس کی شکل یہ بنی کہ سرنگ کے اندر پانی دستیاب تھا اور بجلی بھی کام کر رہی تھی، پانی کی نالی سے خشک غذاؤں کے پہونچانے کا انتظام ہو سکا، فکر بچاؤ کی کی جانے لگی، ہندوستانی ہر مشین ناکام ہو گئی تو باہر سے مشین منگوائی گئیں، تب یہ ممکن ہو سکا کہ گیارہ دن بعد ان کی تصویریں سامنے آئیں اور انہیں گرم کھانا کھچڑی کی شکل میں فراہم کرایا جا سکا، اور فون کا تار بھی چھ انچ کے قطر سے گذار کر ان کے خاندان والوں سے بات کرادی گئی، خاندان والے قدرے مطمئن ہوئے، ہو سکتا ہے جس وقت یہ سطریں آپ تک پہونچیں گی مزدور باہر آچکے ہوں گے، لیکن گیارہ بارہ دن کی مدت جس لمبے، تنگ قبر نما سرنگ میں انہیں گذارنی پڑی وہ کس قدر اذیت ناک، خوف ناک، ذہنی تناؤ اور سردی کے یخ بستہ موسم میں کس طرح گذرا ہوگا، اس کا تصور کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اتراکھنڈ کے پہاڑوں کا سلسلہ وسیع ہے، ان میں بعضے قدیم ہیں اور بعضے ابھی تشکیلی دور سے گذر رہے ہیں، آخر الذکر کے چٹانوں میں وہ صلایت نہیں ہے جو دوسرے قدیم پہاڑی سلسلوں میں ہے، اس لیے جب یہاں پہاڑوں میں کھدائی ہوتی ہے تو وہ مسلسل ضرب اور سوراخ کرنے والے آلات اور دھماکہ دار اشیاء کو برداشت نہیں کر پاتے، ان حالات میں کبھی زمین دھنس جاتی ہے اور کبھی تودے اوپر سے نیچے گر کر مصیبتیں کھڑی کر دیتے ہیں، ایسے میں تھوڑی سی انسانی غلطی سے بڑے حادثات وقوع پذیر ہو جاتے ہیں، اس لیے سروے کنندگان کو اس کا خیال رکھنا ضروری تھا کہ پہاڑ کا یہ حصۃ تشکیلی دور سے گذر رہا ہے اس لیے وہ سرنگ کے کام کو بر داشت نہیں کر سکے گا، خصوصا اس صورت میں جب کہ ابھی جنوری میں ہی اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ میں دڑاڑیں غیر معمولی کوہ کنی کی وجہ سے ہی پیدا ہوئی تھیں اور بہت سارے لوگ علاقہ سے نقل مکانی پر مجبور ہو گیے تھے، ایسے میں سخت احتیاط کی ضرورت تھی۔
ہم بار بار اس بات کو لکھتے رہے ہیں کہ زمین کا سارا فساد و نگاڑ چاہے فضائی آلودگی ہو یا بالائی سطح پر گلیشیر کے پگھلنے سے دریاؤں کی سطح آب میں اضافہ یا معاملہ، موسمیاتی تبدیلی کا ہو یہ سب کچھ آرام و آسائش کے نام پر قدرتی وسائل کے تباہ کرنے کی وجہ سے ہے، اگر ہم اب بھی نہ جاگے تو……
