مسلمان تاقیامت باقی رہیں گے، اس لئے ان کی باری آخری نہیں ہوسکتی :محمدیوسف رحیم بیدری 
بیدر۔ 19؍اپریل (پریس نوٹ): جناب محمدیوسف رحیم بیدری صدر کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر نے اپنے تازہ صحافتی بیان میں کہاہے کہ ہندوستان جیسا عظیم جمہوری ملک پوری دنیا میں کہیں نہیں ہے۔ ہندوستان اپنی جمہوری قدروں کے سبب ساری دنیا میں متعارف ہے۔ آزادی کے بعد کے اِن 77سال میں پوری دنیا کویہ سمجھانے میں ہندوستان کامیاب رہاہے کہ جمہوری فیصلے ہمارے ملک کی بنیاد ہیں۔ حالانکہ جو حکومتیں ان 77سال میں برسراقتدار آتی رہی ہیں ، انھوں نے صدفیصدتائید تو چھوڑئیے 80%عوامی تائید بھی حاصل نہیں کی۔ 1952 سے لے کر 2019تک کے عام پارلیمانی انتخابات میں یہی کچھ دیکھنے کوملا۔ ملک کی موجودہ این ڈی اے قیادت والی بھاجپاحکومت نے بھی کوئی بڑا فیصد حاصل نہیں کیا۔کہاجاتاہے کہ بھاجپا کے حق میں کی گئی ووٹنگ کا فیصد 32سے کچھ ہی زائد ہے ۔
محمدیوسف رحیم بیدری نے اس بات پرتشویش کااظہار کیاہے کہ ووٹ ڈالنے کو لے کر ملی تنظیمیں بڑی فکرمندی سے آگے آئی ہیں۔کوئی نہ کوئی بیان چلاآرہاہے۔ کبھی کہاجارہاہے کہ ووٹ کانہ دیناشرعاًگناہ ہے اور کبھی کہاجارہاہے کہ ووٹ نہ ڈالنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور پوچھے گا۔ ان سب باتوں کی منطق اپنی جگہ لیکن حقائق یہی ہیں کہ ہندوستان کاآئین اس بات کی تلقین ضرور کرتاہے کہ ووٹ دے کر اچھے فرد کواپنانمائندہ منتخب کیاجائے لیکن ووٹ کو لازم قرار نہیں دیتا۔ ورنہ ہر پانچ سال بعد ہونے والے انتخابات میںصد فیصد ووٹنگ ہوتی۔ کہاجاتاہے کہ  70%سے زائد کبھی ووٹنگ ملک میں نہیں ہوئی ہے۔ 30%لوگوںنے کسی نہ کسی وجہ سے ووٹ نہیں دیا۔ اس لئے’’ ووٹ نہ دینا گناہ ہے ‘‘ والی بات خودبخود ساقط ہوجاتی ہے۔ اب رہ گئی یہ بات کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ پوچھے گاکہ تم نے ووٹ کیوں نہیں دیا؟ تواس بات کا تعلق قرآن وحدیث سے نہ ہوکر اجتہاد سے ہے۔ اللہ کے رسول  ﷺ کے زمانے میں اورخلفائے راشدین کے دور میں ووٹنگ سسٹم نہیں تھا ، وہاں بیعت کرنا ہوتاتھا۔ جمہوری نظام نے ووٹ کرنے کو ضروری قراردیا۔ اب اگرکوئی ووٹ نہیں کرتاہے تو اس کی بھی اس کو آزادی خود ہمارے جمہوری نظام نے دے رکھی ہے اور اس عمل کووہ فرد کی مرضی پر چھوڑ دیتاہے۔ جب جمہوری سسٹم فرد کی آزادی کواس قدر اہمیت دیتاہے تو اس کو اللہ تعالیٰ کی پوچھ سے جوڑ دینا کہاں تک درست ہے ؟
کلیان کرناٹک اردو جرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر کے صدرجناب یوسف رحیم بیدری نے یہ بات متعلقہ دعویدار افراد سے دریافت کی ہے کہ قرآن وسنت کے علمبرداروں کواللہ تعالیٰ نے دین ِ اسلام کوقائم کرنے کیلئے کہاتھا، اگر وہ دنیا میں دینِ اسلام قائم نہیں کرتے ہیں ، اس کے لئے کوشش نہیں کرتے،اس کا منصوبہ نہیں بناتے ہیں تو وہ ضرور خدا کے ہاں پوچھے جائیں گے کہ تم نے دنیا میںدین ِ اسلام کو قائم کیوں نہیں کیا؟ حقیقی اور واقعی گناہ یہ ہے کہ اسلام کاعلم سرنگوں ہواور ہم جمہوریت ، جمہوریت کا کھیل کھیلتے رہیں۔اس کے دوام کیلئے وقت اور ذہانت ،لگاکر منصوبے بناتے رہیں۔
صدر کلیان کرناٹک اردوجرنلسٹ اسوسی ایشن بیدر مسٹر بیدری نے یقین سے کہاہے کہ 2014؁ء کے بعدبھارت آزاد ہواکہنا جس طرح غلط ہے ۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ 2024؁ ء کے بعد ہندوستان سے مسلمانوں کابوریہ بستر گول ہوجائے گا۔انتخابات نہیں ہوں گے یایہ ۔۔۔۔وہ۔۔۔۔ ہوجائے گا۔ مسلمان تو قرآن مجید سے روشنی حاصل کرتاہے ۔ اس کو پیدائش سے پہلے ہی روحوں کے مرحلہ میں رہنے تک اسلامی نظام کاعلمبردار بنایاگیا ۔ اوردنیامیں یہ سکھایا اورسمجھایاگیاہے کہ تمہیں ابھی اسلام کی راہ میں آزمایا نہیں گیا۔تمہارے جان ومال کانقصان نہیں ہوا۔ ابھی تم گھروں سے نکالے نہیں گئے۔کیا تم ٹھنڈے ٹھنڈے جنت میں جاناچاہتے ہو؟ بھائیو،ملک عزیز بھارت کے حالات نازک ضرور ہیں لیکن اس کی باگ ڈور کسی انسان یا ملک کی کسی بڑی پارٹی کے ہاتھ میں ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ ان نازک ترین حالات میں بھی رب کریم ہی سارے معاملات کا رب اورنگران ہے ، مالک ہے۔ وہی کچھ حالات کو بدل سکتاہے۔ اس کے ایک اشارے پر خود کو بدل دینے کیلئے حالات بھی تیار کھڑے ہیں۔ اورجوپارٹی برسراقتدار ہے اس رب کے ایک اشارے پر نیچے چلی آئے گی۔ لیکن ہماراکام یہ ہے کہ ہم افراط وتفریط سے بچیں ، اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبوں کوسمجھتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کی سعی کریں۔ ہمارا سوچنا، ہماراجینا، ہمارامرنا اسلامی دائرہ میںہو۔ اگر اجتہادبھی ہوتو اس میں بھی افراط وتفریط سے بچیں، قرآن وسیرت رسول ﷺ کے قریب رہیں۔ اس طرح اِن شاء اللہ ہم دنیا اور آخرت میں سرخرو ہوں گے۔اس بات پر ہماراایمان ہے کہ مسلمان تاقیامت زندہ وپائندہ رہیں گے۔ دینِ اسلام کچی جھونپڑی سے لے کرپکے مکانات تک جب تک نہیںپہنچے گاتب تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔اس لئے آخری موقع ، آخری انتخابات جیسی باتوں سے خودبھی پرہیز کریں ۔دوسروں کوبھی اس خوف سے نکالیں۔اسلامی دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے اخلاق کے ساتھ ہندوستان کے دیگر طبقات تک اسلام پیش کرنے کی بھرپورسعی کریں گے تو عین ممکن ہے کہ ہندوستان کی باگ ڈور مسلمانوں (نومسلم ہی سہی)کے ہاتھ میں آجائے کیوں کہ    ؎
 میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہواجہاں سے
میراوطن وہی ہے میراوطن ہی ہے
جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے سال 2024 کے انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ووٹ دینے والے رائے دہندگان (ووٹرس) کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے اپیل کی ہے کہ بغیر کسی لالچ کے ایسے شخص کوووٹ دیں جو ملک ، اور باشندگانِ ملک کے تمام طبقات کی بھلائی کا منصوبہ رکھتاہو۔ ملک اور باشندگان ملک کی ہمہ جہت ترقی اس کے پیش نظر ہو۔اسی طرح امیدوارں کوچاہیے کہ وہ فرقہ پرستی ، تعصب اورتنگ نظری سے کام نہ لیتے ہوئے سبھی طبقات کوساتھ لے کرچلیں۔ میری نیک تمنائیں ان امیدواروں کے ساتھ ہیں جو ملک کوترقی کی طرف لے جاناچاہتے ہیں۔ سبھی انسانوں کا ہردم خیال رکھنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے