🖋️ مقیت احمد قاسمی گونڈوی
اس وقت گرمی کی شدت سے ہر شخص بلکہ ہر جاندار پریشان ہے، دھوپ کی تپش، پسینے کا خروج، اور پیاس کا بے پناہ احساس، مختلف قسم کی بیماریوں سے پریشان لوگ خدا کی رحمت کے انتظار میں ہیں۔
موسم گرما میں ہمارے لیے کیا فائدہ ہے اور کیا نقصان ہے؟ اور گرمی اس قدر کہاں سے ہوتی ہے ؟ اور گرمی کی شدت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے بچنا چاہیے؟ اس سلسلے میں بھی اسلامی تعلیمات موجود ہیں ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اللہ کی قدرت اور اس کی خلقت میں غور کریں اور عبرت پکڑیں۔۔۔۔
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ ،
بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم تبدیلی میں عقلمندوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔
دن رات کے اختلاف کو بیان کرتے ہوئے اللہ عزوجل نے فرمایا :
یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِؕ-وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ،
رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔
چنانچہ موسم گرما میں ۲۱ / جون کو سب سے بڑا دن اور سب سے چھوٹی رات ہوتی ہے، اور موسم سرما میں ۲۲/ دسمبر کو سب سے لمبی رات اور سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے۔
گرمی کیوں آتی ہے؟
گرمی کیوں آتی ہے؟ اس سلسلہ میں ایک روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا جہنم نے اپنے رب سے شکایت کرتے ہوئے کہا : اے میرے رب ؛ میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا تو اللہ تعالی نے سال میں اس کے لئے دو سانس لینے کی اجازت دے دی ، ایک سانس سردی کے موسم میں اور دوسری سانس گرمی کے موسم میں ، چنانچہ یہی وجہ ہے جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو اور یہی وجہ ہے جس کی وجہ سے تم شدید سردی محسوس کرتے ہو ۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم )
موسم گرما کے فوائد
موسم گرما کے فائدے میں سے فصل اور پیڑ پودوں کا تیار ہونا ہے، دھوپ سے جہاں پسینہ نکلتا ہے وہیں جسم کو وٹامن ڈی کی توانائی بھی ملتی ہے ، زہریلے جراثیم کا خاتمہ ہو جاتا ہے، ذائقہ دار پھل جیسے کہ آم تربوز ، خربوزہ، لیچی، اسٹرا بیری ، کھیرا ، ککڑی اور قسم قسم کی ترکاریاں کھانے کو ملتی ہیں۔
نقصانات
اور اس کے نقصانات میں سے تیز دھوپ میں نکلنا اور کچھ کام کرنا انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے ، پانی کی قلت سے کئی بیماریاں ہو جاتی ہیں جیسے کہ پیٹ کی بیماری، ٹائٹفائڈ بخار، سر درد وغیرہ اسی لئے دھوپ سے بچنا چاہیے ۔ ایک روایت میں ہے کہ قیس بن ابی حازم کے والد کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ میں بیٹھا ہوا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سائے میں آجاؤ !
( السلسلة الصحيحة ٣٢٤ )
سایہ دار درخت کی حفاظت
اسی لئے سایہ دار درخت کے نیچے بول و براز کرنے سے منع کیا گیا ہے، ایک روایت میں ہے لعنت والے تین کاموں سے بچو (۱) گزرگاہ یعنی راستے میں گندگی کرنا (۲) سایہ دار درخت کے نیچے گندگی کرنا (۳) گھاٹ یعنی پانی میں گندگی کرنا۔ ( مسلم )
سانپ بچھو سے حفاظت
شدتِ گرمی سے چونکہ کیڑے مکوڑے خاص طور سے سانپ بچھو بھی بکثرت باہر نکلتے ہیں اس لئے ہمیں صفائی ستھرائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے۔ تاکہ موذی جانوروں سے حفاظت ہو سکے ۔
بجلی چوری سے بچیں
گرمی سے راحت پانے کے لئے بجلی چوری کرکے اے سی وغیرہ چلانا اس سے بجلی کا نظام خراب ہو جاتا ہے جس سے دوسرے لوگوں کو بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے کافی پریشانی ہوتی ہے اس لئے ہمیں غیر قانونی کام سے بچنا چاہیے، ہماری ذات سے اگر کسی کو کوئی فائدہ نہ ہو تو نقصان بھی نہیں ہونا چاہیے۔
پانی پلانے کی فضیلت
اس موسمِ گرما میں کچھ ایسے کام ہیں جو اخلاص کے ساتھ کئے جائیں تو اس کا اجر بہت زیادہ ہے جیسے پانی پلانا ، پانی پلانے میں آج غیروں کو سبقت کرتے دیکھا جاتا ہے جبکہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی اس عظیم عمل سے پیچھے ہیں۔ پانی پلانا باعث ِمغفرت بھی ہے اور باعث ِ شفا بھی ہے۔
بروایت ِبخاری ایک بدکار عورت کی مغفرت ہو گئی اس وجہ سے کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو پانی پلا کر اس کی جان بچا لی۔
جب جانور کو پانی پلانے سے مغفرت ہو جاتی ہے تو انسانوں کوپانی پلانے سے کتنی فضیلت حاصل ہوگی ۔
حضرت عبداللہ بن مبارک سے ایک صاحب نے اپنے گھٹنے کی تکلیف کا علاج پوچھا ، جب کہ وہ ہر قسم کا علاج کرا کے تھک چکے تھے ، تو آپ نے فرمایا : لوگوں کو پانی پلاؤ اللہ اس کام کی برکت سے تمہاری تکلیف دور کر دیں گے، چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کی تکلیف دور ہو گئی۔
پرندوں اور جانوروں کو پانی پلانا
اس شدت کی گرمی میں انسانوں کے ساتھ ساتھ جانور پرندے بھی پیاسے ہوتے ہیں جبکہ بعض تو شدت ِ پیاس سے دم توڑ دیتے ہیں ، ہمیں جانوروں اور پرندوں کو بھی پانی پلانا چاہیے ، ایک روایت میں ہے کہ جس نے کنواں کھودا یا نہر جاری کیا اور اس سے ہر طرح کے جانداروں نے پانی پیا تو مرنے کے بعد اس کا اجر اس کو ملے گا ۔
تربوز اللہ کی عظیم نعمت
اللہ عزوجل کا احسان ہے کہ اس گرمی سے راحت پانے کے لئے تربوز جیسا پھل ہمیں عطاء کیا تربوز میں ۹۵/ فیصد پانی ہوتا ہے جو ہمارے جسم میں پانی کی کمی کو دور کرتا ہے، اور بہت سی بیماریوں کو ختم کرتا ہے، اس لئے ہمیں تربوز کا خوب استعمال کرنا چاہیے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں : کَانَ رَسُوْلُ اللہ صلَّی اللہ علیہ وسلَّم یَاکُلُ البِطِّیْخَ بِالرُّطَبِ یعنی اللہ کے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تربوز کو پکی ہوئی کھجوروں کے ساتھ ملا کر تناول فرما رہے تھے ، فَیَقُوْلُ : نَکْسِرُ حَرَّ ھٰذَا بِبَرْدِ ھٰذَا ، وَبَرْدَ ھٰذَا بِحَرِّ ھَذَا اور ارشاد فرما رہے تھے کہ ہم کھجوروں کی گرمی کو تربوز کی ٹھنڈک سے اور تربوز کی ٹھنڈک کو کھجوروں کی گرمی سے توڑتے ہیں۔
جہنم سے پناہ مانگیں
ہر وقت یہ کہنا بہت گرمی ہے بہت گرمی ہے یہ کہنے سے گرمی کم نہیں ہوگی بلکہ ہمیں جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا چاہیے ایک روایت میں ہے کہ جو بندہ تین بار یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ہمیں جنت عطا فرما تو جنت خود اللہ سے سفارش کرتی ہے کہ فلاں بندے کو جنت میں داخل کر دے اسی طرح جہنم بھی پناہ مانگنے والے بندے کے تعلق سے سفارش کرتی ہے اور اللہ عزوجل سفارش کو قبول فرماتے ہیں۔
بارش کی دعاء
بارش کی ضرورت ہو تو بارش کی دعا بھی کرنی چاہیے اور قحط سالی کا ماحول ہو تو نماز استسقا جو خالص اپنے گناہوں سے معافی مانگنے والی نماز ہے اجتماعی طور پر پڑھنی چاہیے اور میدان میں نکل کر دعائیں کرنی چاہیے۔
موسم گرما قابل نصیحت
اسی طرح گرمی کی شدت دیکھتے ہوئے عبرت بھی حاصل کرنی چاہیے کہ سورج جب اتنا اوپر ہے پھر بھی گرمی ناقابل برداشت ہے تو جب میدان محشر میں سورج نہایت قریب ہوگا اور لوگ اپنے اعمال کے بقدر پسینے میں ڈوبے ہوں گے تو سات قسم کے لوگوں کو اللہ عزوجل اپنے عرش کا سایہ عطا فرمائیں گے وہ سات خوش نصیب اللہ کے وی آئی پی بندے یہ ہیں ۔۔۔۔۔
انصاف کرنے والا حاکم‘ وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں جوان ہوا ہو‘ وہ شخص جس کا دل ہر وقت مسجد میں لگارہے‘ دو ایسے شخص جو اللہ کے لیے محبت رکھتے ہیں‘ اسی پر وہ جمع ہوئے اور اسی پر جدا ہوئے‘ ایسا شخص جسے کسی خوبصورت اور عزت دار عورت نے بلایا لیکن اس نے یہ جواب دیا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں‘ وہ انسان جو صدقہ کرے اور اسے اس درجہ چھپائے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو کہ داہنے ہاتھ نے کیا خرچ کیا اور وہ شخص جو اللہ کو تنہائی میں یاد کرے اور اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بہنے لگ جائیں۔ (بخاری)
ان ساتوں اعمال میں سے کوئی عمل ضرورکرنا چاہیے تاکہ عرش کا سایہ مل سکے اور محشر کی گرمی سے نجات حاصل ہو ۔
خلاصۂ تحریر:
الحاصل آج ہمیں موسم ِگرما سے جہاں عبرت حاصل کرنی چاہیے اور اللہ عزوجل سے رجوع ہونا چاہیے ۔الٹے ہم نماز جیسی اہم عبادت کو بکثرت چھوڑ رہے ہیں ، اسی طرح دوسرے خیر کے کاموں سے کوسوں دور ہوتے جارہے ہیں، جبکہ جہنم کی تپش دنیاوی تپش کے مقابلے میں ۷۰/ گنا زیادہ ہے ، اس لئے ہمیں جہنم کی تپش سے خوف کھانا چاہیے اور خوب خوب اللہ عزوجل سے دعائیں کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا اور آخرت کی مشکلات سے بچائے اور گرمی کی شدت سے راحت عطاء فرمائے ۔ آمین
بقلم : مقیت احمد قاسمی گونڈوی
صدرالمدرسین مدرسہ ناصر العلوم وامام وخطیب مسجد ناصر العلوم صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی
29/05/2024
