محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک۔ 
۱۔ اجتماعیت___!
اسکی زندگی میں کئی اہم سوال آئے، اور ان سوالات کے جوابات بھی مل گئے. لیکن فی الوقت وہ اس مشکل سوال کا جواب چاہتا تھا کہ اجتماعیت میں کیسے جیا جائے؟ وہ اجتماعیت جہاں سب مل کر ایک ہدف کو پورا کرنے لگ جائیں؟
جواب تھا، پوری طرح سرینڈر ہواجائے(مکمل یکسوئی). کسی دوسرے کا جواب ہوتا”اپنے اجتماعی علم کے مطابق زندگی گزاریں اور ہدف کو پورا کریں ”(زندگی اور ہدف دوخانوں کے تحت گزرے)…. کہیں سے فتویٰ چلا آتا کہ اجتماعیت ایک نعمت ہے، اس نعمت کی قدر اس طرح کریں کہ آنے والی نسل اسکا فائدہ محسوس کرے.(آئندہ کی تعمیر کیلئے ہر ممکن آزادی)
جتنے لوگ تھے، اتنی باتیں تھیں. وہ محسوس کررہا تھاکہ اجتماعیت کا اغوا ہوچکا ہے.وہ اور پوری امت تنہا اور بے یارومددگار کھڑی ہے کیونکہ سبھی کے پاس اجتماعیت کی ہئیت، اس کا علم اور تقاضے الگ الگ ہیں اور کارواں ہیکہ سبھی بدگمانیوں کے ساتھ جانے کون سی منزل کی طرف گھسٹتا چلا جا رہا ہے
۲۔ وہ صراط مستقیم والے
انھیں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا تھا. ملک کے حکمران اور ان کی پالیسیاں غریبوں اور مزدوروں کے خلاف تھیں. یہ پڑھے لکھے ”قلم بردار” لوگ حکومت اور اسکی پالیسیوں سے خفا تھے. انھوں نے اپنی خفگی کا اظہار سرعام کیا. اپنے سیمیناروں میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ریزولیشن پاس کئے. اتنا ہی نہیں سڑکوں پر اتر آئے. انکی ”قلم باز جدوجہد” کو یونیورسٹیوں میں صد فیصد سراہا گیا
کچھ وہ تھے، جو اپنے قلم اٹھائے  دعویٰ کر رہے تھے کہ ساری پریشانیوں کا حل ہمارے پاس ہے. ہم دنیا کو ”صراط مستقیم” دیں گے
پون صدی بعد صورتحال یہ ہے کہ غریبوں اور مزدوروں کی بات کرنے والے بہت کم زمین پر ہیں لیکن نصابی کتابوں میں ان کے 50%سے زائد قلمکار مل جاتے ہیں جو اپنے افکار کو ادب میں ڈھال چکے ہیں گویا انھوں نے اپنا کام پورا کرلیا ہے۔
دوسری طرف ”صراطِ مستقیم” والے زمین پر تو ہیں، لیکن ان کا کام کہیں نظر نہیں آتا ہے، لہٰذایونیورسٹیز اور نصابوں میں بھی وہ نہیں ملتے، یہ غالباً نایاب لوگ ہیں، کہا جارہا ہے کہ انھوں نے اپنے اپنے قلم کو زحمت دینا ترک کردیا ہے الا ماشاء اللہ
۳۔ دنیا مخالف
”وہ دنیا دیکھنا نہیں چاہتا ہے اس لیے بازاروں سے ایسے گزرتا ہے جیسے اس کو ان بازاروں سے کچھ لینا دینا نہ ہو”
” مجھے لگتا ہے کوئی بہروپیا ہوگا جو اس طرح کا سوانگ رچائے ہوئے ہے”
” جوبھی ہو، اس کی دنیا سے بے نیازی اس کو بڑا بناتی ہے”
” متفق…..!!
۴۔ تائیدی 
وہ بڑی مسرت سے کہہ رہاتھا.” میری بیٹی، میرا کافی خیال رکھتی ہے”ٹرین تیز رفتاری سے منزل کی جانب رواں دواں تھی. اور سننے والا شخص سوچ رہا تھا ”کاش میری بیٹی نے جائیداد کے لئے میرے خلاف مقدمہ نہ کیا ہوتا تو آج میں بھی اس شخص کی بات کا تائیدی ہوتا”
۵ ۔ پہاڑی بوڑھا
اس نے اطلاع دی ”میں پہاڑ کے اوپر پہنچ چکا ہوں اور چل پھر رہا ہوں”
اس کو سمجھا دیا گیا کہ ”تم صرف اس لئے ایسا کرپا رہے ہو،  کیونکہ پہاڑی بوڑھا پہاڑ کے نیچے آگیا ہے،سمجھے نا”
۶۔ تیسرا گڑھا
وہ ایک اعلی تجزیہ نگار ہیں. ان کو لگ رہا ہے کہ ملک عزیز تیسرے گڑھے کی طرف تیزی سے جارہا ہے۔ساجد نے ان سے کہا، سر، میں سمجھتا ہوں ملک نہیں بلکہ سیاسی پارٹیاں تیسری دفعہ گڑھے میں دھنس رہی ہیں، تباہی ان کامقدر ہے
انھوں نے کچھ کہنا چاہا، پھر خاموش ہو گئے.
۷۔ مرچکے درخت
’’درخت لگائیں، آلودگی سے ملک کو بچائیں. نعرہ دیاگیا ہے.آپ تمام ہمارا ساتھ دیں”آر ایف او نے آخر میں اپیل کی۔ ہم 9/صحافی اس پریس کانفرنس میں شریک تھے. میں نے پوچھا ”اس سال کتنے درخت لگانے کانشانہ مقرر کیا گیا ہے؟”آرایف او نے بتایا 2لاکھ پودے لگائے جائیں گے.
ہمارے سینئر ساتھی ذرا ہٹ کر سوال کرنے میں مشہور ہیں ، انھوںنے پوچھا” یہ بتائیے کہ ہرسال کتنے درخت محکمہ کی جانب سے کاٹے جاتے ہیں؟ وجہ کوئی بھی ہوسکتی ہے؟ کتنے درخت کاٹ کر لوگ باگ لے جاتے ہیں؟ کتنے درخت بادوباراں کے سبب زمین سے اُکھڑجاتے ہیں؟2/لاکھ میں سے کتنے پودے پیدا ہی نہیں ہوتے؟‘‘
ان سوالات کا آرایف او کے پاس کوئی اطمینان بخش جواب نہیں تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے