🖋️از : محمد عظیم فیض آبادی 

جـامعہ محمـود للبحـوث والدراسـات الاسـلامـیہ دیـوبنـد

ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ ــــــ 

 

آج محرم الحرام کی پہلی تاریخ ہے محرم الحرام ہی سے نئے اسلامی سال کا آغاز ہوتا ہے انگریزی نئے سال کی طرح ہی کثرت سے لوگ اب اسلامی نئے سال کے آغاز پر بھی ایک دوسرے کو مبارک باددیتے ہیں خاص طور پر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں نے تو اسے ایک رسم بنالیا ہے۔

اگر محض دوسروں کی نقالی اور رسمی خانہ پوری مقصود نہ ہو بلکہ لوگوں کو اسلامی ماہ وسال کی اہمیت کا احساس دلانا اوراس کی خصوصیات سے آگاہ کرنے کا ارادہ ہو اور یہ دعا دینا مقصود ہو کہ یہ آنے والا نیا سال خیر وبرکت سے گذرے اور یہ سال آزمائشوں بلاؤں ، مصیبتوں سے حفاظت کا ذریعہ ثابت ہو تو اس کی مبارک بادی میں کوئی حرج بھی نہیں ہے مگر یہ یاد رہے۔

زندگی میں خوشی ومسرت ، فرحت وشادمانی کا اظہار، مبارکبادی کا تبادلہ کسی نعمت کے حصول یا کامیابی وکامرانی ، ترقی وعروج کے موقع پر ہوتا ہے اسی طرح رنج وغم ، حسرت وافسوس کا اظہار کسی تکلیف و پریشانی کے وقت یا نعمت کے زوال اور تنزلی وپستی کا سامنا کرنےکی صورت میں ہوتا ہے۔

نئے سال کے اس موقع پر جشن وجلوس، خوشیوں کے شادیانے اور ہفتوں تک چلے والے نئے سال کی مبارک بادی کے سلسلے سے پہلے دینی واسلامی نقطہء نظر سے ایک بار یہ جاننے کی کوشش ضرور کریں اور غور کریں کہ ہمارا طرز عمل درست ہے یا نہیں اس سلسلے میں کیا ہونا چاہئے، گزرے ہوئے لیل ونہار اور بیتے ہوئے ماہ وسال نے ہماری حیات مستعار کا پورے ایک سال کم کردیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے، اسی لئے ایک ایک لمحے کی قدر اور اس کے کارآمد بنانے کی تگ و دو اس کے نفع بخش بنانے کی تدابیر کرنا ترقی یافتہ قوموں کی علامت و نشانی رہی ہے اور اسکے ضائع ہوجانے پر افسوس اور اس کو ضیاع سے بچانے کی ہر ممکن کوشش ہمیشہ عقلمندوں کا شیوہ اور زندگی کے لمحات کو مفید سے مفید تر بنانےکا حوصلہ وجزبہ رکھنے والوں کا وطیرہ اورزندگی میں کچھ کر گذرنے کا جنون رکھنے والوں کا طرہء امتیاز رہا ہے۔

غور فرمائیں کہ انسانی زندگی کا سب سےقیمتی سرمایہ ، رب ذوالجلال کی بخشی ہوئی سب سے نایاب دولت ونعمت "وقت ” جو شب وروز کے مجموعہ ” ماہ وسال ” کی شکل میں گذر جائے وہ خوشی ومسرت کے اظہار کا موقع کیسے ہوجائے گا…؟

بلکہ ایک طرح سے یہ ایک نعمت کے زوال ، وقت جیسی پونجی کے ختم ہوجانے ، اور عمر کے ایک بیش قیمتی سال کے کم ہوجانے پر حسرت وافسوس کا وقت تو ہوسکتا ہے مگر خوشی ومسرت کے اظہار کے لئے جشن وجلوس کا نہیں ـ

ہاں سال کے آغاز میں اپنے منصوبوں کی تکمیل اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے ، خیر کےتعلق سے جن امور کی انجام دہی اور بہت کچھ کرگذرنے کا جو عزم مصمم کیا گیا تھا اگر وہ خیر وخوبی کے ساتھ پائے تکمیل کو پہچ جائے تو اس پر شکر بجالانے اور آئندہ اس سے بہتر طریقے سے انجام دینےکے لئے رب کریم سے توفیق طلب کرنے کا موقع ضرور ہو سکتا ہے اور اس بات کے محاسبہ کرنے کا وقت ہے کہ جن برائیوں بد اعمالیوں سے بچنے اور جن خامیوں کوتاہیوں کو دور کرنے کا عھد و پیمان باندھا تھا اگر اس میں کچھ کمی کوتاہی رہ گئی ہو تو اللہ کے حضور توبہ واستغفار کر کاہلی سستی دور کرکے آنے والے شب وروز ، ماہ وسال کو پوری بیداری و تندہی کے ساتھ گذارنے کی فکر و تدبیر اور اس کے لئے کوئی لائحہ عمل طے کرے اور وقتا فوقتا اپنا اپنے اعمال و افعال وکردار واخلاق کا محاسبہ کرتا رہے لایعنی فضولیات سے پرہیز کرکے بےجا جشن و جلوس، اور غیروں کے طرز زندگی سے اجتناب کرےاور ہر وقت اپنی ذمہ داریوں کی حساب دہی کا احساس بیدار رکھے یہی انسان کی کامیابی اور اس کی ترقی کا راز ہے اور یہی نئے ماہ و سال کا حقیقی پیغام ہے۔

2 thoughts on “سالِ نو جشن کا نہیں محاسبے کا وقت ہے”
  1. اسلام علیکم ورحمتہ اللہْ۔۔۔اسلام امن کا پیغام دیتا ھے ہر مہینے میں مگر افسوس آج مسلمان کا بہت بڑا تبکا جلسے جلوس اور غیر اسلامی رسم و رواج کو اپنا کر اسلام کے چہرے کو مسخ کر رھے ھیں محرم سال کا پہلا مہینہ ھے امام حسین رضی اللہ کو اسی مہینے نماز کی حالت میں شہید کیا گیا تھا۔۔مگر ھم نماز چھوڑ کر جلوس تعازیعہ نکل کر امام حسین کی شہادت مزاق اڑا رھے ھیں خدا را ان گناھوں سے ھم سب مسلمانوں کو توبہ کرنا چاھئے۔۔اور اپنا وقت نماز اور ذکر میں شامل رھنا چاھئے جس عمل سے اللہ تعالی خوش ھوں ہم سبھوں کو وھی عمل کرنا چاھئے۔۔تاکہ غیر قوم بھی اس عمل کو دیکھ کر متاشر ھوں اور اسلام اور مسلمانوں کا احترام انکے دل میں اللہ پاک ڈال دیں۔۔آمین

    1. وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ
      بالکل محترم! آپ کا کہنا بجا ہے۔ ہم مکمل طور پر آپ کے بات کی حمایت کرتے ہیں اور اسی پر ہمارا ایمان و یقین بھی ہے۔ جہاں تک کسی خبر یا مضمون کے شائع ہونے کی بات ہے تو اس سلسلے میں یہ کہنا ہے کہ مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ باقی آپ جانتے ہی ہیں کہ اخبار ہونے کی وجہ سے ہر طبقے کی نمائندگی ہوتی ہے تاکہ ہر ایک کو خبر رہے کہ دنیا میں کس کس فکر کے لوگ موجود ہیں۔
      والسلام
      ایڈیٹر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے