ڈاکٹر شارب مورانوی بارہ بنکی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دریائے نیل کے قریب ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا لڑکا اپنے 13 بہن بھائیوں میں سے ایک تھا۔ اسکے   والد مصری تھے جبکہ اس کی والدہ سوڈانی۔ انور  سادات نے قاہرہ کے رائل ملٹری اکیڈمی سے گریجویشن پاس کیا اور وہیں ملٹری کے سگنل کور سے فوج کی نوکری میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیارکی، فوج کی نوکری میں آتے ہی انھیں سوڈان میں تعیناتی ملی وہیں انکی ملاقات ایک ہینڈسم جوان سے ہوئی جسکی باتیں اتنی دل چسپ ہوتی تھیں کہ اُس مردِ مومن سے بار بار مِلنے کو دل بےچین رہتا اسکا نام جمال عبدالناصر تھا اِن دونوں کی ملاقاتیں دوستی میں تبدیل ہو گئیں یہ دونوں ہی برطانوی حکومت سے بدظن تھے اور غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہونا چاھتے تھے اِس لئے اِن دونوں کی دوستی کافی پروان چڑھی کیونکہ دونوں کا ہدف ایک ہی تھا انکے پہاڑ جیسے جذبے کے سامنے ہر چیز چھوٹی نظر آتی انکے سامنے کسی کا بھی ٹکنا آسان تو بالکل نہ تھا انکے حوصلے آسمانوں سے اونچے درجے پر فائز تھے اِن دونوں نے گپچپ طریقے سے ایک تنظیم کو تشکیل کیا جسکا نام حركة الضباط الاحرار رکھا، اس تنظیم میں برطانیہ اور شاہ مخالف لوگوں کو شامل کیا جانے لگا ایک وقت وہ آ گیا جب اِس تنظیم کو پوری دنیا میں جانا جانے لگا اسی بیچ فوجی بغاوت نے مُلک کے حالات بد سے بد تر کر دئے اِس بغاوت میں انور سادات کو ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کرنے کا ہدف ملا انہوں نے فوجی بغاوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا آور ریڈیو اسٹیشن پر قبضہ کرلیا اِس بغاوت کے نتیجے میں شاہ فاروق اول کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ شاہ فاروق اول کے اقتدار سے الگ ہوتے ہی انور سادات کا قد بُلند ھو گیا جِس وجہ سے انور سادات کو مصری حکومت میں کئی الگ الگ عہدے سنبھالنے کا شرف حاصل ہوا جب جمال عبد الناصر صدر نامزد ہوئے تو انور سادات کو اُنکا نائب مقرر کیا گیا۔ کُچھ عرصے بعد صدر جمال عبدالناصر کی حرکتِ قلب بند ہو جانے کے باعث ہلاکت ہوگئی اور مصر میں صدر کا عہدہ خالی ہو گیا تو اُنکے جانشین کے طور پر انور سادات نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔لیکِن آمریکا اور اسرائیل انور سادات کو مصر کا صدر منتخب ہونے پر خوش نہیں تھے اسرائیل کو تو یہ پھوٹی آنکھ نہیں بھاتے تھے اِس لئے اسرائیل نے انکے قتل کا منصوبہ بنانا شروع کر دیا اس میں امریکا کی جانب سے بھی رضامندی کا اظہار ہو گیا پھر کیا تھا یورپ کے دوسرے ممالک مصر پر اسرائیل سے مذاکرات کے لئے دباؤ بنانا شروع کر دیئے ایک وقت وہ بھی آگیا جب آمریکا اور اُس کے حامیوں کے دباؤ میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ ڈیل کر لی ڈیل مکمّل ہوتے ہی اور اُس پر دستخط ہوتے ہی گرگٹ نما ديشوں نے اپنا رنگ بدلنا شروع کر دیا۔ ایک وقت وہ بھی آگیا جب انور سادات سوئز نہر کا جشنِ فتح افتتاح کرنے جیسے ہی دائس پر پہونچے اُنہیں کے ایک فوجی نے گولیوں سے بھون دِیا جس سے وہیں اُنکی موت  واقع ہو گئی۔ عوام بہت صدمے میں تھی کیونکہ اس کے پہلے وزیر دفاع احمد بداوی کی پراسرار موت نے مصر کو ہلاکر رکھ دیا تھا عوام ابھی اِس صدمے سے ابھی اُبھر بھی نہیں پائی تھی کہ ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں 13 بڑے فوجی افسران بھی ہلاک ہوگئے اسکی ذمداری اسرائیل نے تو نہیں لی مگر اُس نے کبھی انکار بھی نہیں کیا۔

غور طلب یہ ہے کہ اُس کے وزیر مانتے ہیں کہ اسرائیل کی خُفیہ تنظیم موساد ایسا کرتی رہتی ہے۔پرنس محمد بن سلمان نے اسرائیل سے ڈیل کرنے سے قبل اپنے قتل کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ڈیل کے فوراً بعد کہیں اُنکا بھی قتل نہ کر دِیا جائے اِسی بات کو لیکر امریکی کانگریس سے اپنی حفاظت کو لیکر گوہار لگائی ہے ایسا لگتا ہےکہ پرنس محمد بن سلمان نے انور سادات سے سبق حاصل نہیں کیا ہے جسکی وجہ سے اب وہی ڈر اُنہیں بھی ستا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے