
محمد عبد اللہ جاوید
ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُؕ بَنٰىهَا
بھلا تمہارا پیداکرنا مشکل ہے یا آسمان کا ؟ اسی نے اس کو بنایا۔(سورہ النازعات:۲۷)
سوال: بظاہر مختصر سی آیت اپنے اندر کون سے عظیم ترین حقائق سموئے ہوئے ہے؟
جواب: سورہ النازعات کی اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس وسیع عریض آسمان کابنانا‘انسان کو پیدا کرنے اور اس کو دوبارہ تخلیق کرنے سے زیادہ بڑا کام ہے۔ اس مختصر سی آیت پر غور کریں تو بڑے غیر معمولی حقائق پر سے پردہ اٹھے گا۔
آسمان سے مراد صرف وہ نہیں جو تاحد نظر ہمارے سروں پر نظر آتا ہے‘بلکہ اس سے مراد نہایت ہی وسیع و عریض کائنات ہے۔ اس کائنات کے دو حصے ہیں ایک وہ جو دکھائی دیتا ہے اور ایک وہ جو دکھائی نہیں دیتا۔ کائنات کے دکھائی دینے والے حصے(observable universe) کا قطر 93 بلین نوری سال (یعنی 93ارب)ہے۔ نوری سال سے مراد وہ فاصلہ جو روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے جو تقریباً 9.46کھرب کیلو میٹر ہوتا ہے۔اگر آپ 2000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کریں تو ایک نوری سال کا فاصلہ طےکرنے کے لیے تقریباً 5,39,585 سال درکار ہوں گے۔اندازہ کریں کہ ایک نوری سال کا فاصلہ طے کرنےکے لئے لاکھوں سال درکا ر ہیں تو اس وسیع وعریض کائنات کے صرف دکھائی دینے والے حصہ ‘جس کا قطر 93 بلین نوری سال ہے‘کوطے کرنے کے لئےکتنے کروڑہا سال درکار ہوں گے‘شمار کرنا ناممکن ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ کہ دکھائی دینے والی کائنات کا اب تک انتہائی چھوٹا حصہ دریافت کیا جاچکا ہے جس میں حاصل شدہ معلومات کے مطابق حسب ذیل چیزیں پائی جاتیں ہیں:
اب تک کی دریافت کے مطابق ‘صرف دکھائی دینے والی کائنات (observable universe)میں ‘۲ ٹریلین (۲ کے بعد بارہ صفر)کہکشائیں ہیں‘اس میں سے ایک ہماری دودھیا کہکشاں( milky way galaxy) ہے جس میں اندازہ کےمطابق ایک سو کھرب ستارے موجود ہیں۔اس کے علاوہ ایک سیپٹلین (۱کے بعد ۲۴ صفر)ستارے ہیں۔دو سیکسٹلین(دو کے بعد ۲۱ صفر) سیارے ہیں۔کروڑوں کی تعداد میں شہاب ثاقب(asteroids) اور دم دار(comets) سیارے ہیں۔ سیاہ شگاف (black hole)کی تعداد تقریباً ایک کھرب بتائی جاتی ہے۔ یہ اندازہ کیا جاتا ہےکہ بعض سیاہ شگاف کا حجم سورج سے تقریباً ۴۰ لاکھ گنا زیادہ ہوتاہے۔(ماخذ: ناسا‘ یوروپین اسپیس ایجنسی ‘ایسٹرو فزکل جرنل اور رائل آسٹرونومیکل سوسائٹی کی ماہانہ خبریں)۔
ایسے حیرت انگیز اور انتہائی لامتناہی فاصلہ پر محیط آسمان کو اللہ نے تخلیق فرمایا جسکی جانب اس آیت میں توجہ دلائی گئی ہے۔یہاں آسمان میں اللہ تعالیٰ نے توازن برقرار رکھا ہے ۔اس میں موجود بڑے بڑے فلکی اجسام(celestial bodies) آپس میں ٹکراتے نہیں اور نہ ہی اپنے مدار کو چھوڑ کر کہیں اور تیرتےنظر آتے ہیں۔پھراسی آسمان میں موجود سورج کی بدولت‘ رات اور دن کا بار ی باری آنا ہوتا رہتا ہے۔آسمان اپنی تمام تر وسعتوں اور ہیبت ناکیوں کے باوجودانتہا درجہ کا نظم و ڈسپلن کا مظاہرہ کرررہا ہے۔یہ آسمان چونکہ انسان کی آنکھوں کے سامنے ہمیشہ موجود رہتا ہے‘ اسکو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے مَالِک یَوْمِ الدِّیْن ہونے پر سچے دل سے ایمان لانا انسانی فطرت کا عین تقاضہ ہے۔کیونکہ جو رب اس قدر حیرت انگیز مخلوقات پیدا کرسکتا ہے تو پھر انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اس کیلئے کونسا مشکل کام ہے؟
یعنی اللہ نے جو کیا ہے وہ سب کو نظر آتا ہے‘اب جو وہ آگے کرے گا ‘ بخوبی معلوم ہوجائے گا جب یہ دیکھا جائے کہ اس نے کیا کیا اورکیسے کیا ہے؟
تیرے تخیل سے فزوں تر نہیں یہ نظّارا
