اشتیاق احمد بن امیر اللہ

جامعہ ریاض العلوم دہلی

 

تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ ٱلْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ يُنفِقُونَ۔

اللہ تعالی فرماتا ہے: میرے جنتی بندے تو وہ ہیں، میرے متقی بندے تو وہ ہیں، میرے مومن بندے تو وہ ہیں، جب دنیا آرام سے اپنے بستروں پر سو رہی ہو وہ اپنے بستروں سے اٹھ کر اللہ کی بارگاہ میں نماز پڑھتے رہتے ہیں، وہ اللہ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ اللہ کے نبی تہجد کی نماز میں رو رہے ہیں، میرے بھائیو فجر کا ٹائم ہو جاتا ہے، حضرت بلال آتے ہیں،  آپ کو نماز کی اطلاع دینے کے لیے، کیا دیکھتے ہیں کہ اللہ کے نبی کی آنکھوں سے اس قدر آنسو بہے ہیں،  آپ اس قدر روئے ہیں کہ آپ کی داڑھی آنسوؤں سے بھیگی ہے، زمین آنسوؤں سے بھیگی ہے، آپ کے کپڑے آنسوؤں سے بھیگے ہیں، حضرت بلال کہتے ہیں: اے اللہ کے نبی آپ اتنا کیوں روتے ہیں؟ اللہ تعالی نے تو آپ کی اگلی پچھلی ساری خطائیں معاف کر دی ہیں، آپ تو بخشے بخشوائے ہیں، آپ اس قدر کیوں روتے ہیں؟ اللہ کے نبی فرماتے ہیں:

أَفلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا۔ اے بلال کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟

اگر اللہ نے مجھے یہ مقام دیا ہے، اگر اللہ نے مجھے اپنا آخری نبی بنایا ہے، کیا میں اپنے رب کا شکریہ بھی ادا نہ کروں؟ اس کے بعد آپ نے فرمایا: اے بلا ل آج کی رات میرے اوپر قرآن کی ایک آیت نازل ہوئی ہے جو انسان اس آیت کو سن کر کے اس پر غور نہ کرے وہ برباد ہو جائے، وہ ہلاک ہو جائے، نبی نے بددعا دے دی۔

وَيْلُ لِّمَنْ قَرَأْءَهاَ وَلَمْ يَتَدَبَّرَهَا۔ جو اس آیت کو سن کر کے اس کے اوپر غور نہ کرے اس کے لیے بربادی ہے۔

کون سی آیت تھی؟ سورہ آل عمران کی آیت، آیت نمبر 91 تھی۔ اللہ نے فرمایا:

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ۔ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق کے اندر، دن اور رات کی گردش کے اندر عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

اور عقلمند کون ہیں؟  اللہ نے فرمایا:

الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَاخَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔ اللہ نے کہا عقلمند وہ لوگ ہیں جو بیٹھ کر کے، کھڑے ہو کر کے اور لیٹ کر کے اللہ کو یاد کرتے ہیں۔

پتہ یہ چلا دنیا کہ ڈگری پانے والا اور دنیا میں بڑے سے بڑا عہدہ پانے والا وہ دانشور نہیں ہے وہ جینیس نہیں، وہ عقلمند نہیں ہے۔ عقلمند وہ ہےجو اپنے کریٹر کو پہچانتا ہو، جو اپنے رب کو پہچانتا ہو، جو اپنے رب کے علاوہ کسی کے آگے اپنے سر کو خم نا کرے۔

آج آپ دیکھ لیجیے بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ ہیں بڑے قابل لوگ ہیں وہ کسی جانور کی عبادت کر رہے ہیں، کسی نبی کو اپنا معبود کہہ رہے ہیں، شرمگاہ کی عبادت کر رہے ہیں۔ چوہے، کتے، بلی، بندر کی عبادت کر رہے ہیں۔ میرے بھائیو! انسان کی عقل جب ماری جائے، وہ شرک کرتا ہے، وہ کسی کے آگے بھی جھک جاتا ہے اور انسان جب دانشور ہوتا ہے وہ کریٹر کے آگے جھکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ عقلمند وہ لوگ ہیں جو صبح و شام اللہ کو یاد کرتے ہیں اور کائنات میں غور کرتے ہیں اور غور کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اے اللہ تو نے اس کائنات کو بیکار پیدا نہیں کیا۔

اللہ کے نبی تہجد میں رو رہے ہیں ہم اور آپ اپنے نبی کی سیرت کے اس واقعے سے عبرت حاصل کریں کہ کیا آج ہم اور آپ بھی تہجد کی نماز کا اہتمام کرتے ہیں؟ کیا ہمارا نوجوان کرتا ہے اور کیا تہجد کی نماز پڑھتے وقت ہماری آنکھوں سے بھی آنسو آتے ہیں؟ اللہ کا نبی تو تہجد کی نماز میں رو رہا ہے اور آگے بڑھیے ایک اور موقع یاد کیجیے جب اللہ کے نبی کی آنکھوں سے آنسوں آئے تھے،

بخاری کے الفاظ ہیں: اللہ کے پیارے نبی اپنے صحابی حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہتے ہیں کہ اے عبداللہ اِقَرَأْ عَلَيَّ الْقُرآن۔ اے عبداللہ تم مجھے قرآن پڑھ کر کے سناؤ۔ حضرت عبداللہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی میں آپ کو قرآن کیسے پڑھ کے سناؤں وَعَلَیْکَ اُنْزِلْ۔ یہ قرآن تو آپ ہی کے اوپر اتارا گیا ہے، اے اللہ کے نبی میں آپ کو قرآن کیسے پڑھ کے سناؤں؟ آپ تو خود صاحب قرآن ہیں، آپ کے اوپر تو قرآن اترا ہے، میں آپ کو قرآن کیسے سناؤں؟ آپ نے فرمایا: إني أحب أن أسمعه من غيري۔ اے عبداللہ آج میں کسی دوسرے کے منہ سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔

او لوگو ہمارا نبی تو قرآن کو سننے کی تمنا کر رہا ہے، ہمارے نبی تو قرآن سننے کی تمنا کر رہے ہیں جبکہ ہمارے نبی تو رات و دن قرآن پڑھنے والے ہیں۔

نوجوانو! رات و دن موبائل میں اور سوشل میڈیا میں ملوث رہنے والے میرے نوجوان ساتھیو! ذرا کبھی سوچو! تم نے آخری بار قرآن کو کب پڑھا تھا؟ تم نے تو کار کے اندر بھی گانے کو سیٹ کر کے رکھا ہے، تم نے تو موبائل کی کالر ٹیون میں بھی گانے سیٹ کر کے رکھا ہے، جب تم بائیک چلاتے ہو تب بھی اپنے کانوں میں ہیڈ فون لگا کر کے گانے سنا کرتے ہو، جب تم کار چلایا کرتے ہو تب بھی تم گانے سنا کرتے ہو، اللہ نہ کرے اگر ٹرین یا کار یا بائک کا ایکسیڈنٹ ہو جائے، حادثہ ہو جائے اور اسی حالت میں تمہاری موت ہو جائے تو اللہ کے نبی فرماتے ہیں:

يبعث كل عبد على ما مات عليه۔ بندہ جس حال میں مرے گا اسی حال میں کل قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔

میرے نوجوان ساتھیو! اگر ہو سکے تو اپنی مصروف زندگی میں سے کچھ ٹائم قرآن کو سننے سنانے کے لیے بھی نکال لیا کرو شاید اسی حالت میں ہماری موت آجائے تو کم سے کم اللہ کے ہاں ہم اللہ کی بارگاہ میں نجات تو پا سکتے ہیں کہ ہم قرآن پڑھتے ہوئے دنیا سے آئے تھے۔ اللہ کے نبی کہہ رہے ہیں: اے عبداللہ قرآن پڑھ کے سناؤں میں دوسرے کے منہ سے قرآن سننا چاہتا ہوں۔ آج ہمارے بہت سارے نوجوان بھائی کہتے ہیں ہمیں میوزک میں سکون ملتا ہے، ہم کوئی اپنی پسند کا میوزک سنتے ہیں تو ہمارے دل کو سکون ملتا ہے۔ میں کہتا ہوں وہ دل مردہ ہے، وہ دل مر چکا ہے جس دل کو میوزک سے سکون ملتا ہو، اس لیے کہ ایمان والے کے دل کو تو میوزک سے سکون نہیں ملتا ہے، ایمان والے کے دل کو اللہ کے ذکر سے سکون ملتا ہے۔

اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُ۔ میرے بندو تمہارے دلوں کو اللہ کے ذکر سے سکون ملتا ہے۔

آپ نے کہا عبداللہ میں تمہارے منہ سے قرآن سننا چاہتا ہوں اور یہاں ایک بات اور نوٹ کر لو، صحابہ میں ہر صحابی کی اپنی ایک کوالٹی تھی، کوئی صحابی لڑنے میں ماہر ہے تو کوئی صحابی علم میں ماہر ہے، کوئی صحابی فتوی دینے میں ماہر ہے۔ ہر صحابی کا اپنا ایک کردار ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ قرآن کے بہت اچھے قاری تھے، قرآن بہت اچھا پڑھتے تھے، بلکہ اللہ کے نبی خود فرماتے ہیں اگر کسی کو قرآن ایسا سننا ہو جیسے قرآن ابھی تازہ تازہ اتر رہا ہے اور نازل ہو رہا ہے ایسا قرآن اگر کسی کو سننا ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سن لو۔ یہ قرآن اتنا بہترین ہے کہ اگر آج آپ کا بچہ قرآن کا حافظ ہے، اگر آج آپ کا بچہ قرآن پڑھ رہا ہے اور نماز میں سینکڑوں اور ہزاروں لوگ آپ کے بچے کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں، میرے بھائیو یہ خوش قسمتی اور خوش نصیبی کا مقام ہے، قرآن کو پڑھنے پڑھانے والے سے بڑا کسی کا مقام نہیں ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں: میں اللہ کے نبی کو سورہ نساء پڑھ کے سنانے لگا، میں سورہ نساء کی تلاوت کرنے لگا جب میں سورہ نساء کو پڑھنے لگا تو پڑھتے پڑھتے میں سورہ نساء کی اس آیت کے اوپر پہنچا:

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا۔ اے نبی، اے میرے رسول! ہر امت میں سے ہم ایک گواہ لائیں گے اور آپ کی امت کے اوپر ہم آپ کو گواہ بنائیں گے۔

حضرت عبداللہ کہتے ہیں: جب میں اس آیت کے اوپر پہنچا اللہ کے نبی نے ہاتھ اٹھا کر کہا کہ عبداللہ بس کرو، اب تلاوت روک دو! میں نے نظر اٹھا کے دیکھا:

فَإِذَا عَیْنَاہُ تَذْرِفَانِ۔ اللہ کے نبی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اللہ کے نبی رو رہے تھے، اللہ کے نبی کی آنکھوں سے آنسوں بہ رہے تھے۔

آپ اس لیے رو رہے تھے آپ کو اپنے کندھے پر ڈالی جانے والی ذمہ داری کا احساس تھا آپ کو یہ احساس تھا اتنی بڑی ذمہ داری اللہ نے میرے کندھے پر ڈالی ہے میری ساری امت کے بارے مجھ سے سوال کیا جائے گا، مجھے گواہ بنایا جائے گا، مجھ سے سوال کیا جائے گا۔ اس ذمہ داری کے بارے میں سوچ کر کے اللہ کے نبی رو رہے ہیں آج کون ذمہ داری کے بارے میں سوچ کے روتا ہے آج تو ہوڑ لگی ہے عہدوں کی، مجھے امیر بنا دو، مجھے ناظم بنا دو، مجھے خزانچی بنا دو، مجھے مدرسے کا ناظم بنا دو، مجھے مسجد کا متولی بنا دو۔ آج تو سیاست ہوتی ہے، پولیٹکس ہوتی ہے، لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں، خرید و فروخت ہوتی ہے۔ آج تو عہدے اور کرسی کے لیے انسان کسی حد تک گر جاتا ہے۔

میرے بھائیو! ہمارے نبی نے یہ سبق بھی ہمیں سکھایا ہے کہ عہدے اور ذمہ داری لینا بہت آسان کام ہے، اسے نبھانا بہت مشکل کام ہے۔ اللہ کے نبی اپنی ذمہ داری کے بارے میں سوچ کر رو رہے ہیں۔ میرے بھائیو! آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ اور آگے بڑھیے ایک اور موقع پر اللہ کے نبی کی آنکھوں سے آنسو آئے تھے۔ صحیح مسلم کے الفاظ ہیں۔ اللہ کے نبی اپنی ماں کی قبر پہ جاتے ہیں آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی ہیں اپنی ماں کو آپ نے چھ سال کی عمر میں کھو دیا تھا۔ اے لوگو! یتیم کیا ہوتا ہے؟ یہ کوئی اللہ کے نبی سے پوچھے۔ آپ پیدا ہوئے تو باپ کا سایہ نہ تھا، چھ سال کی عمر میں آپ نے اپنی ماں کو کھو دیا، نہ ماں کا پیار آپ کو ڈھنگ سے ملا اور نہ باپ کا سایہ آپ کو ملا۔ آپ تو در یتیم تھے، آپ تو پیدائشی یتیم تھے، آپ سے زیادہ یتیم کا درد کون سمجھ سکتا ہے؟ اسی لیے آپ نے یتیموں کے حقوق بیان کیے۔ آپ نے یتیموں کی پرورش کرنے والے کو جنت کی خوشخبری سنائی۔ آپ نے فرمایا:

أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا” وَقَالَ: بِإِصْبَعَيْهِ السَّبابةِ وَالْوُسْطَى. آپ نے اپنی انگلیوں سے اشارہ کر کے فرمایا کہ یتیم کی پرورش کرنے والا، یتیم کو پالنے والا، یتیم کا خیال رکھنے والا، جنت میں محمد رسول اللہ کے ساتھ جائے گا۔ جس طریقے سے یہ دونوں انگلیاں ایک ساتھ جڑی ہوئی ہیں، ملی ہوئی ہیں، یتیم کی پرورش کرنے والا بھی جنت میں اپنے نبی کے ساتھ جائے گا۔

یتیم کے حقوق آپ نے بیان کئے۔ آج برسوں کے بعد آپ کا گزر اپنی ماں کی قبر کے پاس سے ہو رہا ہے آپ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک جماعت بھی ہے، میرے پیارے ساتھیو! یتیم تو اس بچے کو کہتے ہیں جو ابھی نابالغ ہو، اللہ کے نبی کی عمر تو 40، 50 سال کے پار ہو چکی ہے۔ آج آپ کا بچپن نہیں ہے، آج آپ کی جوانی نہیں ہے، جوانی کے بعد کا پیریڈ ہے پھر بھی جب اپنی ماں کی قبر کے پاس سے آپ گزرتے ہیں، ماں کی ممتا آپ کو یاد آجاتی ہے، ماں کا پیار آپ کو یاد آجاتا ہے، کھونے کا احساس آپ کو یاد آ جاتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں اللہ کے نبی رونے لگتے ہیں، اللہ کے نبی اپنی ماں کو یاد کر کے رونے لگتے ہیں اور آپ کے آس پاس جتنے صحابہ کرام ہوتے ہیں ان کی آنکھوں سے بھی آنسو آنے لگتے ہیں،  میرے بھائیو اگر آپ کی ماں زندہ ہے، زندگی میں ماں کی قدر کرو، مرنے کے بعد ماں یاد آئے گی، وہ کام جو آپ کی ماں نے کیا ہے دنیا میں کوئی نہیں کرسکتا، مرنے کے بعد اپنی ماں کی طرف سے لاکھ خرچ کرتے رہو مدرسے میں چندہ دیتے رہو، ٹیوب ویل لگواتے رہو، کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر اس ماں کی زندگی میں آپ نے ماں کا خیال نہیں رکھا ہے۔ اللہ کے نبی اپنی ماں کو یاد کر کے رونے لگتے ہیں اس کے بعد آپ اپنے صحابہ سے کہتے ہیں کہ اے میرے صحابہ میں نے اللہ سے اجازت مانگی تھی، میں اپنی ماں کے لیے مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہوں، اللہ نے مجھے اپنی ماں کے لیے مغفرت کی دعا کرنے کی اجازت نہیں دی۔ ہائے ہائے۔ اللہ کے نبی اس کائنات میں اللہ کے سب سے محبوب بندے ہیں مگر یہاں پر آپ بھی مجبور ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنی ماں کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کر سکتے۔

اے میرے بھائیو! اگر آپ کی ماں مسلمان ہے، آپ کا باپ مسلمان ہے، اللہ نے آپ کی ماں کو مسلمان بنایا ہے، آپ کے باپ کو مسلمان بنایا ہے، تو یہ بہت خوش نصیبی کی بات ہے، یہ وہ چیز ہے جو آپ کے نبی کو بھی نصیب نہیں ہو پائی۔ میرے بھائیو! ایک اولاد کیلئے اس سے بڑھ کر تکلیف کی کوئی اور بات ہو ہی نہیں سکتی کہ جب وہ اللہ بارگاہ میں دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے تو اپنے باپ کے لیے دعا نہیں کر سکتا، تو اپنی ماں کے لیے دعا نہیں کر سکتا۔ اس سے بڑھ کے بدنصیبی کی کوئی اور بات ہو ہی نہیں سکتی۔ میرے بھائیو! اگر آپ مسلمان ہیں، اگر آپ کا باپ مسلمان ہے تو بہت ہی خوش نصیبی کی بات ہے۔ اللہ کا شکر ادا کیجیے۔ اللہ کے نبی فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے رب سے مغفرت کی اجازت مانگی کہ اے اللہ میں اپنی ماں کے لئے مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہوں اللہ نے اجازت نہیں دی اور پھر میں نے اللہ سے اجازت مانگی کہ میں اپنی ماں کی قبر پہ جانا چاہتا ہوں، اپنی ماں کی قبر کو دیکھنا چاہتا ہوں، اللہ نے اجازت دے دی تو اے لوگو! تم بھی قبرستان پر جایا کرو اور قبروں پر جایا کرو!

 فَاِنَّھاَ تُذَکِّرُکُمُ الْآخِرَۃ۔ قبرستان جانے سے موت کی اور آخرت کی یاد آتی ہے۔

آج کوئی شہر خالی نہیں ہے جہاں بزرگوں کی قبروں کے نام پر بڑے بڑے مقبرے بنے نہ ہوں اور جہاں بڑی رونق لگی نہ ہو اور وہاں باقاعدہ شرک ہو رہا ہے اور اللہ کو ناراض کرنے والے کام ہو رہے ہیں۔ میری پیاری ماؤں اور بہنوں! ایسی ہی عورتوں کے بارے میں اللہ کے نبی نے فرمایا تھا:

لَعْنَ اللهُ زَواَّرَاتِ القُبُوْر۔ ایسی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو جو بہت زیادہ قبرستان جاتی ہیں۔

اسی لیے علماء نے کہا کبھی کبھار عورتیں قبرستان جا سکتی ہیں، اپنے باپ کی، اپنے شوہر کی، اپنے بھائی کی قبر کو دیکھنے کے لیے، موت کو یاد کرنے کے لیے جا سکتی ہے، مگر جو عورتیں بہت زیادہ قبرستان جاتی ہیں، اللہ کے رسول نے لعنت فرمائی ہے۔ میرے پیارے ساتھیو یہاں بھی اللہ کے نبی نے وہی بات کہی کہ تم قبرستان جا سکتے ہو، جایا کرو، قبر پر جانے سے تم کو آخرت کی یاد آئے گی مگر آج کیا ہو رہا ہے آج تو قبر پہ جا کر کے بھی ہمیں ہنسی آتی ہے، مذاق کرتے ہیں،  ہم کتنے لوگوں کو دیکھتے ہیں، جنازے کی نماز میں جا رہے ہیں اور آپس میں ہنسی مذاق کر رہے ہیں۔ موبائل پر ویڈیو دیکھ رہے ہیں یعنی قبرستان میں بھی ہمیں موت نہیں یاد آتی ہے۔ میرے پیارے ساتھیو ایک اور موقع پر میرے نبی کی آنکھوں سے آنسو آئے تھے۔ ابن ماجہ کی روایت ہے۔ ایک انصاری صحابی کا جنازہ تھا اللہ کے نبی جنازے میں گئے ہوئے تھے اور جنازے کو قبر میں اتارا جا رہا تھا اور اللہ کے پیارے حبیب قبر کے ایک سائیڈ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ غور کر رہے تھے اس عذاب قبر کے بارے میں سوچ رہے تھے اس قبر کی زندگی کے بارے میں آپ سوچ رہے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور آپ نے روتے ہوئے اپنے صحابہ سے فرمایا:

لِمِثْلِ هٰذاَ فَأَعِدُّوْا يَا اِخْوَانِ۔

اے میرے بھائیو اس قبر میں تم کو بھی آنا ہے اس قبر میں آنے کی تیاری کر لو اور قرآن وحدیث کی اپنی میں اتار لو۔

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اے اللہ ہمیں قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے اور اس میں غور و فکر کرنے کی توفیق دے آمین۔

والسلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے