محمد وسیم راعین

عقیدہ توحید کائنات کا سب سے عظیم اور سب سے اہم عقیدہ ہے بلکہ کائنات کا قیام اسی عقیدہ سے وابستہ ہے، توحید بندوں پہ اللہ کا سب سے پہلا حق ہے ۔یہ وہ عقیدہ جس کا عہد و پیمان اللہ تبارك وتعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق سے قبل، عالم ارواح ہی میں لے لیا تھا۔اسی توحید کے سبق کی یاد دہانی کے لئے رسولوں کی بعثت ہوئی۔ توحید کی گواہی خود اللہ تعالی نے دی ہے ۔توحید دین کا پہلا رکن ہے ۔ایمان کے شاخوں میں اس سے کوئی افضل نہیں ہے ۔توحید کے بغیر انسان کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے ۔

جس توحید کی اس قدر اہمیت ہو اس کے تئیں ہمیں کس قدر سنجیدگی کامظاہر ہ کرنا چاہیے اور اپنے آپ کو توحيد پہ قائم رکھنے اور توحید کو متاثر کرنے والے امور سے بچنے کی فکر کرنا چاہیے۔

سعودی حکومت کی خدمات کے دائرے وسیع ہیں اس حکومت کو اللہ تعالی نے جن امور کی طرف توجہ کرنے کی توفیق دی ہے ان میں سر فہرست ہے ۔اللہ تعالی نے انہیں اس عقیدہ توحید کی طرف توجہ کرنے اور اس کی نشر و اشاعت اور اس کو متاثر کرنےوالے امور سےلوگوں کو بچانے کی توفیق بخشی ہے اسی لئے یہ حکومت حتی الامکان عقید ہ توحید کے تئیں مکمل کوشش کرتی ہے ۔ ذیل میں انہیں اہمتام و توجہ کا ذکر کیا جا رہا ہے:

۱۔ابتدائی جماعتوں سے ہی عقیدہ کی تعلیم کا اہتمام: کہا جاتا ہے کہ بچپن کی تعلیم پتھر پہ نقش کرنے کے مترادف ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی بچوں کے ذہن میں توحید کو نقش کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔سعودی حکومت نے اس عقیدہ کی جانب خصوصی توجہ دی ہے ۔اور ہر درجہ کے نصاب میں طلبہ کے مستوی کے اعتبار سے توحید کا نصاب داخل و شامل کیا ہے ۔ جس کی وجہ سےعرب کے یہاں عقید ہ توحید سے گہری وابستگی پائی جاتی ہے ۔ چھوٹے بچے چھوٹے بچے عقیدہ و توحید کی وہ بنیادی باتیں جانتے رہتے ہیں جن میں دگر ممالک کے بڑے بھی غلطی کر جاتے ہیں اور کر تے ہیں ۔

عقیدہ کی تعلیم اور عقیدہ کی مختلف کتابوں کی تدریس ،ابتدائی درجات سے لے کر کلیہ کے مرحلہ تک ہوتی ہے ۔

۲۔جامعات و یونیورسٹی میں عقیدہ سے متعلق خصوصی فیکلٹی: سعودی جامعات میں کلیہ کے مراحل میں بھی عقید ہ کا مضمون لازما پڑہایا جاتا ہے ۔ تخصص کے اعتبار سے کسی فیکلٹی میں کم اور کسی میں زیادہ۔کلیہ کے مرحلہ کے بعد ایم ۔اے اور پی ایچ ڈی کے مراحل میں عقیدہ سے متعلق خصوصی قسم، تقريبا سعودی کے تمام ہی اسلامی یونیورسیٹی میں موجود ہے ۔ جس میں ان طلبہ کا داخلہ ہوتا ہے جو مختلف مقابلہ جاتی امتحان پاس کر کے اس مرحلہ میں داخلہ کے اہل ہوتے ہیں۔

۳۔منحہ خارجیہ اور عقیدہ کی اصلاح میں اس کا کردار: سعودی جامعات میں تقریبا دو سو ممالک کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کو اس معاملہ میں تفوق حاصل ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ طلبہ یہاں دگر علوم کے ساتھ صحیح اسلامی عقیدہ کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جو غلط عقائد و خلفیات اپنے مملکوں اور تعلیمی اداروں سے لے کر آتے ہیں ان کی اصلاح کرتے ہیں ۔ اور اپنی تعلیم مکمل کرکے جب اپنے وطن لوٹتے ہیں تو وہاں صحیح عقیدہ کی نشرو اشاعت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

٤۔عقیدہ سے متعلق علمی جمعیات و کراسی کا قیام: سعودی عرب کی عقیدہ سے متعلق مشہور جمعیت "الجمعية العلمية السعودية لعلوم العقيدة والأديان والفرق والمذاهب” ہے ۔ یہ جمعیت بڑی متحرک و فعال ہے ۔ مختلف قسم کے عقدی ، علمی پروگرام اور محاضرات کا انعقاد کر تی رہتی ہے ۔

دنیا بھر کے شائقین علم کے لئے مختلف پروگرام اور علمی دورے منقعد کرواتی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ مختلف عقدی كتابیں اور عقدی مضامین پہ مشتمل مجلہ بھی شائع کرتی ہے۔

۵۔مساجد میں عقیدہ کی تدریس کا اہتمام : مساجد کااسلامی شریعت میں بڑا مقام ہے ۔ نمازوں کے ساتھ ساتھ مساجد تعلیم وتربیت کے بہرین ذرائع ہیں ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کا بڑا ہی فعال کردار رہا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی علمی مجلسیں مسجد میں ہی قائم ہوتی تھیں۔

مساجد کے مذکورہ کردار کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے سعودی کے مختلف مساجد میں عقدی کتابوں کے درس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ جس میں عوام وخواص کی ایک کثیر تعداد شریک ہوتی ہے ۔اور اپنے دین و ایمان و عقیدہ کو مضبوط کرتے ہیں۔

مساجد میں یہی علمی حرکت و نشاط سعودی کے ہر شہر میں ہے بالخصوص بڑے شہروں میں تو اس علمی حرکت و نشاط کے کیا کہنے۔

عقدی دروس و محاضرات کا اہتمام : مساجد میں جہاں پابندی سے عقدی کتابوں کے پڑھنے‘ پڑھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے وہیں مختلف موقعوں اور مناسبتوں سے درس و محاضرہ کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔

تعلیمی چھٹیوں میں مختلف علمی ،عقدی دورے کا اہتمام: سعودی عرب میں لوگوں کو علم سےبڑا شغف ہے چاہے طلبہ ہو کہ عوا م ۔ لہذا جب نظامی تعلیم سے چند دنوں کے لئے چھٹی ہوتی ہے تو مختلف شہروں میں مختلف دورے کا اعلان ہو جاتا ہے۔کبار اہل علم اپنے علم سے طلبہ کو سیراب کرنے میں جٹ جاتے ہیں ۔

سالانہ چھٹیوں میں تو ریاض اور دگر شہروں میں ایسے دورے بھی ہوتے ہیں جہاں باہر سے آنے والے طلبہ کے قیام کا نظم ہوتا ہے ۔ چھٹی کے دنو ں میں شیخ صالح بن عبداللہ عصیمی حفظہ اللہ کا مسجد نبوی میں بڑا ہی پر وقار،با رونق مشہور و معروف علمی نشستیں ہوتی ہیں۔

عقیدہ کی کتابوں کی طباعت و تقسیم : ہر انسان کی زندگی میں کتاب کی بڑی اہمیت ہے ۔کتاب انسان کا بہترین رفیق اور ساتھی ہے ۔ اسی کتاب کے ذریعے ہم اولین کے علم اخبار و حکایات اور سیرت وسوانح سے واقف ہوتے ہیں۔ لہذا ہر گھر میں مختلف فنون سے مزین ایک چھوٹی سی لائبریری ضرور ہونی چاہیے۔

جہاں تک عقدی کتابوں کی تقسیم کا مسئلہ ہے تو اس جانب بھی خوب توجہ دی جاتی ہے اور مختلف علوم و فنون کی کتاب وزارت شئوون اسلامیہ سے تقسیم کی جاتی ہے انہیں میں عقدی کتابیں بھی ہیں۔

حج کےدنوں میں خصوصا اور سال بھر عموما حرمین میں زائرین کے مابین کتابوں کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔

توحید کو ٹھیس پہنچانے والے جگہوں پہ علماء و سیکورٹی گارڈ کی تعیناتی: مدینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر ،بقیع قبرستان اور شہدائے احد کا مدفن یہ تین مقامات ایسے ہیں جہاں کمزور ایمان و عقیدہ کے حاملین توحید کے منافی کام کرنے سے چوکتے نہیں ہیں ۔اسی لئے حکومت اس بات کی طرف خاص توجہ دیتی ہےاور ان جگہوں میں خلاف شرع و خلاف توحید کسی بھی قسم کے کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے اسی لئے ان مقامات میں مختلف افراد تعنیات کئے جاتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود یہاں کام کرنے والے اور علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ برصغیر کے کمزور عقیدہ والےکیسی خرافات انجام دینے کی سعی کرتےہیں ۔

جالیات کا قیام :کسب معاش کے لئے برصغیر اور دگر ممالک کے لاکھوں افراد عرب ممالک میں کام کرتےہیں ۔ مزدور طبقہ کے لوگوں کم علمی کے سبب مختلف عقدی اور عملی خرابیوں میں مبتلا ہوتےہیں لہذا ان کی اصلاح کی خاطر ان ملکوں کے دعاۃ ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے جالیات میں دعوتی فرائض انجام دیتے ہیں ۔اور ان کے لئے مختلف دینی پروگرام کا انعقاد کرتےہیں ان کے عقیدہ کی اصلاح کی درستگی کا سبب بنتے ہیں۔

عقیدہ توحید کی اصلاح کے اور بھی مختلف گوشے اور پہلو ہیں جیسے کہ مختلف ممالک میں دورہ کا انعقاد کرنا، مختلف ممالک میں اسلامی مراکز کا قیام، مختلف ممالک میں دعاۃ کی کفالت وغیرہ ایسے امور ہیں جن سے عقیدہ کی اصلاح اور اس کی جانب توجہ ظاہر ہے ۔

اللہ تعالی سعودی حکومت کی حفاظت فرمائے اور انہیں ہر کار ِخیر کی توفیق دے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے