ڈاکٹر شارب رضوی مورانوی بارہ بنکی انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج چین کھل کر ایران کے ساتھ آ گیا اور اُس نے اسرائیل کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہر طریقے سے ایران کے ساتھ کھڑے ہیں ایران کو جو بھی مدد چاہئے میں اُسے دوں گا، اِس مدد میں فوجی ساز و سامان سے لیکر ہر قسم کی مدد کا اعلان کیا گیا ہے۔ ابھی چین کے پیغامات زیرِ بحث آئے ہی تھے کہ روس نے بھی اسرائیل کی چیخیں نکال دیں، روس نے آج ایک میٹنگ میں اعلان کر دیا کہ اُس کے اتحادی پر اگر کسی نے لمبی دوری (لانگ رینج) کی میزائل کا بھی حملہ کِیا تو ہم اُس پر ایٹمی حملہ کردیں گے۔ دوسری طرف چین نے تقریباََ 40 سال کے عرصے کے بعد ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جِس کی رینج 12000 کلو میٹر ہے جو چین سے امریکہ تک مار نے کی قوّت رکھتی ہے اس میں ایٹمی ہیڈ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ چین سے امریکہ کی دوری محض 10000 کلو میٹر ہے اور چین سے اسرائیل کی دوری صِرف 7500 کلو میٹر ہے۔ چین، روس اور ایران کا ایک نیا اتّحاد برکس کی صورت سامنے آیا تھا جو آج اتنا مستحکم ہو گیا ہے کہ تینوں مُلک ایک دُوسرے پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روس کے صدر جناب بلادیمیر پوتین نے سکیوریٹی کاؤنسل کے اجلاس کی میٹنگ میں ایٹمی نیوکلیئر پالیسی کو ہی تبدیل کر دیا ہے اِس تبدیلی کے بعد اسرائیل کے ہوش فاختہ ہو گئے ہیں۔

روس نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ ناٹو اتحادی ممالک کو بھی سیدھا پیغام بھیجا ہے کہ اگر کسی بھی مُلک نے ہمارے اتحادیوں پر حملہ کِیا تو اس کی خیر نہیں ہوگی یعنی پوتین نے سکیوریٹی کاؤنسل کے اِس اہم اجلاس کے زریعہ صاف لفظوں میں اپنے اتحادیوں کی حفاظت کا عزم دوہرا دیا ہے، چین نے بھی اپنے بیلسٹک میزائیل کا کامیاب تجربہ کرکے امریکہ کو نصیحت کر دی ہے کہ اگر کسی نے اس اتّحاد کی جانب نظریں اٹھائیں تو اسے اس کی بھرپور قیمت چکانی پڑے گی، آنے والے وقت میں اِس اتّحاد میں عراق، لبنان اور شام کے ساتھ یمن، تُرکی اور سعودی عرب بھی شامل ہوں گے۔ چین اور روس کے پیغامات سے ناٹو سکتے میں آگیا ہے اور اُس کے اتحاد میں کھلبلی دیکھی جا سکتی ہے۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم نیتن یاہو امریکہ کی دوڑ لگانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آنے والے وقت میں عالمی جنگ ضرور ہوگی اور اسرائیل ایران کو گھیر کر امریکا اور ناٹو اتحادی ممالک سے اُس پر ایٹمی حملا کرانے کی کوشش کریگا لیکن ہماری بات کو یاد رکھۓگا اِس کے برعکس چین اور روس خود ہی اسرائیل پر ایٹمی حملا کریں گے کیونکہ 40 سالوں میں پہلی مرتبہ چین نے اتنا بڑا اسٹینڈ لیا ہے روس اور چین نے اپنے پتے کھول دیئے ہیں اور ایران کو بھی اِس سے پیغام مل گیا ہے کہ اگر اسرائیل کِسی بھی طریقے کی گستاخی ایران کے ساتھ کرتا ہے تُو اُس پر ایٹمی حملا کریں اِس پیغام سے میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ایران نے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ہے جب کہ ابھی تک ایران نے اِس طرح کا کوئی اشارہ تک نہیں دِیا ہے مگر اِس اتّحاد کی جانب سے جس طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اُس سے مُجھے یقینِ کامل ہے کہ ایران نے نیوکلئیر صلاہیت حاصل کر لی ہے۔آپ لوگوں کو یاد ہوگا جب شہید قاسم سلیمانی کو امریکا نے قتل کِیا تھا اُس زمانے میں ایک ہوائی جہاز ایران سے یوکرین جانے کے لئے ابھی رنوے سے اوپر گیا ہی تھا کہ اُسمیں دھماکہ ہو گیا اور وہ حادثے کا شکار ہو گیا تھا یہ بات 08′ جنوری’ 2020 کی ہے اِس حادثے میں صرف جہاز ہی حادثے کا شکار نہیں ہوا تھا بلکہ اُس علاقہ میں زلزلہ بھی آیا تھا، اِس حادثے والے ہوائی جہاز کا بلیک باکس ایران نے واپس دینے سے منع کر دِیا تھا۔ جبکہ جہاز اور اُس میں مرنے والوں کے متعلقین کو ایران کی جانب سے ایک بہت بڑی رقم ادا کی گئی تھی اُس وقت زیرِ زمین ایٹم بم کا تجربہ کیا گیا ہوگا جِس کی لہروں کے باعث وہ حادثہ ہوا تھا اِسی لئے اُس کے بلیک باکس کو دینے سے منع کردیا گیا تھا۔ اِس بناء پر میں سمجھتا ہوں ایران ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا مُلک ہے اسرائیل ایران کو جنگ میں صرف اِس لئے کھینچنا چاہتا ہے کہ روس کو اس عالمی جنگ میں پھنسایا جائے اور کمزور کیا جائے مگر اب اسرائیل کی حرکتوں سے ساری دنیا واقف ہو چکی ہے، ہر ملک اِس کے کمینہ خصلت سے آگاہ ہے۔ اِس لئے ابکی بار اسرائیل کا ہی نمبر ہے، چین اور روس دونوں جان چکے ہیں کہ اسرائیل سب سے ناقص مُلک ہے اسے مزا چکھانے کے لئے روس یا پھر چین اُس پر نیوکلیئر حملہ کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سنیریو یعنی منظر نامہ (Scenario) سے اسرائیل کی چیخیں نکلی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے