محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ غیرمتاثر کن جواب 
ہرطر ف فرعون پھیلے ہوئے ہیں۔ بازار میں سب سے بڑافرعون سیٹھ عبدالخلیل فاختہ پنجم ہے ۔کھیل کے میدان کافرعون شعبان نوسی واسی ہے ، اس کی این جی او کے علاوہ دوسری این جی اوز کو کھیل مقابلہ منعقدکرانے کاموقع نہیں دیاجاتا۔ایم پی اور ایم ایل اے اپنے اپنے حساب سے فرعون وہامان ہیں۔ اردواکادمی کے فرعون بھی دس بارہ میدان میں ہیں ، اسلئے ادب کاکام بھی بچوں کاکھیل نہیں رہا۔
پوچھاگیاکہ ’’سبھی فرعون ہیں تو یہاں موسیٰ کون ہے پھر؟‘‘
مایوسانہ جواب تھا۔ ’’اس دور کاموسیٰ کوئی نہیں ہے۔ ہرطرف AIفرعون پھیلے ہوئے ہیں ‘‘کم ازکم مجھے یہ جواب متاثر نہ کرسکا۔اس قدرمایوسی کی ضرورت نہیں ہے ۔
۲۔  مہکتا بڑھاپا 
شہر کے چند بزرگ لائبریری میں جمع تھے ۔ آج بین الاقوامی یوم معمرین تھا۔ موج مستی اور کیک ویک کاٹنے کے بعد چائے پیتے ہوئے آپسی بات چیت کے دوران غیرمؤظف مگر اپنے پیشہ میں سرگرم ومعمر ترین ڈاکٹر اجمل کرپلانی نے کہا’’کافی دیر تک بات نہ کرنے سے بڑی عمر کے افراد کے منہ میںبدبو کاپید اہونا فطری بات ہے ۔نوجوانوں میں منہ کی بدبو کی وجہ سے ازدواجی تعلقات تک ختم ہوتے ہم نے دیکھے ہیں ،لہٰذا ہمارے علاوہ سبھی نوجوانوں کو منہ کی بدبو کے خلاف الرٹ رہنا چاہیے ‘‘
شہر کی معروف تعلیمی شخصیت جناب فرخ ایوبی صاحب نے کہا’’میں اپنے منہ کی کافی صفائی کرتا رہتاہوں ۔ روزانہ تین دفعہ صفائی کرنا میرے معمول میں داخل ہے ، صبح ، دوپہر اور سونے سے قبل بلاناغہ منہ کی صفائی ضروری ہے ‘‘
سیاست دان کم ماہر تعلیم جناب افروزجانی صاحب نے کہا’’جناب فرخ ایوبی صاحب نے اچھی بات کہی ہے۔ اس طرح سے منہ کی بدبو غائب ہوجاتی ہے ، اس پر عمل کرناچاہیے ‘‘
محکمہ پولیس کے مؤظف اے ایس آئی عبدالقادر دیپانگر نے افروزجانی سے مخاطب ہوکر کہا’’آپ نے نہیں بتایاکہ آپ کیاکرتے ہیں ، بہرحال میں منہ کی بدبوہٹانے کے لئے پان میں اچھے قوام کااستعمال کرتاہوں ۔ کیوں کہ امیرخسرو نے کہاتھاکہ پان منہ کوخوشبودار بناتاہے، اس میں تھوڑا سازردہ بھی شامل کر لیتاہوں ۔نواسانواسی ، پوتے پاتی جب میرے قریب آتے ہیں توانھیں میرے منہ سے قوام کی مہک آتی ہے‘‘
فارمیسسٹ افسر پان شاہ نے کہا’’اسپرے کے ذریعہ بھی منہ میں خوشبو بحال رکھی جاسکتی ہے ‘‘
پھرمولوی سید سلام اللہ کمٹھانوی کی طرف تمام معمر دوستوں نے دیکھا ۔ کیوں کہ اب ان کی باری تھی ۔ انہیں بھی کچھ نہ کچھ کہناتھا۔ وہ پان وغیرہ کاشوق نہیں رکھتے تھے۔اسپرے جیسی جدید چیزوں سے ناواقف تھے۔ چائے بھی اصرار پر پیتے تھے۔ عبدالقادر دیپانگرنے یہ کہہ کر چٹکی بھی لے لی تھی کہ مولوی سید سلام اللہ کمٹھانوی کو پان کا شوق بھی نہیں ہے۔اور اسپرے بھی نہیں کرتے۔ وہ کس طرح اپنے منہ کی بدبو کودور کرتے ہوں گے؟
مولوی سید سلام اللہ کمٹھانوی نے پہلے تو اللہ تعالیٰ کاشکریہ اداکیاکہ اس نے ہم سب کو صحت وعافیت سے رکھا ہے اور ہم ’’عالمی یوم معمرین‘‘ منارہے ہیں۔ اس کے بعد منہ کی بدبو جیسے
موضوع کے بارے میں اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئے کہ ’’میرے عزیز ومعمر دوستو، میں دراصل دن بھر وقتاً فوقتاًدرودشریف پڑھاکرتاہوں ، جس کی بے شمار برکتوں کے سبب میرے منہ سے ایک بھینی بھینی مہک خارج ہوتی رہتی ہے ، میرے بچوں اور پوتوں نے مجھ سے یہی کہاہے، اور میں بھی اس کی گواہی دیتاہوں۔ اللھم صل علی محمد وعلیٰ آل محمد ‘‘
۳۔ فکرِ زمانہ 
اس کوفکر زمانے بھر کی رہتی ہے اور میں زمانے بھر کی اس کی فکر کو دور کرنے کے لئے صبح سے شام تک کی شہر میں ہونے والی عوامی سرگرمیوں میں سے چند ایک کو بتلادیتاہوں۔ وہ مطمئن ہوجاتاہے اور اس کاکھانا بھی ہضم ہوجاتاہے۔ اگر آپ کاکھانا بھی ہضم نہ ہورہاہوتو مجھ سے مل سکتے ہیں تاکہ میرابھی مشغلہ پائیداری کی طرف بڑھ سکے۔
۴۔ جواب مل گیا 
وہ کمیونسٹ تھا ۔ اس نے کہا’’تمہارارب پے درپے لاکھوں انسانوں کو ہردن دنیا میں پیداکر رہاہے تاکہ ایک وقت کے بعد ان تمام کوموت دے کر مختلف الزامات کے تحت جہنم کے حوالے کرسکے ۔ تمہارے خدا کامشغلہ بھی خوب ہے ، انسان بنانااور اس کودنیا میں بھیج کر سزا کے نام پر مرنے کے بعد جہنم کے حوالے کردینا۔ اس قدر دھاندلی میں نے کبھی نہیں دیکھی ‘‘
مجھے کمیونسٹوں کی زبان آتی ہے اور نہ ہی ان سے مقابلہ کرنا آتاہے۔ پھر بھی اس کمیونسٹ سے پوچھ لیا کہ ’’تمہاری دانست میں کیاہونا چاہیے۔ دنیا ختم ہونا چاہیے یاجاری رہناچاہیے‘‘
وہ بولا’’میرے خیال میں جس دنیا میں مزدروں اور غریبوں سے ان کے رہنے کاحق ، ان کی عزت کاحق چھین لیاجاتاہو، ایسی  ظالم دنیا کوفوری ختم ہوجاناچاہیے‘‘
اس کاجواب سن کر میری مسرت کی انتہا نہیں رہی۔کیوں کہ مجھے جواب مل گیاتھا۔ میں نے کہا’’تم خوش ہوجاؤ کہ ہمارارب تمہاری خواہش کے عین مطابق دنیا کو ختم ہی کررہاہے۔ آخری نبی حضرت محمد  ﷺ کی آمدکے بعد قیامت ہی کامرحلہ باقی ہے۔ آج یاکل ہم تم رہیں گے اور نہ یہ دنیا رہے گی ،ایک قیامت برپا ہوگی اورسب کچھ نیست ونابود ہوجائے گا۔ پھر رہ جائے گانام اللہ کا‘‘
۵ ۔ ازلی چمپانزی 
اس نے کبھی غار میں پڑے رہنے کوترجیح نہیں دی۔ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے غار سے باہر نکل آتا۔ پھر یوں ہواکہ وہ اپنے غار کاراستہ بھول گیا۔ آج پوری دنیاگھوم چکاہے لیکن اس کواپناغار نہ ملنے سے یہاں وہاں عالیشان عمارتیں کھڑا کرکے اپنی غریب الوطنی کابدلہ لے رہاہے وہ۔شاید آپ کو میری بات درست نہ لگے لیکن وہ ازلی چمپانزی ابھی تک زندہ ہے اور زندہ دلی کے ساتھ دنیامیں جنت بنانے کا ہوا کھڑا کیاہواہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے