محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
ٍ۱۔ رحمت کے نقطۂ نظر
’’پوری دنیا کو اپنائیت کااحساس کروانااخلاق ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔ آپ اخلاق چھوڑ دیں گے تو گویا نبی کریم ﷺ  کی تعلیمات سے دور ہوجائیں گے ‘‘ صاف صاف اخلاق کاپرچار کیاجارہا
تھا۔ اور دھمکی بھی دی جارہی تھی کہ نبی کریم  ﷺ کی تعلیمات سے دورہوجائیں گے۔ لہٰذا اخلاق ہی کو پکڑے رہنے کانتیجہ یہ رہاکہ کسی بھی احتجا ج میں شامل ہونے کو گناہ سمجھاگیا۔ بتلایاجاتاکہ احتجاج کے بجائے تعمیر ی اقدام کرو۔ کسی نے براکہاہے تو اس کو نرمی سے سمجھایاجائے ۔ سرتن سے جدا کی باتیں نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ ایسے گستاخ افراد کو بھی نبی کریم  ﷺ کی تعلیمات سے جوڑنے کی سعی کی جائے ۔ اور توبہ کے دروازے تو ہمیشہ کھلے ہوئے ہیں۔
تب میری تو سمجھ میں ہی کچھ نہیں آتاتھا۔ آج جب کہ عمر کی ستر بہاریں دیکھ چکاہوں ، محسوس ہوتاہے کہ واقعی نبی کے اخلاق کے دائرہ میں رکھ کر میری تربیت کی گئی تھی۔ کیوں کہ فتح مکہ کے وقت جن مجرمین کو آپ ﷺ نے قتل کرنے کاحکم جاری کیاتھا، آخرکار انھیں بھی معاف کردیا۔ شاید ایک تاتین افراد ہی کو قتل کی سزادی گئی ۔ ایسے رحمدل نبی کی امت کے اخلاق میں نرمی کواولیت حاصل رہے گی۔
آج میرے مربی دنیا سے جاچکے ہیں لیکن مسائل وہی ہیں تو حل بھی وہی ہوگا جومیرے مربی اور میرے رہنماؤں نے مجھے نبی کریم  ﷺ کے اخلاق کی روشنی میں بتایاتھا۔آپ رحمت کے نقطہ ء نظر سے بتلائیں کہ کیاہونا چاہیے ؟
۲۔ رقم کے منتظر 
انھیں پیسے چاہیے تھے ۔ پیسے تو تھے نہیں کہاں سے پیسے دئے جاتے۔ کافی تکرار ہوتی رہی۔ آخر کہہ دیاگیاکہ جب بھی پیسے آجائیں گے اولین فرصت میں رقم اداکر دی جائے گی ۔
وہ لوگ چلے گئے۔وہ بیچارے رقم کے منتظر ہیں۔اور اِدھر میںبھی منتظر ہوں تاکہ رقم کاتقاضہ پوراکیاجاسکے۔خداکی کرنی ایسی ہوئی کہ ایک ہفتہ کے اندرون ایک موٹی رقم مجھے مل گئی۔ انھیں ان کی مطلوبہ رقم اداکرکے جان چھڑائی گئی۔
۳۔ مثبت خیالات 
’’احتجاج ایساہوکہ کیاگیااحتجاج ایشونہ بنے۔ اور جواباً کوئی احتجاج سامنے نہ آئے ، اسے کہتے ہیں سانپ بھی مرجائے اورلاٹھی بھی نہ ٹوٹے ‘ جو لوگ ذہین ہوتے ہیں وہ فتنہ وفساد سے ہٹ بچ کر چلتے ہیں ‘‘
یہ گویا ہمارے لئے کلیہ تھا۔ ہم تمام گستاخان ِ رسول  ﷺ کے خلاف آوازاٹھانے کے لئے جمعہوئے تھے اور منصوبہ بندی میں لگے ہوئے تھے کہ سب سے موثر احتجاج کی صورت کیاہوسکتی ہے ؟اوپربیان کیاگیاکلیہ بھی ہماری نگاہوں کے سامنے تھا۔ آخر کاریہ بات سامنے آئی کہ احتجاج ہی ایک آپشن نہیں ہے۔ ملکی قانون ہمیں کئی آپشن دیتاہے۔ اس میں احتجاج سے ہٹ کروالا آپشن مناسب رہے گا۔
تقریباً نوجوان اور بزرگ اس بات پر متفق ہوگئے۔ آخر کار طئے یہ ہواکہ گستاخان ِ رسول  ﷺ کے انڈے بچے پیدا نہ ہوں ، اس کے لئے پانسات بزرگ احباب ایس پی کے دفترپہنچ کر میمورنڈم دیں گے اور دوسری طرف متعلقہ نوجوان سارے شہر میں گھوم پھرکراجتماعی اور انفرادی دونوں طریقوں سے برادران ِ وطن سے مل کر انہیں نبی کریم  ﷺ کی سیرت سے واقف کرائیں گے۔
اس فیصلے پر ہم جوش وخروش کے ساتھ چلنے لگے تو نتیجہ یہ ہواکہ 2لاکھ افرادتک پہنچنے کے لئے ہمیں دوسال لگ گئے۔ اس دوسالہ کوشش کانتیجہ یہ ہے کہ آج ہمارے چھوٹے سے شہر کے غیرمسلم احباب نبی کریم  ﷺ کے بارے میں بے حد جانتے ہیں اور ان کااحترام بھی دل سے کرتے ہیں ۔ ان ہی کاکہناہے کہ پروادی محمد  ﷺ کی زندگی کے بارے میں ہمیں نہیں بتایاگیا تھا تب ہمارے خیالات دوسرے تھے ۔ اب جبکہ ہم نے پروادی محمد کی جیوننی (سیرت) پڑھ رکھی ہے تو ہمارے خیالات مثبت ہوگئے ہیں۔ ہم نے دل ہی دل میں کہا’’الحمد للہ ‘‘
۴۔ سوشیل ذیابیطس 
صحافت کی دیواریں گرنے لگی تھیں، چھت تو پہلے ہی خستہ تھی۔ میں اور میرے دوست ان دیواروں کو سنبھالنے میں لگے ہوئے تھے۔ اسی اثناء میں سوشیل میڈیاکے پرجوش نوجوان حامیوں نے پورا اہتمام کیاکہ صحافت کی دیواریںپوری طرح ڈھ جائیں تاکہ سوشیل میڈیا کاصحافت پر قبضہ ہوسکے۔ ہم صحافیوں کویہ بات منظور نہیں تھی۔ہم صحافیوں کے صدرجناب عبدالواسع عبدالسمیع نے کہا ’’ایک غیرذمہ دار سوشیل میڈیاکسی بھی معاشرے کے لئے خطرناک ہے ، اس کامقابلہ کرنے کے لئے صحافت اور متعلقہ صحافیوں کوکمربستہ ہونا چاہیے ‘‘
جناب صدر کی تقریر کے ساتھ ہی ہم غیرذمہ دارسوشیل میڈیا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔جگہ جگہ بیداری کاکام ہورہاہے۔ لوگوں کوسمجھایاجارہاہے کہ سوشیل میڈیا ایک جدید طریقہ ہے اپنی بات پہنچانے کا۔ لیکن سوشیل میڈیا کااستعمال کرنے والے پچاس فیصد سے زائد افراد نے پوری پوری غیرذمہ داری کے ساتھ اس کو ایک خطرناک ہتھیار کی طرح استعمال کیاہے اور کررہے ہیں۔ ہتھیار تو چاقوبھی ہے ۔یہ گھر میں ہوتاہے لیکن اس کامطلب اس چاقوسے دوسروں کوڈرانا یا اقدامِ قتل کے لئے استعمال کرنانہیں ہوتا‘‘
اس مہم میں پیش پیش صبوری والا تھا۔ اس کاجوش دیکھنے لائق تھا۔ دوکتابوں کامصنف ہے۔ اس میں ایک کتاب صحافت کی اہمیت پرہے۔ صبوری والا کی باتیں تیکھی ہونے کے بجائے میٹھی اور مزاح کی آمیزش لئے ہوتی تھی۔ اس کاکہناہے ’’سوشیل میڈیا کو میٹھازہر نہ سمجھنے والے وہی لوگ ہیں جنہیں عرصہ تک پتہ نہیںچلتاکہ ذیابیطس بھی کوئی بیماری ہے۔ اور وہ ان کے جسم کے مختلف حصوں تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔بلکہ ان کے بیش قیمت خون سے رشتہ جوڑکر اسکو اپناسوتیلا بھائی بناچکی ہے۔پھر تووہ ساری عمر ذیابیطس جیسی بیماری سے خود کو بچانے یااس کے پھیل جانے پرکسی نہ کسی طرح قابوپانے کی جدوجہد
میں سنجیدگی سے لگ جاتے ہیں۔اب پچھتاوا کیاہووت کہنے کی بھی گنجائش نہیں رہتی ۔ تیر نکل جانے کے بعد کیاہوسکتاہے۔لہٰذا سوشیل میڈیا کے میٹھے زہر کو سماج کی رگوں میں پہنچنے نہ دیں۔ اس کوباندھ کررکھیں۔ وہ ہمارے گھر کے باہر کسی Watch Dog کی طرح نگرانی کرتارہے‘‘
بہت سی تالیاں صبوری والا کے لئے ملیں۔ سب کچھ ہورہاتھالیکن یہ بات بھی محسوس کی جارہی تھی کہ صحافت سے وابستہ سینئر صحافی  سوشیل میڈیا انفلوئنسر اور سوشیل میڈیا ورکر کے سامنے  خود کو ایک طرح کاکم تر شخص محسوس کررہے ہیں۔ سینئر صحافیوں کی یہ بے بسی صحافت کے لئے سوشیل میڈیا سے زیادہ خطرناک ہے ،ایسے میں ہمیں مزید کام کرناہوگااور ہم صحافت جیسے جمہوری ستون کوبچانے کیلئے مزیدکام کرنے کیلئے تیار ہیں۔اور یقینا جیت ہماری ہوگی اور ہر قسم کامنفی پروپگنڈا ہارے گا۔سبھوں نے نعرہ لگا’’ صحافت زندہ باد‘‘  ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے