ذاکر حسین
بانی: الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ)
کوئی تحریک متعدد نسل در نسل منتقل ہو کر کامیابی کی دہلیز عبور کرتی ہے۔ صبر، استقامت، حوصلے اور ہمت کے ساتھ اپنی سیاسی طاقت کو بچا کر اور محفوظ کرکے رکھنا ہوگا۔ ایک مبینہ انکاؤنٹر کے بعد وجود میں آئی راشٹریہ علماء کونسل آج اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہی ہے۔ آج ایک سیاسی پارٹی کو بے شمار مشکلات اور چیلنجیز کا سامنا ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہیکہ سولہ سال میں ہی ہم اپنے اوپر لگے ایک کاری زخم کو پوری طرح سے فراموش کر چکے ہیں۔ حالانکہ کوئی بھی تحریک وقت مانگتی ہے، قربانی مانگتی ہے، سب سے بڑی بات تحریک متعدد نسل در نسل منتقل ہو کر کامیابی کی آغوش میں پناہ گزیں ہوتی ہے۔
راشٹریہ علماء کونسل ایک تحریک ہے، ایک ایسی تحریک جس نے مسلمانوں کے اندر سیاسی شعور پیدا کیا۔ اسی تحریک کی وجہ سے مسلمانوں کا ایک حصہ آزادی کے بعد سے اپنے اوپر ہو رہی زیادتیوں اور ناانصافیوں کو نہ صرف شدت سے محسوس کیا، بلکہ اپنے اوپر ہو رہے مظالم کی جرأت سے مخالفت کی۔ اسی تحریک کی وجہ سے ضلع بھر کے مسلمانوں میں مسلم قیادت کا نظریہ پروان چڑھا۔ ہمارا مسئلہ ہم اپنے قائد میں فرشتوں والی صفات تلاش کرنے لگ جاتے ہیں، وہی تحریک کے بانی جناب عامر رشادی صاحب کے ساتھ ہوا، ہم نے ان کی بڑی بڑی خوبیوں کو نظر انداز کیا اور معمولی معمولی باتوں کو ایشو بنانے لگے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہئے کہ مذکورہ شخص نے اعظم گڑھ کے لوگوں کیلئے جو قربانیاں اور خدمات پیش کیں، اس کو فراموش کرنا، مطلب ہم کہیں نہ کہیں اخلاقی تنزلی کے شکار ہیں۔ کوئی بھی شخص ہو، مشکل اوقات میں آپ کا مضبوطی سے ہاتھ پکڑے، اس ہاتھ کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔ بے شک مولانا محترم کی قربانیاں، خدمات تاریخ کے اوراق میں درج ہوں گی اور آنے والی نسلیں قوم کیلئے ان کی فکر، ان کے خواب کو شرمندہ تعبیر کریں گی۔
آج ضرورت ہیکہ اعظم گڑھ کے لوگوں کو اپنی تحریک، اپنی سیاسی طاقت کو مضبوط کرکے یہ ثبوت پیش کرنا ہے کہ ہم بیدار ہیں، ہم باشعور قوم ہیں، ہم اپنی تحریک اپنے قائد کو نہیں بھولے ہیں۔
