از قلم۔ ذوالقرنین احمد 

 

مکرمی حضرات!

مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات کا دور شروع ہے اور مہایوتی کے مقابلے میں مہا وکاس آگھاڑی پوری قوت کے ساتھ تشہیری مہم میں جٹی ہوئی ہیں۔ مہا یوتی بھی جو بی جے پی کے ذریعے مختلف پارٹیوں سے خریدے ہوئے امیدواروں کو ساتھ لے کر مہاراشٹر میں حکومت سازی کے لیے پوری کوشش کر رہی ہے۔ مسلمان ہمیشہ سے ووٹ بینک بنتا رہا ہے’ اور آج بھی جن سیکولر پارٹی پر مسلمانوں نے بھروسہ کیا اس نے مسلمانوں کے فیصد کے مطابق امیدواروں کو ٹکٹ نہیں دیا، نہ ہی حصہ داری کی بات کرنے والے افراد ان سیکولر پارٹیوں کو پسند ہیں۔ جو حصہ داری اور سوال کرنے کی جرأت رکھتا ہے ایسے افراد کو یہ سیکولر پارٹیاں رستے سے لگا دیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کو ملک میں مضبوط نہیں ہونے دیا گیا، بلکہ فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کر کے دونوں ہی پارٹیوں نے اپنے اپنے ووٹروں کو متحد کرنے اور ووٹ حاصل کرنے کی سیاست اپنی چالاکی سے کی ہے کہ مسلمانوں کو سیکولر امیدواروں کا ساتھ دینا ان کے لیے مجبوری بن گیا اور آج تک یہ سلسلہ چلتا آرہا ہے۔

کسی اکثریتی آبادی میں یا اسمبلی حلقۂ میں اگر مسلم قیادت اپنے پیر جمانے کی کوشش کرتے بھی ہے تو وہاں سے مختلف سیکولر پارٹیاں اپنی پارٹی سے اس مسلمان کے خلاف مسلم امیدوار کو کھڑا کر دیتی ہیں جس کی وجہ سے زعفرانی عناصر اقتدار میں آجاتے ہیں اور مسلمان آپس میں دست و گریباں ہوکر اپنے پیرووں پر کلہاڑی مارنے کا کام کرتے ہیں۔ یہی سلسلہ اور حالات آج مہاراشٹر کے اسمبلی انتخابات میں دیکھنے مل رہا ہے اس کے نتائج کیا ہوگے یہ اس وقت کہنا مناسب نہیں لیکن یقینی ہے کہ نقصان مسلمانوں کا ہوگا اگر مسلمان سیاسی شعور کے ساتھ اور حکمت عملی کے ساتھ متحد ہوکر کسی ایک امیدوار پر متفق ہوگئے تو پھر مہاراشٹر میں ہمارے لیے آواز اٹھانے والے کچھ لیڈران اسمبلی میں پہنچ سکتے ہیں۔

آئیے ایک اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ

لیڈر کسے کہتے ہیں؟ 

اکثر ہمارے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئیں ہے کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جو بڑے بڑے لیڈروں کے پیچھے گھومتا ہے یا اسکے آگے پیچھے گھومتا ہے، یا پھر اس کے ساتھ تصویر کھینچوا لیتا ہے اور محلے میں کبھی کبھار اپنے پارٹی کے لیڈر کے ساتھ گلی محلہ میں موٹر گاڑی پر گھومتا ہے منہ میں پان ہوتا ہے ہاتھ میں سیگریٹ اور سفید کپڑے یہی لوگ ہماری نظر میں لیڈر کہلاتے ہیں۔

جبکہ حقیقت میں لیڈر، قائد ،رہنما و رہبر ایسا شخص کہلاتا ہے جو عوام کے بیچ میں رہ کر ان کی خدمت کرتا ہے ان کی پریشانیوں کو حل کرتا ہے ان کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوتا ہے اپنی قوم کے حالات کو درست کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے گلی محلہ اور شہر کے حالات سے واقفیت رکھتا ہوں اور اپنی قوم کی آواز پر لبیک کہتا ہوں، لیڈر وہ ہوتا ہے کہ عوام میں سے ایک عام شخص بھی اس سے اپنے شکایت بیان کر سکتا ہوں ایک مزدور بھی اس سے یہ سوال کرنے کی ہمت رکھتا ہو کہ تم نے ہمارے مطالبات کو کیوں پورا نہیں کیا، قائد وہ ہوتا ہے جو اپنی قوم اپنے مذہبی شعائر کی حفاظت کے لیے ہر وقت کھڑا ہو جو سیکولر پارٹیوں کے ہائی کمان لیڈران سے اپنی قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دو ٹوک گفتگو کر سکیں، قائد وہ ہوتا ہے جو نبی ﷺ کی ناموس پر اپنی پارٹی سے یہ کہنے کی جرأت رکھتا ہو کہ تم مسلمانوں کے مسئلہ پر خاموش کیوں ہو تم نے یہ مسئلہ اسمبلی میں اٹھانا ہے تم نے اس بات کا ذکر لوک سبھا میں کرنا ہے یہ کہنے کی جرأت ہونی چاہیے۔

لیکن آج مسلمانوں میں قائد نہیں بلکہ سوداگر پیدا ہو رہے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اپنی قوم کا سودا کر رہے ہیں وہ بھی چند پیسوں میں قوم کے ووٹوں کی خرید و فروخت کرنے میں لگے ہوئے ہیں مسلمانوں کے ووٹوں کو بانٹنے اور کاٹنے کے لیے جنھوں نے ظالم طاقتوں اور زعفرانی عناصر سے ملکر مسلمانوں کا سودا کر لیا ہے۔ جی ہاں آج مہاراشٹر میں اسمبلی انتخابات میں ایسے افراد موجود ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ووٹوں کو تقسیم کرنے کے لیے فرقہ پرست پارٹیوں سے گٹھ جوڑ کیا ہے صرف اس لیے کہ مسلمانوں کے ووٹ تقسیم ہوجائیں اور اس کا فائدہ فرقہ پرست پارٹی کو ملے۔ ایک ایک اسمبلی حلقۂ سے بی جے پی نے ایسے مسلم منافق صفت امیدوار کھڑے کیے ہیں جن کا سیاست و قیادت اور زمینی سطح پر کوئی ایک کام بھی اپنی قوم کے حق میں مفید نہیں ہے اور نا ہی انھوں نے کبھی سیاست کو سمجھا ہے۔ نا ہی وہ کوئی سماجی کارکن ہے نا ہی قوم کے لیڈر کہلانے کے لائق ہے یہ وہ افراد ہے جو قائد نہیں بلکہ قوم کے سوداگر ہے۔ جو مسلمانوں کے تحفظ اور اسلامی اقدار شعائر اسلام کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں جو پالیسیاں مسلمانوں کے خلاف بی جے پی نے تیار کی ہوئی ہے جس کے بہت سارے منصوبوں میں فرقہ پرست پارٹی کامیاب بھی ہوچکی ہے اور اب اگلا قدم مسلمانوں کی سب سے بڑی وقف کی زمینوں کو چھیننے اور ان کی شہریت کو چھیننے کی ہیں۔ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی پالسی تیاری ہوچکی ہے۔ این آر سی کروانے کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

لیکن آج بھاجپا کے ایجنٹ جو اپنے آپ کو مسلمانوں کا قائد سمجھتے ہیں یا رہنما ہونے کا ڈرامہ کرتے ہیں اس بات سے واقف نہیں ہے کہ جب ظلم و ستم شروع ہوگا تو ان کی نسلیں بھی اس کا شکار ہوگا۔ یہ فرقہ پرست پارٹی ہندوستان کو دوسرا اسرائیل بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ ووٹوں کے سوداگر منافق جو مسلمانوں کے ووٹوں کو خرید و فروخت کرنے والے ہیں ایسے لیڈروں سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے یہ لوگ اب آپ کے ووٹوں کو خریدنے کے لیے پیسوں کا لالچ دینگے، کھانے پینے کی پارٹیاں شروع ہوچکی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے قوم کے بارے میں فکر مند ہوجائے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچیں اپنے مذھبی آزادی کے بارے میں سوچیں مسلم پرسنل لاء اور وقف کی زمینوں کے بارے میں سوچیں اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے بارے میں غور و فکر کریں کہ یہ اپنے آپ کو قوم کا لیڈر کہلانے والے خودساختہ لیڈران مسلمانوں پر جب حالات آتے ہیں اس وقت کہا ہوتے ہے جب نبی کی ناموس کا مسئلہ آتا ہے تو یہ کونسے بل میں گھس جاتے ہیں؟ ان تمام مسائل کو ہم سامنے رکھتے ہوئے اپنے رائے دہی کا استعمال کریں اور سیکولر امیدوار کو متحد ہوکر ووٹ کریں جو جیت کے قریب ہو اس کا ساتھ دیں۔

 مے بھی پیتے ہیں توبہ بھی کرتے ہیں!

یہ بھی جاری وہ بھی جاری !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے