(بیاد تابش مہدی مرحوم)
ریاض قاصد
موت کے آگیا جو زیر دام
مقتدی ہم تھے اور وہ تھا امام
اپنی خودداریاں نہ کیں نیلام
اس سے الجھی جو گردش ایام
راست گوئی سے اس کو بس تھا کام
آگہی سے بھرا تھا اس کا جام
اس کے فن پارے بولتے ہیں سنو!
ہے مسلم ادب میں اس کا مقام
اس کی رحلت پے دل ہوا واقف
آج تک بس سنا تھا درد کا نام
اس کی یادیں ہیں مجھکو گھیرے ہوئے
اس کی عظمت کو کر رہا ہوں سلام
ہم نے اس سے کیا ہے کسب فیض
ہم سے پوچھو ادب میں اس کا مقام
تھی زباں مشک سے دھلی اس کی
خشبوؤں میں بسا تھا اس کا کلام
نثر میں التزامِ حسنِ ادب
شاعری اس کی سر بہ سر الہام
!مہرباں کو مرے اے ربِ کریم
خلد میں ہو نصیب اعلیٰ مقام
اس لئے صبر آ چلا ہے مجھے
کب کسی کی حیات کو ہے دوام

