کتبہ ۔ محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی
رجال اولو العزم ،مرد آہن تاریخ میکر ،شجاع ،باسل ومغوار، بےباک اور حق پر استقامت رکھنے والے ،حق شناس وراہ حق پر چلنے والےپر مصائب و آلام ،چیلنجز اور تحدیات کوئی نئی بات نہیں ہے، ڈرانے دھمکانے ،نیچے گرانے،ذلیل کرنے کی ناروا کوششیں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں، حالات چاہے کیسے بھی ہوں، کتنا ہی سپر پاؤر، اسٹیٹس اور جتھے والے خصیم، عدو لدود ہوں یہ رجال اولو العزم نہ گھبراتے ہیں اور نہ گھگھیاتے ہیں ۔ یہ اہل استقامت وسالک حق توحید پرست ہوتے ہیں صرف اللّٰہ سے ڈرتے ہیں ،اور ہاں لیکن ابلہ فریب مفسد شر انگیز کاخم ٹھونک کر مقابلہ بھی کرتے ہیں۔
محترم دوست۔ ،صدق وصفا کا راستہ یا راہ حق پر چلنا اتنا آسان نہیں ہے یہاں تو کانٹے چبھنے کیلئے ،چٹان ٹکرانے کیلئے ،اور آندھیاں اکھاڑ پھینکنے کے لئے پہلے سے ہی تیار ہوتے ہیں ۔ اور مخالفتیں سر اٹھائے راہی حق کے گھات میں رہتی ہیں ، شوک وعوسج سے پُر یہ راستہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور زخم خوردہ ونیم مردہ کرنے کے تاک میں رہتا ہے ، لیکن فولادی عزم رکھنے والے کبھی بھی موقف کا سودا نہیں کرتے ہیں ۔ باطل کے سامنے جھکتے نہیں ہیں ، طوفان حوادث سے لڑنا جانتے ہیں ، آندھیوں کا رخ موڑ دینے کا ھنر رکھتے ہیں ، رعونت سی تنی گردنوں کو مروڑ نے کا گر بھی رکھتے ہیں ،لیکن ان سب کے باوجود اپنے حصے کی شمع جلانے میں مشغول رہتے ہیں ۔
شکوۂ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
۔ عدو شرے بر انگیزد کہ خیر مادراں باشد۔ ( یعنی بسا اوقات دشمن شر کو ابھارتا ہے اور اس میں ہمارے لیے خیر کا پہلو نکل آتا ہے۔ ) اہل حق ،حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل کاورد کرتے ہوئے نغمہ سراں ہوکر کہتےہیں ۔
وہیں سے ہے تعمیر نو کی بشارت
جہاں شاخِ گل کو قلم دیکھتے ہیں ۔
محترم قارئین ۔ اصل بات شعور وآگہی فکر ونظر، اسٹینڈ وموقف کا ہے ، کفاح ونضال کا ہے ،جہد مسلسل اور سعی پیہم کا ہے ،شوق سفر وذوق نظر کا ہے ، کوئی تاریخ کے سفر پر نکلے ، ہسٹری میکر بنے ،راہ حق کا راہی بنے تو زمانہ کبھی آسانی سے انہیں راستہ نہیں دیتا ،راستےمیں جھاڑ جھنکاڑ ،سمندرصحراء قاحلہ وارض اجادب ،خارزار ،چٹانیں کھائیاں موڑ ،ٹرننگ پوائنٹ ، نشیب و فراز ، ۔۔۔۔۔سبھی کچھ آتے ہیں ،دار ورسن تو اہل کمال کا ہی نصیب ہے لیکن راہئ حق سچے اور پکے موقف واسٹینڈ کا مالک جبال راسیات کے مانند جما وڈٹا رہتا ہے ۔
ولا تروغوا روغان الثعالب ۔
بلکہ اہل حق کے اوصاف ۔ ع
نہیں یہ شان خودداری چمن سے توڑ کر تجھ کو
کوئی دستار میں رکھ لے ،کوئی زیب گلو کر لے ۔
جبکہ اس کے بر خلاف جنکا نہ موقف واسٹینڈ واضح ہوں اور نہ فکری نضج ہوں بلکہ منافق وذو الوجھین ہوں ،دوسرے کے ترقی و عروج سے حسد میں دم گھٹتا ہوں حاسد اور باغض ہوں تو اس کے لئے کوئی آزمائش نہیں کوئی چاہے اسے دبا لے اور وہ فوم کی طرح دب جاۓ کوئی چاہے تو اسے جھکا لے اور وہ شاخِ تر کی طرح جھک جاۓ کوئی چاہے تو اسے اپنی مرضی کے مطابق موڑ لے اور وہ موم کی طرح مڑ جاۓ کوئی چاہے تو اسے خرید لے اور وہ دکان کا سودا بنکر بک جائے کوئی چاہے تو اسے اپنی رائے کے مطابق ڈھال لے اور وہ پگھلے ربڑ کی طرح قالب میں ڈھل جائے اور کوئی چاہے تو اسے اپنا پالتو خادم وغلام بنا لے اور وہ پرندے کی طرح پنجرۓ میں آرام سے بیٹھ جاۓ ،ایسے شخص کے لئے دنیا گل گلزار ہے لذیذ اور لطف اندوز ہے سرور انگیز اور دل نواز بھی ہے ۔ مگر جوسورج مکھی نہ ہوں جو ہر شمع کے پروانے نہ ہوں ،جو سچ جھوٹ میں سر جھکاتا نہ ہوں سیاہ وسفید کی تمییز رکھتا ہوں ان کے لئے زندگی بظاہر بڑی کٹھن اور ان کی قسمت دار ورسن ہوتی ہے لیکن حقیقت میں وہ شاداں وفرحاں ہوتا ہے ۔ ان کے دل کی دنیا آباد ہوتی ہے ،سعادت وخوشحالی ان کا مقدر ہوتی ہے ۔
دوستوں! معجزہ ہمیشہ اس وقت رونما ہوا جب اسباب مخالف ہوگئے تب رب الارباب مالک الارض والسماوات مسبب الاسباب نے دستگیری کی ،دریا کی موجیں اور پیچھے دشمن کی فوجیں نہ ہو تو راستے کبھی نہیں نکلتے ۔ لہذا جو لوگ محنت کرتے ہیں ۔وہ کدکاوش کرکے بتوفیق الہی ترقی کرتے ہیں آسمان چھولیتے ہیں ۔ جبکہ مبغض ومفسد، سست وکسلمند عیش وتنعم میں پلنے والے عبد الدرہم تو صرف حسد کرتے ہیں اور ہمیشہ عذاب حسد وحقد سے جلتے بھنتے کباب ہوۓ جاتے ہیں اور آخرت کو سدھار جاتے ہیں اس حال میں کہ ان کی آنتوں تک بغض وعناد حسد ودشمنی سرایت کر چکے ہوتے ہیں ۔ فاستراح منہ العباد والبلاد ۔
لہذٰا اہل عزیمت کو چاھئے کہ وہ سعی پیہم اور جہدِ مسلسل ،کے ساتھ دعوت وخدمت دین میں لگے رہے یہ مخالف تو کانچ کے پیکر ہے دیوار سنگ سے ٹکراتے ہے اورآخر کار انجام کو پہنچتے ہیں ۔ علم وعمل دعوت وصبر کا مشن آگے بڑھاتے رہئیے اللّٰہ آپ کو شاد رکھے ۔
نضر الله امرا سمع مقالتي فوعاها وحفظها وبلغها ۔اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو میری بات کو سنے اور توجہ سے سنے، اور یاد کرکے لوگوں تک پہنچا دۓ ۔
