ڈاکٹر عبد الغنی القوفی
استاد جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر وصدر عمومی راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال
مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں واقع دنیا کی مقدس ترین مسجد، ہر مسلمان کے دل میں ایک خاص مقام رکھتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس مسجد کی وسعت اور ترقی کا سفر جاری رہا ہے، جس کی حالیہ کڑی سعودی عرب کی جانب سے کی جانے والی تیسری عظیم الشان توسیع ہے۔ یہ توسیع اپنی وسعت، تعمیراتی حسن، اسلامی ثقافت کے رنگ، اور جدید سہولیات کے امتزاج کی بدولت ایک بے مثال شاہکار بن کر سامنے آئی ہے۔ اس مضمون میں ہم اس تاریخی منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔
پس منظر اور ضرورت:
دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان ہر سال حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں زائرین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے باعث مسجد الحرام میں جگہ کی تنگی محسوس ہونے لگی۔ سعودی حکومت نے عبادت گزاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے مسجد کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع کا منصوبہ بنایا۔ اس کا مقصد مسجد کی گنجائش کو بڑھا کر ایک وقت میں 20 لاکھ سے زائد افراد کو عبادت کا موقع فراہم کرنا تھا۔
معماری اور ڈیزائن: اسلامی ورثے کا جدید اظہار:
توسیع کے دوران اسلامی فنِ تعمیر کے روایتی رنگوں کو جدید تکنیکی صلاحیتوں کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ نئے تعمیراتی حصے میں فن تعمیر کی درج ذیل خصوصیات نمایاں ہیں:
– گنبدوں کی تعمیر:
مسجد الحرام کی تیسری توسیع میں 22 دیدہ زیب گنبد شامل کیے گئے ہیں، جن میں سے 12 متحرک شیشے کے گنبد ہیں جو ضرورت کے مطابق کھولے اور بند کیے جا سکتے ہیں، جبکہ 6 مستقل شیشے کے گنبد چار درمیانی ہالز میں واقع ہیں۔ یہ گنبد نہ صرف روشنی اور ہوا کے قدرتی بہاؤ میں مدد دیتے ہیں بلکہ ان کا خوبصورت ڈیزائن اسلامی فنِ تعمیر کی اعلیٰ مثال پیش کرتا ہے۔
– دروازوں کی دلکشی:
مسجد کے دروازے اسلامی تہذیب و ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہر دروازہ سنگِ مرمر اور شیشے سے مزین ہے، جبکہ اندرونی چھت لکڑی کی ہے، جسے قیمتی پتھروں سے سہارا دیا گیا ہے۔ مستقل دروازوں کا وزن 20 ٹن تک ہے، اور انہیں خاص تکنیک سے اس طرح نصب کیا گیا ہے کہ درجہ حرارت مناسب ہونے پر قدرتی ہوا کا گزر ممکن ہو سکے۔
– بلند و بالا عمارت:
توسیع شدہ عمارت ایک بلند و بالا طرزِ تعمیر رکھتی ہے، جس میں کھلے آسمان اور کشادہ مقامات کا منظر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں شاہانہ سنگِ مرمر اور شیشے کی عمدہ کاریگری زائرین کا استقبال کرتی ہے، جو روحانیت کے احساس کو مزید تقویت بخشتی ہے۔
جدید سہولیات: عبادت گزاروں کے لیے آرام دہ ماحول
مسجد الحرام کی تیسری توسیع میں جدید سہولیات کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ عبادت گزاروں کے لیے سہولتوں میں اضافہ ہو سکے:
– ایئر ایمبولینس سروس:
ایک جدید ہیلی پیڈ خصوصی طور پر ایئر ایمبولینس سروس کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی حالات میں زائرین کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ حال ہی میں، اس ہیلی پیڈ پر پہلی بار ایئر ایمبولینس نے کامیاب لینڈنگ کی، جو اس سروس کے آغاز کی علامت ہے۔
– گنجائش اور نقل و حرکت:
توسیع کے بعد مسجد الحرام میں ایک وقت میں 20 لاکھ افراد عبادت کر سکتے ہیں، جبکہ ہر گھنٹے میں پانچ لاکھ سے زائد افراد کے آنے جانے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔
– زائرین کے لیے آرام دہ سہولیات:
تمام منزلوں پر جدید ایئر کنڈیشننگ کا نظام نصب کیا گیا ہے تاکہ گرمیوں میں بھی زائرین آرام دہ ماحول میں عبادت کر سکیں۔ علاوہ ازیں، صاف پانی کے فوارے، وضو خانے، اور مختلف مقامات پر سائے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔
ثقافتی اور روحانی اثرات:
یہ توسیع نہ صرف ایک تعمیراتی منصوبہ ہے بلکہ اسلامی ثقافت اور روحانی ترقی کی علامت بھی ہے۔ ہر گوشہ اسلامی تہذیب اور تعمیراتی حسن کی گواہی دیتا ہے۔ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کو اب زیادہ آرام دہ ماحول اور پرسکون فضاء میسر ہے، جس سے ان کی عبادات میں مزید خشوع و خضوع پیدا ہوتا ہے۔
روایت اور جدت کا حسین امتزاج:
مسجد الحرام کی تیسری سعودی توسیع اسلامی فنِ تعمیر، جدید تکنیکوں اور عبادت گزاروں کی سہولتوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف مسجد الحرام کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے بلکہ پوری مسلم امہ کے لیے باعثِ فخر بھی ہے۔
یہ توسیع زائرین اور عبادت گزاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سہولت فراہم کرتی ہے اور اسلامی ثقافت کی عظمت کو دنیا کے سامنے پیش کرتی ہے۔ سعودی حکومت کا یہ اقدام نہ صرف ایک تعمیراتی کارنامہ ہے بلکہ ایک روحانی سفر کا سنگِ میل بھی ہے، جو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک مشترکہ عبادت گاہ میں مزید قریب لے آتا ہے۔
اللّٰہ مسجد الحرام کی عظمت قیامت تک قائم و دائم رکھے، اور یہاں آنے والے زائرین کی ساری عبادتیں قبول فرمائے۔ آمین۔

