بیدر۔ 28؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): آج بیدر میں آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے وقف ترمیمی قانون 2025ء کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو جامع مسجد بیدر سے ہوتی ہوئی براہ گاوان چوک، مین روڈ، شاہ گنج ،آخرکار امبیڈکرسرکل پہنچی جہاں ایک جلسہ کا اہتمام ہوابعدازاں ایک میمورنڈم ڈپٹی کمشنر بیدر کے توسط سے صدرجمہوریہ ہند کو روانہ کیاگیااور وقف ترمیمی قانون کے تعلق سے اپنے تحفظات کا اظہار کیاگیا۔اور وقف قانون کو ختم کرنے کامطالبہ بھی مبینہ طورپر شامل رہا۔
اس موقع پر اس احتجاجی ریلی کے قائد جناب ڈاکٹر عبدالقدیر رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے ریلی کی رہنمائی کرنے والے قائدین اور والنٹیرس کے علاوہ ضلع انتظامیہ کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ’’آج بے حد پرامن ریلی بیدر میں نکالی گئی۔ وقف ترمیمی قانون کے تعلق سے اس ریلی کے ذریعہ ناراضی کاظہارکیاگیا۔ وقف جائیدادیں دراصل خدا کی اورمستحق ترین غریبوں کیلئے وقف ہیں۔ گورنمنٹ پراپرٹی ہرگز نہیں ہیں۔ اس میں دخل دینا اوراس کو قانون میں تبدیل کرنا غلط ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر نے بتایاکہ آج ہمارے ساتھ ہندومسلم کرسچین اور سکھ ریلی میں موجودتھے۔ میں نوجوانوں کا پولیس کا اور ضلع انتظامیہ کاشکریہ اداکرتاہوںکہ ان کے تعاون کی بدولت یہ ریلی اختتام کوپہنچی۔ موصوف نے بتایاکہ پہلگام کے شہیدوں کو بھی تعزیت پیش کی گئی۔ جن درندوں اور بدمعاشوں نے ان 26(یا28)سیاحوں کاقتل کیاہے، حکومت ہند انہیں چن چن کرسولی پرچڑھادے۔ تاکہ اس عبرت ناک سزا کے بعد کسی کو بھی ملک ِ عزیز ہندوستان کی طرف دیکھنے کی ہمت نہ ہو۔

