محمد عبد اللہ جاوید

بھارت کی آزادی کے بعد‘ وطن سے محبت اور اس سے اٹوٹ تعلق کا ایک منفرد معیار طے پایا تھا۔جس میں ہر بھارتی شہری کے عزت ووقار اور ملک کی خیرخواہی کے لئے اس کے تعاون  کی بڑی اہمیت تھی ۔یہ معیار‘پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو جیسی زہریلی پالیسی کے بالکل خلاف تھا جس کے  تحت انگریزوں نے ہم پر جبراً حکومت کی تھی ۔ہمارے بزرگوں نے بخوبی محسوس کیا تھا کہ یہ پھوٹ اور انتشار‘ ہماری تہذیبی شناخت ‘اتحاد و اتفاق ‘ باہمی عزت واحترام اور  یگانگت کے لئے سم قاتل ہے۔

آج جب کے ہم نے ایک آزاد اور خود مختار ملک  کی حیثیت سے آزادی کے ۷۷ سال مکمل کرچکے ہیں‘ اس موقع سے ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہئے کہ‘ کہیں ہم انجانے میں اسی پھوٹ اور انتشار کے راستے پر تو نہیں چل رہے ہیں جس کی ایک کڑوی کسلی تاریخ رہی ہے؟جس کا ذکر سماج کا سوچنے سمجھنے والا طبقہ اور حزب اختلاف  کی سیاسی پارٹیوں کی جانب سے بہ تکرار ہوتا رہا ہے۔کیونکہ اگر ہم پچھلے دس بارہ سالوں ہی  کا بے لاگ جائزہ لیں تو بڑی قابل تشویش صورت حال ہمیں بے چین کردیتی ہے۔ہجومی تشدد‘ علاقائیت کا بڑھتا رجحان‘ اقلیتوں کے روز افزوں بڑھتے مسائل‘ شہریت سے متعلق سی اے اے اور این آر سی پر بحث ومباحثہ‘کسانوں کا مخصوص پالیسوں کی وجہ سے غم و غصہ‘ انتشار اور پھوٹ کو فروغ دینے والی فلمیں ‘بابری مسجد‘طلاق ثلاثہ اور وقف  پر فیصلے‘وغیرہ۔ یہ محض سیاسی‘سماجی  یا مذہبی معاملات نہیں بلکہ یہ سیدھے سیدھے ہمارے قومی ضمیر اور اجتماعی وجود پر حملہ ہیں۔

پہلگام کے حالیہ شرمناک دہشت گرد حملے نے ہمارے زخموں کو مزید تازہ کیاا اور قومی تانے  بانے کو بری طرح متاثر کردیا۔بجائے اس کے کہ ہم ایک دوسرے کے دکھ درد کا سہارا بنتے‘ ایک دوسرے کے درپے ہوگئے؟ تادم تحریر‘ ملک بھر میں مسلمانوں کو حراساں وپریشان کرنے ‘انہیں زدوکوب کرنے کے دسیوں واقعات پیش آئے ہیں۔ہر وہ ظلم جو ہم ایک دوسرے کے خلاف کرتے ہیں‘ چاہے وہ کتنا ہی چھوٹا یا بڑا کیوں نہ ہو‘وہ ہمارے خوابوں کے بھارت کو بڑا بھاری نقصان پہنچاتا ہے ۔

کیاان  واقعات سے یہ نہیں معلوم ہورہا ہے کہ ہم نہ چاہتے ہوئے ‘جانے انجانے میں اسی جال میں پھنستے جارہے ہیں  جس کے خلاف ہم ایک جٹ ہوکر انگریزی استعمار  سے نبرآزما ہوئے تھے؟ اس صورت حال کو صبر کے ساتھ برداشست کریں یا یہ کہ لوگوں کو ان کی ذات پات‘ زبان اور علاقہ کی بنیاد پر بانٹنے لگیں‘ہر دو صورت قابل مذمت ہے۔نہیں تو پھر اسی پھوٹ اور انتشار کے خلاف ماضی میں انگریزوں کے خلاف ہماری منظم جدوجہد کا کوئی تک ہی نہیں بنتا۔یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آزادی کے لئے ہماری جدوجہد کا محرک صرف سیاسی نہیں تھا بلکہ  وہ اعلیٰ اخلاقی و تہذیبی معیارات تھے۔

  جن کے لئے پھوٹ ڈالو اور راج کرو والی پالیسی کسی صورت میل نہیں کھاتی تھی۔ ہم نے ہمیشہ سے عدل وانصاف‘ مساوات اور محبت وبھائی چارہ کے فروغ کو اپنا وطیرہ بنایا ہے۔بعد ازاں ‘انہیں اخلاقی اقدار کو دستور ہند میں شامل کرکے ان کا ہمیں امین بنادیا گیا۔

وطن سے محبت کے تقاضے نعرے بازی اور پرچم بلند کرنے سے کہیں آگے ہیں۔وہ یہ  کہ ہر شہری کے حق میں کھڑا ہوا جائے‘ ہم میں جو کمزور ہے اس کا سہارا بنا جائے‘ خوشحالی اور بدحالی میں ساتھ دینے کی حتی الوسع کوشش کی جائے اور کسی کو محض اس کی شناخت کی بنا بحیثیت بھارتی شہری کسی کمترمی میں مبتلا نہ ہونے دیا جائے۔

آج ‘ہمیں ہر طرح کے پھوٹ اور انتشار سے کنارکشی اختیار کرتے ہوئے‘وطن عزیز کی ہمہ جہت ترقی کے لئے  آپسی اعتماد اورتعاون کی فضا بحال کرنے اور ہر شہری کو بااختیار بنانے  پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔فیصلہ ہمارا ہے‘ اوریہ وقت فی الفور عمل کا ہے۔ذیل کی مثالیں اس ضمن میں ترغیب کا ذریعہ بن سکتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملک ‘ اپنی رعایا کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے ‘ہر فرد میں خود اعتمادی پیدا کرے اور اس کی قوت استعداد کے مطابق میدان کار فراہم کرے تو وہ دنیا کے نقشے میں اپنا ایک نمایاں مقام بنا سکتا ہے:

  • سنگاپور: ہر شہری کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ ملک دنیا میں مالیات‘ ٹیکنالوجی اور تعلیم کا مرکز بنا ہے۔
  • جنوبی کوریا: انسانی وسائل میں اپنا سب کچھ لگاتے ہوئے جنوبی کوریا دنیا کے نقشے میں ٹیکنالوجی ‘ آٹوموبائلز اور کلچر جیسے میدانوں کا امام بنا ہے۔
  • جرمنی:  جنگ عظیم دوم کے بعد ‘اپنے شہریوں کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بناتے ہوئے یہ ملک آج یوروپ کی سب سے بڑی معیشت بنا ہے۔
  • جاپان: جنگ عظیم دوم کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے اس نے اپنے ہر شہری کو اہمیت دی‘ اور نتیجتاً یہ ملک آج دنیا میں الیکٹرانکس‘ آٹوموبائل اور روبوٹکس جیسے میدانوں میں نمایاں مقام رکھتا  ہے ۔
  • چین: اپنی وسیع آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیاں پر توجہ دیتے ہوئے‘ان کی محنت وجانفشانی کو یقینی بناتے ہوئے‘یہ ملک کاروبار‘ تعلیم‘ صنعت وحرفت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی واشاعت  میں ایک عالمی قوت  کی حیثیت سے اپنا مقام بنالیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی ملک‘ اپنے ہر شہری اور اس کی صلاحیتوں پر یقین کرتا ہے اور ان کی محنت وجانفشانی  کو یقینی بنانے کے لئے انہیں میدان کار فراہم کرتا ہے تو اس ملک کی مثالی ومنفرد حیثیت ‘امکانات کی حدوں سے آگے بڑھ کر ایک ناگزیر حقیقت بن جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے