رپورٹ: ایاز بستوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ادارہ ادب اسلامی ممبرا باشتراک پیام شاعر، ایوان ادب و اااخامہ ادبی فورم کی جانب سے مورخہ 27 اپریل ۲۰۲۵ء کو بنام فخر عالم اعظمی ایک شاندار اعزازی مشاعرے کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں الداعیان کی حیثیت سے عبداللہ مسرور، ایاز بستوی، مومن ہندی اور ذوالفقار صعیدی موجود رہے۔
پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں صاحبِ صدر زبیر گورکھپوری اور صاحبِ اعزاز فخر عالم اعظمی اور ناظم مشاعرہ مسعود حساس کی شال پوشی کی گئی اور ساتھ ہی گلدستہ نوازی کی رسم بھی ادا کی گئی۔
صاحبِ صدر زبیر گورکھپوری نے فخر عالم اعظمی کی خدمت میں منظوم توصیف نامہ پیش کیا جسے ناظم مشاعرہ مسعود حساس نے پڑھ کر سنایا، جسے سن کر سامعین نے خوب دادوتحسین سے نوازا۔
تلاوتِ قرآن اور نعتیہ خراج عقیدت کے بعد نماز عشاء اور چائے کا وقفہ جاری رہا، پھر باضابطہ طور پر غزل کا دور شروع ہوا اور مشاعرہ گیارہ بجے رات تک بڑی آب وتاب اور کامیابی کے ساتھ چلتا رہا۔ مشاعرہ میڈیا بزمِ ساحل شعر و ادب نے پروگرام کا احاطہ کیا۔
ذیل میں شاعروں کے نمائندہ اشعار حاضر خدمت ہیں۔
میرے عیبوں سے بھی تہذیب جنم لیتی ہے
سب کی قسمت میں کہاں اس طرح لغزش کرنا
(صاحبِ صدر زبیر گورکھپوری)
آنے کا جو مقصد تھا وہی فوت ہوا ہے
"ہم لوگ ذرا دیر سے بازار میں آئے”
(صاحبِ اعزاز فخرعالم اعظمی)
یہ زمیں میری رہی یہ آسماں میرا رہا
جب تلک یہ سلطنت یہ ہفت خواں میرا رہا
(اعجاز ہندی)
اک تم بکے تو کون سا ٹوٹا پہاڑ یار
دنیا میں روز بکتے ہیں مردہ ضمیر لوگ
(ناظمِ مشاعرہ مسعود حساس)
زندگی زندگی بھر نہیں مل سکی
زندگی بھر مسافر سفر میں رہا
(خورشید عالم صابری)
جس کی تہ میں غم کی آب وتاب ہے
میری آنکھوں میں وہی تیزاب ہے
(سلیم رشک)
ہے اس کو علم وفن کی کیا ضرورت
مغنی ہے پزیرائی بہت ہے
(ایاز بستوی)
اپنی شادی پہ وہ خوش کیسے نظر آئے گی
اس پہ مرضی تو کسی اور کی لادی گئی ہے
(مسیح الدین نذیری)
اسے پکارو اگر شدت جنون کے ساتھ
وہ تپتے صحرا میں چشمہ ابال دیتا ہے
(عبداللہ مسرور)
ایک مزدور کے بچے بھی بنیں گے افسر
اپنے بچوں کو کدالیں نہیں بستہ دینا
(نہال جالب)
گلدان ہے غزل، سبھی اشعار مثلِ گل
مہکا رہی ہے دل کو برابر تری غزل
(مومن ہندی)
رب سے دوری دنیا داری ہو جس میں
کچھ ہو جائے اس سے رشتہ مت کرنا
(احتشام نشتر)
کس طرح کہوں پیر میں چھالے بھی نہیں ہیں
غم ہے کہ یہاں دیکھنے والے بھی نہیں ہیں
(ذوالفقار صعیدی)
کسی کو ظلم سے تم روک جو نہیں سکتے
دعا کو ہاتھ اٹھانا تو اختیار میں ہے
(توفیق فاخری)
تہذیب مرے سامنے دم توڑ رہی ہے
مٹتا ہوا الفت کا چلن دیکھ رہا ہوں
(اسلم ساحر)
باندھا جو زادِ راہ سفر بولنے لگا
مرنے کے بعد میرا ہنر بولنے لگا
(تابش رامپوری)
چار دن کی زندگی مل کر گزارو دوستو!
کون جانے کون کس سے کب جدا ہوجائے گا
(رفیق چوگلے)
جو بھی بانہیں پھیلائے ہیں اس کے گلے لگ جاتا ہوں
پیار کا جو پیاسا ہو اس کی دل آزاری کون کرے
(سراج غوری)
ہم اہل جنوں خیز بھی دنیائے ہوس میں
بیکار سناتے رہے سعدی کی حکایت
(کاوش صدیقی)
موت کو بھولا ہے ناداں کون ہے
کس کی صدیوں سے بقا موجود ہے
(ساحل بستوی)
اخیر میں صدر صاحب کے خطبۂ صدارت کے بعد مومن ہندی صاحب نے مہمانان و شعرائے کرام اور سامعین کا شکریہ ادا کرکے مشاعرے کے اختتام کا اعلان کیا۔

