بیدر۔ 20مئی (پریس نوٹ): یارانِ ادب بیدر کی اطلاع کے بموجب بیدر (کرناٹک) کے ممتازادیب وشاعر جناب میربیدری کی دکنی شاعری پر مبنی شعری مجموعہ بنام ’’دکنی‘‘ جلد منظر عام پر آرہاہے۔جس میںحمد ،نعت ، منقبت ، غزلیں ، نظمیں اور بیت وغیرہ سارے کے سارے دکنی زبان میں ہیں۔ اورپڑھتے ہوئے بڑا لطف دے جاتے ہیں۔ چند اشعار سماعت کیجئے گا ؎
شب سُلاتئے، اُسے اللہ بولو
دِن اُٹھاتئے، اُسے اللہ بولو
جنور سوچ ریں گرما میں میر
گھانس ہمار اللہ دِنگا
میرمحمد صل علیٰ بولے
اور اسلام کااُن کو دِیا بولے
ایک دن میں بیٹ کو سوچیوں خدایا
ہم نمازاں بھی علی کے جیسے پڑنا
دکنی غزلوں سے چند اشعار دیکھیں ؎
بن گَئْے وِزراء ، سی ایم ، پی ایم اور
ان کولایا ووٹر کچ بھی نئیں
واسطے بیگم کے لوگو
Uppit ہوں ، Sheeraہوں میں
جاری تھی مُو کھلّا رکھ کو
انکل جھٹ سے کونی مارے
جنگ عجیب ہے دیکھو میرے دشمن سے
میں مَرتانئیں اورمَرراچ انے بھی نئیں
کھچڑی اور کھٹا بھی خوب ہے میر
دیکھو مرچاں بھی اچھے تلیں با
کوسے تو کونے میں مررے
ہم سے نئیں اللہ سے ڈر رے
موت کے منہ میں ہو؟میں تو واپس میاں
اچھے اچھوں کو لالیتوں ، تم فیس دیو
پوٹٹا دکن کا ہوں ، دکنیچ رہتی میری شان
میں تیرے منہ کو اور ہات کو لوچ نئیں سکتارے
کسی سے بھی یہاں جھگڑا کرو نکّو
جلیبی تم ہو، کچھ کڑوا کرو نکّو
واضح رہے کہ دکنی شاعری اور دکنی زبان کرناٹک، تلنگانہ، آندھراپردیش ، مہاراشٹر، اور ٹمل ناڈو جیسی ریاستوں میں زمینی سطح پر عام ہے۔ یہاں کی عوامی گفتگو یا جسکو عوامی زبان کہیں گے وہ دکنی ہی ہے۔ حالانکہ یہاں ریاستی سطح پر پانچ علیحدہ زبانیں بولی جاتی ہیں، ان زبانوں پر بھی دکنی کالہجہ عام بات ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’’دکنی‘‘ کے منظر عام پر آنے کے بعد میربیدری کی شاعری کس قدر مقبولیت حاصل کرتی ہے؟

