ندوۃ العلماء میں الشیخ سعید الاعظمی الندوی : حیاتہ و آثارہ مؤلفہ مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی کا اجراء
لکھنؤ۔دوسروں کے لئے قربانی دینا اور دوسروں کے لئے جینا بہت بڑی بات ہے ، مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی اگر چاہتے تو دنیا میں کہیں بھی جا سکتے تھے ، کیونکہ وہ علمی صلاحیتوں کے مالک تھے ، لیکن انہوں نے ندوۃ العلماء سے جو پیمان وفا باندھا وہ آج تک قائم ہے ، ان کے آگے صرف ندوہ ہی تھا ، وہ دار العلوم کی ہمہ جہت ترقی کے لئے سرگرم عمل ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی نے الشیخ سعید الأعظمی الندوی : حیاتہ و آثارہ مؤلفہ مولانا ڈاکٹرمحمد فرمان ندوی ( استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء ) کا علامہ حیدر حسن خاٹونکی کانفرنس ہال ندوۃ العلماء میں اجرا کرتے ہوئے کیا ۔
مولانا بلال حسنی ندوی نے کہا : مولانا اعظمی ہمارے والد مولانا سید محمد الحسنی کے ساتھ ماہنامہ البعث الاسلامی کی ادارت میں شریک رہے ، اور اب ان کی ادارت میں یہ ماشاء اللہ پوری آب و تاب سے نکل رہا ہے ، ان دونوں کو مسلمانوںکے امور سے بہت دلچسپی تھی ، اور عالم اسلام کے حالات پر غور کرنے کے لئے ان دونوں نے اسلامک ورلڈ لیگ( الرابطۃ الدولیۃ الاسلامیۃ ) قائم کی ، گویا یہ رابطہ عالم اسلامی کی خشت اول تھی ، اس لیگ میں عالم عرب کے اسکالر بھی شامل تھے ، اس کا ایک عربی ، اور انگریزی خبرنامہ بھی شائع ہوتا تھا ۔
مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی کے صاحبزادہ مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن ندوی( پروفیسرخواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی لکھنؤ نے اپنی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں اپنے والد کے انداز تربیت ذکر کیا ، اور کہا کہ مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندوی اور مولانا محمد رابع حسنی ندوی سے ایسا گہرا تعلق تھا کہ ان کا ہر اشارہ حکم کے درجہ میں تھا۔
پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹگرل یونیورسٹی لکھنؤ نے کہا ؛ مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی نے ۱۹۹۳ء میں مسلمانوں کی عصری علوم کے فروغ کے لئے انٹگرل یونیورسٹی کو قائم کیا ، میں اس کا گواہ ہوں کہ مولانا کودار العلوم کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی قائم کر نے کی بہت فکر تھی ، آج یونیورسٹی جس شکل میں سامنے ہے ، اس میں مولانا اعظمی کی توجہات شامل ہیں ۔
امام عید گاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا : ہمارے لئے سعادت کی بات ہے کہ استاذ محترم کے حالات و خدمات پر اہم تحقیقی کتاب مؤلفہ مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی کے اجراء کے لئے اس محفل میں شریک ہیں ، یہ کتاب سعید شناسی کا مستند حوالہ ہے ، اس لئے مصنف مولانا سعید الرحمن اعظمی کے خاص تربیت یافتہ شاگرد ہیں ، جس طرح ان کے استاذ محترم نے اپنے شیخ و مربی مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی کے حالات پراپنی اہم کتاب ( ۴۸ سال شفقتوں کے سایہ میں ) لکھی ہے ، اس طرح مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی نے اپنے استاذ پر یہ کتاب لکھی ہے ۔
مصنف کتاب مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا ، جس میں کتاب اور مولانا سعید الرحمن اعظمی کے تعارف پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دار العلوم ندوۃ العلماء کے عظیم سپوت ، ۷۵ سال سے تدریسی ، علمی ، ادبی اور اصلاحی خدمات انجام دینے والی شخصیت مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے حالات پر لکھی گئی کتاب کے اجرا کی محفل ایک رسمی محفل نہیں ، بلکہ یہ احسان شناسی اور قدر افزائی کی محفل ہے ، ہم رب کی بارگاہ میں سراپا شکر و سپاس ہیں کہ اللہ تعالی نے ہم کو اس کا موقع دیا ، اس میں چھ ابواب ،اور ساڑھے پانچ سوصفحات میںہے ، جن میں مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی کے حالات ، ان کی تعلیم ، تربیت ، تدریس ، صحافت ، خطابت ، علمی وادبی خدمات اور ان کے بعض شاگردوں کا تذکرہ اور البعث الاسلامی وا الرائد میں لکھے گئے اداریوں کی فہرست شامل ہے ۔
اس پروگرام کی نظامت مدیر ماہنامہ معارف اعظم گڑھ مولانا عمیر الصدیق ندوی نے کی ،انہوں نے مولانا اعظمی اور ندوۃ العلماء پرسیر حاصل گفتگو کی ، محمد ثمامہ انصاری نے تلاوت کی ، مشہور شاعر ماجد دیوبندی نے نعت پیش کی ، اورعبد الناصر اور سیف انصاری و غیر ہ نے ترانہ ندوہ پیش کیا ، سیدابو الحسن علی حسنی نے تہنیتی نظم پیش کی، اس پروگرام میں مولانا سید عمار حسنی ندوی ، مولانا ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی ، مولانا محمد زکریا سنبھلی ، مولانا عبد القادر ندوی ، مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی ، ڈاکٹر مسیح الرحمن اعظمی ، قاری عبد الحمید ندوی ، مولانا ابو سحبان روح القدس ندوی ، مولانا عتیق احمد بستوی ، مولانا محمد خالد غازیپوری ندوی ، مولانا نیاز احمد ندوی، مولانا عبد العلی فاروقی ، ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی ،مولانا ظہیر احمدصدیقی ندوی ، پروفیسر مشیر حسین صدیقی ،ڈاکٹر محمد شعیب قریشی ، مولانا اسماعیل بھولا ندوی ، مولانا اقبال احمد اعظمی ندوی ، نجم الدین فاروقی ، مولانا کمال اختر ندوی ، مولانا نعیم الرحمن صدیقی ندوی ، مولانا ظفر الدین ندوی ، مولانا محمد فیضان نگرامی ندوی ، مولانا عبد اللہ مخدومی ندوی ، ڈاکٹر ندیم اختر، سید فوزان اختر، حافظ مصباح الدین و غیرہ موجود تھے ۔
