میربیدری، بیدر،کرناٹک۔

ہمارے کَن، حکومت ہے نہ طاقت ہے
ہمیں آگے ہیں ، سیرت ہے نہ صورت ہے

ہمارے بچے عصری مدرسوں میں ہیں
پڑھائی یہ، عبادت ہے نہ بدعت ہے

ہماری زیست ہے اب واسطے تیرے
سعادت ہے ، حقیقت ہے نہ جدّت ہے

اِقامت کا مگر دعویٰ ہے ہم سب کا
نہ ہم میں کچھ عزیمت ہے نہ قامت ہے

یہی قرآں مسیحا بن کے اُتر اتھا
اگر دیکھیں عقیدت ہے نہ دعوت ہے

ہمارا چرخہ کاتا جارہاہے سوت
اضافت ہے ، اجارت ہے ،نہ صنعت ہے

گناہوں کی ڈگر سے اب مرے مولیٰ
پَرے ہوں میں ، نیابت ہے نہ شوکت ہے

جئے ہم جارہے ہیںیار،رب کے بِن
اِشارت ہے ، مدارت ہے ،نہ نصرت ہے

یہی دِن دیکھنے کو زندہ ہیں ہم میر
کہ بھارت میں اِمامت ہے نہ شوکت ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے