بحیثیت انسان اور مسلمان ہماری سماج کے تئیں کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں
عبدالغفار صدیقی
انسان سماجی جاندار ہے۔ اس کی پیدائش ،پرورش،تعلیم ،تربیت ،اس کی معاشی ترقی ،اس کے عروج اور زوال میں سماج کا ایک رول اور کردار ہوتا ہے ۔ہر انسانی سماج کے کچھ مسائل ہوتے ہیں ،اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی انسان ہی آگے بڑھتے ہیں ۔یہ ایک سلسلہ ہے جو ازل سے جاری ہے اور ابد تک جارہے گا ۔اللہ تعالیٰ کے یہاں جن اعمال کی پرشش ہوگی اس میں سماجی امور بھی شامل ہوں گے ۔عمر کن کاموں میں گذاری ؟جوانی کن مشاغل کی نذر کی گئی ؟دولت کیسے کمائی اور کن کاموں پر خرچ کی ؟جو علم حاصل کیا گیا اس پر عمل کہاں تک کیا؟جیسے سوالوں کا تعلق دراصل سماجی امور سے ہی ہے ۔
ہر انسان کی کم از کم دو حیثیتیں مسلم ہیں ۔ایک یہ کہ وہ انسان ہے اور بحیثیت انسان اس کے کچھ فرائض اور حقوق ہیں ،دوسرے یہ کہ وہ کسی نہ کسی مذہب کا ماننے والا ہے اور اس حیثیت میں بھی اس پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔اسلام اپنے ماننے والوں پر جو ذمہ داریاں عائد کرتا ہے ان میں سے نوے فیصد کا تعلق ملک اور سماج سے ہے ،صرف دس فیصد تعلیمات ہیں جو روزہ ،نماز،اور حج وغیرہ سے متعلق ہیں ۔اس کے اوامرو نواہی کا زیادہ حصہ انسانیت کی فلاح و بہبودسے ہی متعلق ہے ،وہ توحید کی دعوت بھی انسان کی عزت نفس اور غیرت کی حفاظت کے لیے دیتا ہے ،اس لیے کہ خالق کو چھوڑ کر مخلوق کے سامنے سرجھکانا انسان کی توقیر کم کردیتا ہے ۔امت مسلمہ کے تعلق سے یہ بات قابل توجہ ہے کہ موجودہ دور میں اس کی توجہ کا مرکز انسان نہیں ہے ،بلکہ امت کا محورو مرکز مسلمان ہیں۔
انسان ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ہم جنسوں کا احترام کریں اور انھیں کسی قسم کی تکلیف اور درد میں مبتلا نہ کریں ،انھیں ایذا نہ پہنچائیں ،نہ زبان سے نہ ہاتھ سے ۔اس ضمن میں جب ہم اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کرتے ہیں تو مختلف پیرایہ بیان میںبے شمارہدایات سے روبرو ہوتے ہیں ۔لقد کرمنا بنی آدم (ہم نے اولاد آدم کو لائق تکریم بنایا۔بنی اسرائیل 70) ۔قولوا للناس حسنا(لوگوں سے بھلی بات کہو۔البقرہ ۔83)وَقُل لِّعِبَادِی یَقُولُوالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ(اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ (لوگوں سے) وہ بات کہا کریں جو بہترین ہو۔بنی اسرائیل۔ 53) فرعون جیسے سرکش کے ساتھ بھی نرم گفتاری کی تلقین کی گئی۔فَقُولَا لَہُ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہُ یَتَذَکَّرُ أَوْ یَخْشیٰ( تم دونوں (موسیٰ و ہارون) فرعون سے نرم بات کرنا، شاید وہ نصیحت پکڑ لے یا ڈر جائے۔طٰہٰ 44)اللہ کی طرف بلانے میں بھی احسن طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔ادع الی ٰ سبیل ربک باالحکمۃ والموعظۃ الحسنہ (اپنے رب کی جانب عمدہ نصیحت کے ساتھ اور احسن طریقہ پر بلائو۔النحل۔125) اور اگر کسی علمی مناظرہ کی نوبت آجائے توولا تجادلوا الا بالتی ھی احسن (علمی بحث و مباحثہ میں احسن طریقہ اختیار کرو۔النحل۔125) کی تلقین کی گئی ۔اسی کے ساتھ تکثیری سماج میں باہم نزاع سے بچنے کا ایک کارگرنسخہ تجویز کیا گیاقُلْ یٰاَہْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ بَیْنَنَا وَ بَیْنَکُمْ(اے اہل کتاب!آئو ان نکات پر ایک ہوجائیں جو تمہارے اور ہمارے درمیان یکساں ہیں۔آل عمران ۔64 )اس ضمن میں نبی اکرم ﷺ نے بھی بہت سی تعلیمات دی ہیں۔مَنْ کَانَ یُوْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَلْیَقُلْ خَیْرًااَوِلْیَصْمُتْ(جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہواسے چاہیے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔ بخاری)
ایک صحابی نے خدمتِ رسالت مآب میں حاضر ہوکر عرض کیا۔’’اے اللہ کے رسول مجھے نصیحت فرمائیے۔‘‘ آپ نے فرمایا:’’کیا تم اپنی زبان کے مالک ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا: ’’اگرمیں اپنی زبان کا بھی مالک نہیں تو پھر کس چیز کا مالک ہوسکتا ہوں؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو؟‘‘ انہوں نے کہا:’’ اگرمیں اپنے ہاتھ کابھی مالک نہیں ہوسکتا تو پھرکس چیز کا مالک ہوسکتا ہوں؟‘‘ آپ نے فرمایا:’’ تب اپنی زبان سے صرف بھلی بات کہو اور اپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھائو۔‘‘ (طبرانی از تحفۃ الحدیث)بقول شاعر
خیالِ خاطر احباب چاہیے ہر دم انیس ؔٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
سماج کے تئیں ہماری ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ ہم سماج کو ظلم سے پاک کریں ،کسی ظالم کو پنپنے نہ دیں ،فیصلہ عدل کی بنیاد پر کریں ۔ہر موقع پر سچ بولیں ،جھوٹی گواہیاں نہ دیں ۔اس ضمن میں قرآنی آیات ملاحظہ کیجیے:۔وَاللَّہُ لَا یُحِبّ الظَّٰلِمِینَ(اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا،آلِ عمران – آیت 57)مظلوم ،بے حال اور پسماندہ طبقات کی مدد نہ کرنے پر جھنجھوڑا گیا:۔وَمَا لَکُمْ لَا تُقَٰتِلُونَ فِی سَبِیلِ للَّہِ وَلْمُسْتَضْعَفِینَ۔۔الخ(تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور اُن کمزور مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جنگ نہیں کرتے جو فریاد کر رہے ہیں: اے ہمارے رب! ہمیں اس بستی سے نکال جس کے لوگ ظالم ہیں۔النساء ۔75) ایک طرف ظلم کرنے سے روکا گیا تو دوسری طرف ظلم برداشت کرنے سے بھی منع کیا گیا :۔لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے۔سورۃ البقرہ ۔ 279)ظالم کی حمایت تک سے باز رہنے کا حکم دیا گیا۔وَلَا تَرْکَنُوٓاإِلَی لَّذِینَ ظَلَمُوافَتَمَسَّکُمُ ا لنَّارُ(اِن ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آ جاؤ گے۔ ہود – آیت 113)اس کے برعکس عدل کے قیام کو انبیاء کے فریضہ کے طور پر بیان کیا گیا۔لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِاالْبَیِّنَٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتَٰبَ وَالْمِیزَانَ لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ…(یقیناً ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔الحدید 25)اہل ایمان کو عدل کے قیام کے لیے کمر بستہ ہوجانے کا حکم دیا گیا۔یَٰٓأَیُّہَا لَّذِینَ اٰمَنُواکُونُواقَوّٰمِینَ بِلْقِسْطِ شُہَدَآئَ لِلَّہِ…(اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کی خاطر گواہی دینے والے بنو، چاہے وہ (حق) خود تمہارے خلاف ہو یا والدین اور رشتہ داروں کے خلاف۔النساء ۔آیت 135 )إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَن تُؤَدُّوالْأَمَٰنَٰتِ إِلَیٰٓ أَہْلِہ وَإِذَا حَکَمْتُم بَیْناالنَّاسِ أَن تَحْکُمُوا بِالْعَدْلِ…(بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو دو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔النساء۔58) اور کسی عدالت میں بیان دینے کا موقع آئے تو وہی بات کہو جو درست ہو۔یَٰٓأَیُّہَاا لَّذِینَ اٰمَنُواتَّقُواللَّہَ وَقُولُواقَوْلًا سَدِیدًا یُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمٰالَکُمْ)اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔ وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا۔الاحزاب :70-71)
ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم معروفات کا حکم دیں اور منکرات سے انسانوں کو روکیں ۔کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہَِ ( تم بہترین امت ہو جو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے ظاہر کی گئی، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔آل عمران ۔110)اس آیت میںمعروفات کیاہیں؟کیا لوگوں کو زبردستی اسلام قبول کرانا ہے ؟تو اس کا جواب ہمیں لااکراہ فی الدین (قبول دین میں کوئی زبردستی نہیں۔البقرہ۔256) میں مل جاتا ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ یہاں معروفات سے مراد نمازو روزے کی تلقین نہیں ہے بلکہ معروف وہ ہے جس کا بھلائی ہونا سب پر واضح ہو ،سب اس کو نیکی جانتے ہوں ،لفظ معروف میں عرف اسی کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔انسانی سماج میں بیشتر بھلائیاں اور برائیاں تقریبا سب پر واضح ہیں ۔سچ بولنا ،امانت میں خیانت نہ کرنا ،وعدوں کی پابندی کرنا ،غریبوں کی مدد کرنا ،بھوکوں کو کھانا کھلانا ،مریض کی عیادت کرنا ،کسی یتیم کے سر پر دست شفقت رکھنا،کسی کی آبرو بچانا ،گرتے ہوئوں کو اٹھانا،روتے ہوئوں کو ہنسانا وغیرہ کیا ہر انسانی سماج اور الہامی کتاب میں معروفات میں شمار نہیں ہوتیں ؟اس طرح جھوٹ بولنا ،خیانت کرنا ،منصب کا غلط استعمال کرنا ،رشوت لینا ،خود پیٹ بھرکر کھانا اور بھوکوں کا خیال نہ رکھنا،غریبوں اور یتیموں کو دھتکارنا ،عصمت دری کرنا وغیرہ کیا وہ اعمال قبیحہ نہیں جن کو ہر مذہب گناہ اور پاپ سمجھتا ہے ۔ہماری بحیثیت انسان ہی یہ ذمہ داری ہے کہ ہم سماج میں بھلائیوں کو فروغ دیں اور برائیوں کو پیدا ہونے اور پنپنے سے روکیں۔
یہ وہ اہم ذمہ داریاں ہیں جو ہم پر انسان ہونے کے ناطے عائد ہوتی ہیں اور جب ہم انھیں اللہ و رسول کا حکم سمجھ کر حالت ایمان میں ادا کرتے ہیں تو نہ صرف ہماری دنیا کو مطمئن بناتی ہیں بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کی ضمانت دیتی ہیں ۔یہ تینوں ذمہ داریاں پوری زندگی کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔ہمارے اندر یہ کمزوری ہے کہ ہم جب بھی مخاطب ہوتے ہیں ،یا فرائض و حقوق پر بات کرتے ہیں توصرف مسلمان ہونے کی حیثیت میں سوچتے ہیں ،ہم نے انسانوں کے عمومی مسائل پر غور کرنا چھوڑ دیا ہے حالانکہ قرآن کا موضوع انسان ہے نہ کہ مسلمان ،اور اللہ کے پیغمبر انسانوں کی طرف مبعوث کیے گئے تھے نہ کہ اہل ایمان کی جانب ،مذکورہ تعلیمات جن کا اشارتاًاور مختصرا ًذکر کیا گیا ہے اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ تم مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ،انھیں تکلیف نہ دو ،بس انھیں کی مدد کرویا ان ہی مظلوموں کی حمایت کرو جو ایمان لے آئے ہیں ،بلکہ ان احکامات و تعلیمات کا خطاب اہل ایمان سے ہونے کے باوجود یعنی یَٰٓأَیُّہَا لَّذِینَ اٰمَنُوا کہنے کے باوجود اس کے مستفیدین عوام الناس ہی ہیں ۔آج جھوٹ ،رشوت ،چوری ،نشہ خوری ،آبروریزی ،قتل ،کمزوروں پر ظلم ،وغیرہ منکرات ہمارے سماج میں خوب پنپ رہی ہیں ،لیکن کوئی آواز امت مسلمہ کی جانب سے نہیں اٹھتی ،ان کی تگ و دو صرف مسجد اور مدرسہ تک ہی سمٹ کر رہ گئی ہے ۔ہم جس سماج میں رہتے ہیں ،وہاں صرف مسلمان ہی تو نہیں رہتے ،ہماری بیشتر بستیوں اور محلوں میں دوسرے مذاہب کے لوگ بھی رہتے ہیں ۔لیکن ہم ان کو کافر اور جہنمی گردان کر اور آج کے ماحول میں سب کو ظالم سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں ۔کیا ہمارا یہ رویہ نبی اکرم ﷺ کی سیرت اور اسلام کی تعلیمات کے مطابق واقعی درست ہے ۔
ہم پر انسانی سماج کے تئیں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ،ان کی فہرست طویل ہے ،اور مسلم سماج کے تئیں جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ان کی فہرست نہایت مختصر ہے ۔ جو لوگ مسلمان ہیں یا جو اپنی مرضی سے دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے ہیں ،ان کے لیے ہماری ذمہ داری ہے کہان کے لیے دینی تعلیم کے مراکز قائم کیے جائیں ،ان کی اصلاح و تربیت کے لیے پروگرام کیے جائیں ،ان کو بحیثیت امت اس مشن کے لیے تیار کیا جائے جس کے لیے ان کی تخلیق کی گئی ہے ۔ انھیں اسلامی احکامات کا پابند بنانے کی کوشش کریں ،اس معاملہ میں بھی کسی فرد یا جماعت کو،(سوائے اسلامی حکومت کے زیر انتظام نظام عدل کے) کسی کے خلاف کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔اگر مسلمان اپنی سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے لگیں تو اللہ تعالیٰ ان کے زوال کو عروج میں بدل دے گااور ان کی ذلت و رسوائی ،عزت و تکریم میں ڈھل جائے گی نیز ان کی محکومی کا دور سمٹ کر استخلاف فی الارض کی صورت میں ظاہر ہوگا۔آزاد بھارت میں ہم نے جس طرح مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑی ہے ،اور ہر ایشو پر ہم نے بھیڑ اکٹھی کی ہے ،خواہ اس کا مثبت نتیجہ نکلا ہو یا نہ نکلا ہو ،جس طرح آج ہم وقف بچائو کے تحت لاکھوں کی تعداد میں جمع ہورہے ہیں ،کیا کبھی سماجی ایشو کے لیے بھی ایسی کوئی کوشش ہم نے کی ہے ؟کیا کبھی کرپشن،نشہ خوری ،خواتین اور دلتوں پر مظالم ،کے خلاف ہم نے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں ،اگر ہم کرتے تو باشندگان ملک ہمیں اپنا ،سماج کا اور ملک کا خیر خواہ سمجھتے ۔کاش اب بھی ہم اپنے غم کے ساتھ ساتھ انسانیت کے غم کا بوجھ اٹھانے کے قابل ہوجائیں۔

