ظہیرآباد 13/اگست(مشرقی آواز جدید): جناب مفتی نذیر احمد صاحب حسامی امام و خطیب فردوس مسجد شانتی نگر ظہیرآباد نے ایک بیان میں کہا کہ ہر زمانے کا انسان محبت کی زبان کو سب سے بہتر سمجھتا ہے، مگر آج کا انسان، بظاہر محبت کے نغمے گاتا ہے، لیکن دل کے کانٹے چبھونے میں دیر نہیں لگاتا۔ وہ مسکراتا ہے، مگر اندر سے حسد کی آگ میں جلتا ہے۔ وہ مصافحہ کرتا ہے، مگر دل میں منافقت چھپائے رکھتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب رسولِ اکرم ﷺ کا یہ ارشادِ گرامی دل کے کانوں سے سنا جائے: "تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے” تو یہ الفاظ گویا شبِ ظلمت میں بجلی بن کر گرجتے ہیں، کہ دل کے آسمان پر چمک پیدا ہو، آنکھوں میں جھانکتی خود غرضی دم توڑے، اور انسان کی انسانیت جاگے۔ ایمان صرف ایک دعویٰ نہیں، یہ ایک خوشبو ہے جو کردار سے پھوٹتی ہے۔ جیسے پھول اپنی خوشبو چھپا نہیں سکتا، ایک مومن بھی اپنی خیرخواہی چھپا نہیں سکتا۔ یہ حدیث ہمیں ایک ایسا معیار عطا کرتی ہے، جو ایمان کو محبت کی ترازو میں تولتی ہے۔ محبت کیا ہے؟ یہ وہ دریا ہے جو دوسروں کو سیراب کرتا ہے، اور اپنی پیاس کو بھول جاتا ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو دوسروں کو جگمگاتی ہے، چاہے خود چراغ جل جل کے بجھ جائے۔
تاریخِ اسلام میں ایسے بہت سارے واقعات اور قصے ملتے ہیں جن سے آپس میں بھائی چارہ، محبت و خلوص اور ایثار و قربانی کے سبق ملتے ہیں، حضرت ابو طلحہؓ کے گھر ایک مہمان آ گیا، گھر میں صرف بچوں کے لیے کھانا ہے۔ بیوی سے مشورہ کیا، اور چراغ گل کر دیا، خود بھی اندھیرے میں ہاتھ چلاتے رہے، تاکہ مہمان سمجھے کہ میزبان بھی کھا رہا ہے۔ صبح نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہارے عمل پر ہنسا۔ یہ صرف محبت نہیں، یہ ایمان کا آسمانی معیار ہے۔ انصارِ مدینہ کا مہاجرین سے ایثار دیکھئے، انصار نے کہا، یہ میرا مال ہے، یہ میرا گھر ہے، آؤ شریک ہو جاؤ، کتنے عجیب دن تھے وہ، آج بھائی بھائی کا وارث نہیں، تب وہ تھے جو اجنبیوں کو اپنے دل کی سلطنت میں جگہ دے رہے تھے۔ حضرت علیؓ اور فاطمہؓ تین دن کے مسلسل فاقے میں بھی یتیم، مسکین، اور قیدی کو اپنا روٹی کا لقمہ دے دیا۔ قرآن گواہی دیتا ہے: "وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ…” (الدہر) یہ کیسا ایمان تھا؟ جیسے بھوک نے ان کے جسم کو کھوکھلا کیا ہو، مگر محبت نے دل کو لبریز کر دیا ہو۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک غلام کو غلطی پر سزا دی، پھر حدیث یاد آ گئی: جو اپنے ماتحت کے ساتھ نرمی نہ کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ فوراً آزاد کر دیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ایمان کو شعلہ نہیں، چراغ بنا کر رکھتے تھے۔ شام کی جنگ میں تین زخمی پانی پینا بھول گئے، حضرت حکیم بن حزامؓ بیان کرتے ہیں کہ جنگ میں تین زخمیوں کے پاس پانی لے جایا گیا۔ ہر ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا: پہلے اسے دو۔ پانی گھومتا رہا، اور تینوں شہید ہو گئے۔ یہ ایمان کا ایسا آئینہ تھا جس میں محبت، ایثار اور وفا کی تجلیاں جھلملاتی تھیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ابھی ایک جنتی شخص تمھارے سامنے داخل ہوگا۔” صحابہ کرامؓ کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ گئیں۔ ایک انصاری صحابی داخل ہوئے، جن کے ہاتھ میں جوتے تھے، اور داڑھی سے پانی ٹپک رہا تھا، گویا وضو کر کے آ رہے ہوں۔ تین دن یہی ہوا۔ صحابی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کو اشتیاق ہوا کہ ان کے جنتی ہونے کی وجہ جانیں۔ انہوں نے انصاری صحابی کے ہاں مہمان بن کر تین دن گزارے۔ جب واپس جانے لگے، تو سچ کہہ دیا کہ میں اصل میں یہ جاننے آیا تھا کہ آپ کے عمل میں کون سی خاص بات ہے۔ انصاری صحابیؓ نے فرمایا: "میری عبادت معمولی ہے، مگر ایک بات ہے: میں ہر رات سونے سے پہلے اپنے دل سے ہر شخص کے لیے حسد، کینہ، بغض اور بدگمانی نکال دیتا ہوں۔ کسی کے خلاف کچھ نہیں رکھتا، جو آدمی دوسروں کے لیے وہی پسند کرے گا جو اپنے لیے پسند کرتا ہے تو ظاہر بات ہے اس کا دل صاف ہوگا اور ایسے صاف دل والے ہی جنتی ہوتے ہیں۔
آج کے معاشرے پر ایک نظر ڈالیے۔ ہماری محبتیں اشتہار بن چکی ہیں، اور خیرخواہی کی جگہ حسد نے لے لی ہے۔ دوست کی ترقی پر دل جلتا ہے۔ ہمسایہ اچھا کپڑا پہنے تو غیبت ہوتی ہے۔ رشتہ دار اچھا کھا لے تو دل میں چبھن ہوتی ہے۔ ہم اپنے بچوں کے لیے سب کچھ چاہتے ہیں، لیکن دوسرے کے بچوں کو ترقی کرتا نہیں دیکھ سکتے۔ یہی تو بیماری ہے جس کو اس حدیث نے چیر کر دکھایا ہے۔ خود کو جانچیے، محبت ہے یا فقط مومنانہ لبادہ؟ یہ حدیث ہمیں روحانی آئینہ دیتی ہے۔ کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ ہم اپنے دل کے دروازے پر کھڑے ہو کر خود سے سوال کریں، کیا ہم دوسروں کے بچوں کی کامیابی پر دل سے خوش ہوتے ہیں؟ کیا ہم غریب کے لیے وہی چاہتے ہیں جو اپنے لیے؟ کیا ہم اپنی بہن کی سسرال میں آسانی چاہیں گے جیسی اپنی بیٹی کے لیے چاہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں ہے، تو مبارک ہو! ایمان زندہ ہے۔ اگر نہیں، تو پھر یہ ایمان کی ایمرجنسی ہے۔ اس حدیث کو اگر ہر دل میں بسا دیا جائے، تو بازاروں سے دھوکہ ختم ہو جائے، عدالتوں سے جھوٹ کا سایہ اُٹھ جائے، سیاست میں وفا، تجارت میں صفا اور معاشرت میں حیا آ جائے۔ یہ صرف حدیث نہیں، سماجی انقلاب کا نکتۂ آغاز ہے۔ اختتامی نکتہ: دل کا آسمان محبت سے روشن کیجیے، اگر ہر دل دوسرے کے لیے دعا کا چراغ بن جائے، اگر ہر ہاتھ دوسرے کے لیے مدد کا وسیلہ بن جائے، اگر ہر زبان دوسرے کے لیے خیر بولے، تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن جائے۔ ہم اپنے دل کی دنیا کو خود غرضی کے کوڑھ سے پاک کریں، محبت کی بارش برسائیں، اور ایمان کے اس عظیم معیار پر اپنے آپ کو کھرا ثابت کریں۔۔۔
