لکھنؤ: گزشتہ کل دار العلوم ندوۃ العلماء کے استاذ ادب عربی مولانا ڈاکٹر نذیر احمد ندوی کا مختصر علالت کے بعد۵۹ ؍سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ، مولانا دار العلوم میں کلیۃ اللغۃ العربیۃ کے سینیر استاذ تھے ، وہ نورنگ آباد شاہی مسجد اٹاوہ، یوپی کے رہنے والے تھے، ان کا سنہ ولادت ۱۹۶۶؁ء ہے، ان کے والد عزیز احمد سرکاری ملازم تھے، مولانا نذیر احمد ندوی نے دار العلوم ندوۃ العلماء کے ثانوی درجات میں داخلہ لیا، اور ۱۹۸۶؁ء میں عالمیت کی سند حاصل کی اور ۱۹۸۸؁ء میں تخصص فی الأدب کیا ، اور لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ عربی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

مولانا نذیر احمد ندوی کو عربی، اردو، انگریزی اور فارسی میں کمال حاصل تھا، اس لئے ندوۃ العلماء کے پندرہ روزہ عربی ترجمان ’’الرائد‘‘ میں بحیثیت مترجم ان کا تقرر ہوا اور مشہور ادیب، مفکر اور صحافی مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی کی تربیت میں رہ کر انہوں نے اس فن میں کمال پیدا کیا ، عربی میں متعدد مضامین اور ترجمے الرائد میں شائع ہوئے، اس کے بعد مولانا دارالعلوم میں بحیثیت استاذ منتقل ہوئے اور عربی زبان و ادب کے ایک کامیاب استاذ کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے ۔مولانا النادی العربی کے پروگراموں میں برابر شریک ہوتے تھے ، اور اس میں بحیثیت صدر و حکم ان کی خدمات حاصل تھی، مولانا نذیر احمد ندوی نے ۲۰۲۲؁ء میں خادم الحرمین الشریفین کی دعوت پر حج کی سعادت حاصل کی ، اس سے پہلے وہ لندن کا سفر بھی کر چکے تھے، مولانا مرحوم کا مزاج دعوتی تھا، وہ ہندوستان کے مختلف علاقوں کا دعوتی اسفار کرتے تھے، اور لوگوں کو آسان زبان میں اسلامی تعلیمات سے روشناس کراتے تھے۔ مولانا کے دو بھائی اور دو بہن تھے ، پسماندگان میں مولانا کی اہلیہ اور ایک بیٹی ہے۔

مولانا نذیر احمد ندوی کی پہلی نماز جنازہ ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید بلال عبد الحی حسنی ندوی نے ندوۃ العلماء کے احاطہ میں پڑھائی ، جس میں دارالعلوم و دیگر مدارس کے اساتذہ اور طلباء، عوام و خواص نے بڑی تعداد میں شرکت کی، مولانا بلال عبد الحی حسنی ندوی نے ان کے انتقال پر کہا کہ مولانا ایک جید استاذ اور اچھے اخلاق کے حامل تھے ، ان کے ذریعہ طلباء نے عربیت کا ذوق حاصل کیا ، وہ ہمہ وقت طلباء کو فائدہ پہونچانے کا جذبہ رکھتے تھے ، اور اس کے لئے یکسو تھے ، ندوۃ العلماء کے خادم کی حیثیت سے ان کے انتقال پر ہم ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہیں اور دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ ندوۃ العلماء میں نماز جنازہ کے بعد ان کا جنازہ ان کے وطن لے جایا گیا، جہاں ان کی تدفین عمل میں آئے گی، ناظم ندوۃ العلماء کے ایماء پر ندوۃ العلماء کے اساتذہ میں مولانا رشید احمد ندوی، مولانا شمیم احمد ندوی، مولانا انیس احمد ندوی، مولانا ساجد علی ندوی، مولانا محمد امجد ندوی جنازہ کے ساتھ تدفین میں شرکت کے لئے اور اہل خانہ سے تعزیت کے لئے روانہ کیا گیا۔

اس موقع پر مولانا سید عمار عبد العلی حسنی ندوی ، مولانا اسماعیل بھولا ندوی ، مولانا عبد العزیز بھٹکلی ندوی ،مولانا محمد علاء الدین ندوی ، مولانا مفتی نیاز احمد ندوی، مولانا کمال اختر ندوی، مولانا ابو الحسن محمد نظام الدین فرنگی محلی اور شہر و اطراف کے علماء و عوام موجود تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے