اعظم گڑھ (پریس ریلیز): اعظم گڑھ کی دین دوست اور علمی فضا ایک بار پھر قرآنی انوار اور روحانی مسرتوں سے اس وقت معمور ہو گئی جب دعوتِ اسلامی انڈیا کے زیرِ اہتمام قائم ممتاز قرآنی درسگاہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر کے تین خوش نصیب طلبہ نے ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم زبانی سنا کر ایک یادگار اور ایمان افروز تاریخ رقم کی۔ اس عظیم سعادت نے نہ صرف ادارے کے علمی وقار میں اضافہ کیا بلکہ اہلِ ایمان کے دلوں کو شکرگزاری اور مسرت سے بھر دیا۔
قرآنِ کریم کی حفاظت اور اس کی سینہ بہ سینہ منتقلی اسلامی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جو عہدِ رسالت ﷺ سے چلا آ رہا ہے۔ ہر دور میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک کے محافظین پیدا فرمائے ہیں۔ اگرچہ ہر سال ہزاروں طلبہ حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کرتے ہیں، تاہم ایک ہی نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانا۔۔جسے عرف میں منزل کہا جاتا ہے۔۔غیر معمولی ذہنی یکسوئی، مضبوط حافظہ، مسلسل ریاضت اور روحانی استقامت کا نادر مظہر سمجھا جاتا ہے۔
اسی سلسلے کی ایک درخشاں کڑی 7 فروری 2026ء، بروز سنیچر کو اس وقت سامنے آئی جب مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ کے تین طلبہ نے ایک نشست میں مکمل قرآنِ کریم زبانی سنانے کی سعادت حاصل کی۔ ان طلبہ کے نام یہ ہیں:محمد عزیر بن حضرت مولانا زین العابدین صاحب مصباحی (کسیا،مہندوپار،ضلع:سنت کبیر نگر)، محمد صادق بن عابد علی (ٹنڈولی فیض آباد) اور محمد نایاب بن عبد العزیز (دلہی پور بنارس)۔
اس مکمل قرآنی سماعت کا شرف ادارے کے پرنسپل حضرت حافظ و قاری مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی کے ساتھ ساتھ حضرت حافظ و قاری سعید اختر صاحب اور حضرت حافظ و قاری محمد اصغر صاحب اعظمی مصباحی کو حاصل ہوا۔ اساتذۂ کرام نے نہایت انہماک اور باریک بینی کے ساتھ مکمل قرآنِ کریم سماعت فرمایا۔ دورانِ سماعت طلبہ کی تجوید کی پختگی، روانی کی یکسانیت اور ضبط و استحضار کی مضبوطی نمایاں رہی، جس پر اساتذۂ کرام نے دلی اطمینان اور مسرت کا اظہار کیا۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ ماضی میں بھی ایسے متعدد یادگار قرآنی مناظر کا شاہد رہ چکا ہے۔ چنانچہ ابھی چند ہی دن قبل یہاں کے بعض دیگر ہونہار طلبہ نے بھی ایک نشست میں مکمل قرآنِ کریم سنانے کی سعادت حاصل کی تھی، جبکہ الحمدللہ ہر سال کئی طلبہ اس اعزاز سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سب ادارے کے مضبوط تعلیمی نظم، قرآنی ماحول، اساتذۂ کرام کی بے لوث محنت اور طلبہ کی مسلسل جدوجہد کا واضح ثبوت ہے۔
ادارہ اپنے اعلیٰ تعلیمی معیار، منظم نظم و نسق، باصلاحیت اور درد مند اساتذۂ کرام، اور مثالی تربیتی نظام کی بدولت علاقے میں ایک ممتاز اور معتبر مقام رکھتا ہے۔ یہاں حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ طلبہ کی دینی بصیرت، اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
ختمِ قرآن کے بعد ادارے میں حضرت مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی کی صدارت میں ایک پُروقار دعائیہ نشست منعقد ہوئی، جس میں نگرانِ ڈویژن جناب ابو طلحہ عطاری صاحب، حضرت حافظ و قاری محمد اصغر صاحب اعظمی، حضرت حافظ و قاری سعید اختر صاحب، حضرت حافظ و قاری اقبال حسین صاحب مصباحی  نے شرکت کی۔ اس موقع پر حفاظ قرآن کو دلی مبارکباد پیش کی گئی اور ان کی محنت و استقامت کو سراہا گیا۔
آخر میں حضرت مولانا اقبال حسین صاحب مصباحی نے نہایت رقت آمیز انداز میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان خوش نصیب طلبہ کے سینوں کو نورِ قرآن سے ہمیشہ منور رکھے، ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، انہیں قرآنِ کریم کا سچا خادم، باعمل حافظ اور دینِ متین کا مخلص داعی بنائے، اور ان کے ذریعے ملت و امت کو نفعِ عظیم عطا فرمائے۔
اجتماعی دعا کے ساتھ اس روح پرور نشست کا اختتام ہوا۔ حاضرین نے اس عظیم قرآنی سعادت پر ربِ کریم کا شکر ادا کیا اور اس پختہ یقین کا اظہار کیا کہ مدرسة المدینہ فیضانِ صدیقِ اکبر، اعظم گڑھ آئندہ بھی ایسے درخشاں، یادگار اور قابلِ فخر قرآنی مناظر کا مرکز بنا رہے گا، جہاں سے قرآنِ کریم کے سچے خادم اور امت کے باکردار رہنما تیار ہوتے رہیں گے۔
مذکورہ اطلاع دارالعلوم انوار مصطفیٰ سہلاؤ شریف کے ناظم تعلیمات ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے پریس ریلیز کے ذریعہ دیا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے