زین العابدین ندوی

مقیم حال: نزد گرین پارک شیل پھاٹا ممبئی

آج آفس میں بیٹھا ہوا اخبار کی سرخیاں دیکھ رہا تھا اچانک نظر ایک ایسی خبر پر پڑی جسے دیکھ کر افسوس تو ہوا ہی حیرانی بھی ہوئی ساتھ میں پڑھی لکھی جہالت پر ہنسی بھی آئی ، روزنامہ اُردو ٹائمز ممبئی مورخہ 11/ فروری 2026 صفحہ نمبر 8 خبر کچھ یوں تھی کہ بامبے ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کی وسیع پیمانہ پرتشہیر کرنے کی ہدایت دی جس میں سپریم کورٹ غیر شادی شدہ خواتین کو 20 سے 24 ہفتوں تک محفوظ اور قانونی اسقاط حمل کا حق دیتا ہے، ہائی کورٹ نے کہا کہ فیصلہ کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے سبب خواتین بار بار عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں اس لئے حکومت اس سلسلہ میں جامع معلوماتی مہم چلائے تاکہ عدالت پر بوجھ نہ بڑھے ۔

آئیے ذرا اس خبر کو انسانیت کے آئینہ سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ، ایسے میں سب سے پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ غیر شادی شدہ خواتین کو اسقاط حمل کی ضرورت کیوں اور کیسے پڑی ؟ اگر بالفرض آج کی پڑھی لکھی جہالت کی نظروں میں لیونگ ریلیشن شپ میں کوئی حرج نہیں ہے تو پھر یہ عورتوں کے کس تحفظ اور ان کے کن حقوق کے نعرے لگاتے ہیں ؟ جاہل سے جاہل انسان اگر اس میں ذرا بھی انسانیت باقی ہوگی تو وہ اس حرکت کو برا جانے گا اور اس حرام کاری کو بند کرنے کی کوشش اور اپیل کرے گا، لیکن یہاں تصویر بالکل مختلف ہے ایک طرف عورتوں کے حقوق کے پر فریب نعرے لگائے جاتے ہیں اور دوسری طرف اس کی عزت و آبرو کو پامال کرنے کے راستے ہموار کئے جاتے، اور اسکو ہموار کرنے کے لئے تمام طریقے اختیار کئے جاتے ہیں ، مختلف محکموں کا استعمال کیا جاتا ہے ، اور ایسا اس لئے کہ سب کے سب باستثناء بعض اسی ہوس پرستی میں ملوث ہیں ، جن کی انسانیت کا جنازہ نکل چکا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کا جسم ایک قبر ہے جس میں ان کی روحیں دفن ہیں، بظاہر خوش پوشاک نظر آتے ہیں ، پڑھے لکھے اور با اخلاق سمجھے جاتے ہیں، کسی محکمہ کے افسر ہوتے ہیں، کورٹ کے جج ہوتے ہیں ، ملک کے وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ ہوتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود انسانیت سے عاری ہوتے ہیں ، سب کچھ ہوتے ہیں مگر انسان نہیں ہوتے ہیں۔

جس ملک میں ایسے قوانین بنائے جائیں اور ایسے فیصلے سنائے جائیں کیا وہاں بڑھتے جرائم کو روکا جا سکتا ہے ؟ جہاں زانیوں کو زنا کی کھلی چھوٹ ملے وہاں زنا پر سنائی جانے والی سزاؤں کے کیا معنی ہیں؟ جہاں جرائم پر پابندی لگانے والے جرائم کو بڑھانے کی اسکیمیں بتائیں وہاں تحفظ کیسے ممکن ہے ؟ اس طرح کے فیصلہ نہ صرف یہ کہ سماج میں گندھ اور بدبو پھیلنے کا سبب بنتے ہیں بلکہ انسان سے اس کی انسانیت چھیننے میں معاون ثابت ہوتے ہیں، ایسے سماج میں رشتے اپنا وقار کھو دیں گے ، اعتماد شک میں تبدیل ہوگا اور پورا نظام زندگی ایک متعفن ماحول میں تبدیل ہو جائے گا ۔

یہ اور اس جیسے فیصلے اور اس کے مماثل فکروں نے ہی عورتوں سے ان کی حیاء کی چادر چھینی ہے، آزادی اور مساوات کے پر فریب نعروں کے نام پر ان سے ان کا وقار چھینا ہے ، مساوات اور برابری کے نام پر ان کا تقدس پامال کیا ہے تاکہ ہوس پرستوں کو سامان عیش مل سکے، یہ انسانیت کے دشمن ہیں اس کو وقت رہتے سمجھنا ہوگا ورنہ بہت دیر ہو جائے گی اور دیر ہو بھی چکی ہے ۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے