سادگی، ایثار اور صحافتی روایت کا درخشاں باب
جاوید جمال الدین
ممبئی،(25 فروری): ملک میں اردو صحافت کے دو سو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں تقریبات منائی گئیں، یہ موقع محض جشن کا نہیں بلکہ احتساب اور یادِ رفتگاں کا بھی ہے۔ جب ہم اردو اخبارات کی تاریخ، ان کی فکری جدوجہد اور قومی خدمات کا جائزہ لیتے ہیں تو ممبئی کی صحافتی دنیا کی بعض روایات دل و دماغ کو معطر کر دیتی ہیں۔ انہی روایات میں ایک درخشاں اور معنویت سے بھرپور روایت ’’دعوتِ شیراز‘‘ کی ہے، جس کا اہتمام روزنامہ انقلاب کے بانی و مالک مرحوم عبدالحمید انصاری کیا کرتے تھے۔
یہ دعوت محض افطار پارٹی نہ تھی بلکہ ایک فکری پیغام، سماجی شعور اور ایثار کی عملی مثال تھی، جس نے ممبئی کی صحافتی تاریخ میں ایک مستقل مقام حاصل کر لیا۔
مرحوم عبدالحمید انصاری ہر سال 27ویں رمضان المبارک کو ادارۂ انقلاب کے عملے، صحافیوں، دانشوروں اور شہر کے معززین کے اعزاز میں پرتکلف دعوتِ افطار کا اہتمام کرتے تھے۔ اس دعوت میں نہ صرف اردو بلکہ انگریزی اور گجراتی اخبارات سے وابستہ افراد بھی شریک ہوتے۔ یوں یہ محفل بین اللسانی صحافتی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال بن جاتی۔
بزرگ صحافیوں کے مطابق، اس افطار کا اہتمام اس قدر شاندار ہوتا کہ اسے ازراہِ مزاح ’’دعوتِ سمرقند‘‘ کہا جانے لگا تھا۔یعنی ایسی ضیافت جس میں ہر طرح کی نعمتیں موجود ہوں۔ انواع و اقسام کے پکوان، میوہ جات اور پرتکلف دسترخوان اس تقریب کا حصہ ہوتے۔ مگر 1968 میں اسی روایت نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جس نے اسے تاریخ ساز بنا دیا۔
معروف صحافی جاوید جمال الدین نے اپنی تصنیف ’’عبدالحمید انصاری: انقلابی صحافی اور مجاہدِ آزادی‘‘ (اشاعت: 2002) میں اس تاریخی واقعے کی تفصیل بیان کی ہے۔ کتاب میں انقلاب کے قدیم رکن اور کاتب علیم اللہ خان کے حوالے سے 1968 کی اس یادگار افطار کا ذکر ملتا ہے جسے بعد ازاں ’’دعوتِ شیراز‘‘ کا نام دیا گیا۔
اُس سال 27ویں رمضان کو جب افطار کا اعلان ہوا تو سبھی کو حسبِ سابق ایک پرتکلف دعوت کی توقع تھی، لیکن جب مہمان دسترخوان پر پہنچے تو منظر مختلف تھا۔ نہ قیمتی پکوان تھے، نہ رنگ برنگے پھل اور نہ ہی مرغن کھانے۔ دسترخوان پر صرف باجرے کی سادہ روٹیاں، دو قسم کی چٹنیاں اور روزہ کھولنے کے لیے کھجوریں رکھی گئی تھیں۔
ابتدا میں شرکا حیران رہ گئے۔ کچھ لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی۔ مگر جب پس منظر واضح ہوا تو وہی حیرت عقیدت میں بدل گئی۔
دعوتِ شیراز کا پس منظر: نام اور مفہوم کیا ہے ،دراصلں دعوتِ شیراز‘‘ کی اصطلاح محض ادبی رنگ لیے ہوئے نہیں تھی، بلکہ اس کے پس منظر میں اسلامی تاریخ اور تہذیبی روایت کی جھلک بھی موجود تھی۔ تاریخ میں ایران کے شہر شیراز کو علم، تصوف اور سادگی کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہاں کی محفلیں عموماً روحانیت، فکری گفتگو اور سادہ ضیافت کے لیے معروف تھیں۔ اس کے برعکس ’’سمرقند‘‘ کا تصور شان و شوکت اور شاہانہ ضیافتوں سے وابستہ رہا ہے۔
عبدالحمید انصاری نے اسی تمثیل کو اختیار کرتے ہوئے پرتکلف ’’دعوتِ سمرقند‘‘ کو اس سال ’’دعوتِ شیراز‘‘ میں تبدیل کر دیا—یعنی ظاہری نمود و نمائش کے بجائے سادگی اور معنویت کو ترجیح دی گئی۔
اصل سبب یہ تھا کہ اس سال مغربی بنگال میں قدرتی آفات اور سماجی ابتری کے باعث کئی خاندان شدید مصیبت میں مبتلا تھے۔ مرحوم انصاری نے فیصلہ کیا کہ افطار کی پرتکلف دعوت پر خرچ ہونے والی خطیر رقم بچا کر اسے ’’انقلاب فنڈ‘‘ کے ذریعے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے وقف کیا جائے۔ یوں ایک دن کی سادگی نے کئی گھروں میں راحت کا سامان فراہم کیا۔
کتاب میں درج علیم اللہ خان کے تاثرات نہایت معنی خیز ہیں۔ ان کے مطابق، ابتدا میں سبھی چونک گئے تھے، لیکن جب انصاری صاحب نے مقصد بیان کیا تو محفل کا رنگ بدل گیا۔ باجرے کی روٹی اور چٹنی کا ذائقہ اس قدر دلنشین محسوس ہوا کہ کسی کو کسی نعمت کی کمی محسوس نہ ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ سادہ افطار آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔ اس میں جو خلوص، ایثار اور مقصدیت تھی، وہ کسی شاہانہ ضیافت میں کہاں!‘‘
یہی وہ لمحہ تھا جب دعوت ایک ضیافت سے بڑھ کر ایک درس بن گئی۔
اس موقع پر عبدالحمید انصاری نے شرکا سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر ہم اپنی ایک دن کی پرتکلف دعوت کو سادہ بنا دیں تو کتنے ہی ضرورت مندوں کی مدد ممکن ہے۔ ان کی یہ بات محض وعظ نہ تھی بلکہ عملی نمونہ تھی۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم اپنی عیدالفطر کی دعوتوں کو بھی ’’دعوتِ شیراز‘‘ بنا سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنے کے لیے کچھ قربانی دے سکتے ہیں؟ یہ سوال آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔
اہم بات یہ بھی ہے کہ یہ سادگی صرف دفتر تک محدود نہ رہی۔ گھر کے افراد اور معزز مہمانوں نے بھی اسی سادہ افطار میں شرکت کی اور اسے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ اس طرح یہ روایت ایک اجتماعی شعور کی مثال بن گئی۔
مرحوم عبدالحمید انصاری کے انتقال کے بعد ان کے فرزند، معروف صحافی اور پدم شری اعزاز یافتہ خالد اے ایچ انصاری نے 1990 کی دہائی میں اس روایت کو برقرار رکھا۔ جنوبی ممبئی کے پیڈر روڈ پر واقع رہائش گاہ کے وسیع لان میں افطار کا اہتمام کیا جاتا، جہاں مختلف زبانوں کے اخبارات سے وابستہ صحافی اور سماجی شخصیات شریک ہوتیں۔
یہ محفلیں بھی اخوت اور ہم آہنگی کا مظہر تھیں۔ تاہم بعد ازاں روزنامہ انقلاب اور شامنامہ ’’مڈ ڈے‘‘ کی فروخت سے چند برس قبل یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔ اس کے باوجود ’’دعوتِ شیراز‘‘ کی یاد آج بھی زندہ ہے۔
ممبئی کے دیگر اردو اخبارات مثلاً روزنامہ اردو ٹائمز اور روزنامہ ہندوستان میں بھی عملے کے لیے افطار کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ یہ روایت اداروں اور کارکنان کے درمیان ربط و تعلق کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتی رہی۔
آج کے دور میں بھی مختلف تنظیمیں صحافیوں کے لیے افطار پارٹیوں کا انعقاد کرتی ہیں۔ مثلاً جماعت اسلامی مہاراشٹر کی جانب سے ہر سال وسطِ رمضان میں صحافیوں کو مدعو کیا جاتا ہے، جہاں نمازِ مغرب اور عشائیے کے ساتھ موجودہ حالات پر اردو اور ہندی صحافیوں کے درمیان تبادلۂ خیال بھی کیا جاتا ہے۔ یہ محفلیں دعوتِ شیراز کی یاد تازہ کر دیتی ہیں، اگرچہ اس کی مثال اپنی جگہ منفردہے۔
دعوتِ شیراز کا اصل پیغام یہ ہے کہ صحافت صرف خبر رسانی کا نام نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ ایک صحافی اگر معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے تو اسے ضرورت مندوں کے دکھ درد کا بھی احساس ہونا چاہیے۔
عبدالحمید انصاری نے عملی طور پر دکھایا کہ ایک اخباری ادارہ بھی سماجی خدمت کا مرکز بن سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ذات یا ادارے کی تشہیر کے لیے نہیں بلکہ خاموشی سے امداد کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ’’دعوتِ شیراز‘‘ کا تذکرہ عقیدت سے کیا جاتا ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی روایات بدل جاتی ہیں، لیکن کچھ واقعات تاریخ میں مثال بن کر زندہ رہتے ہیں۔ ’’دعوتِ شیراز‘‘ بھی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل عظمت سادگی، ایثار اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہے۔
رمضان کی وہ سادہ مگر باوقار افطار ممبئی کی صحافتی تاریخ کا روشن باب ہے۔ یہ صرف ایک دعوت نہیں تھی بلکہ ایک فکر، ایک پیغام اور ایک تحریک تھی—جو آج بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی میں ’’دعوتِ سمرقند‘‘ کو ’’دعوتِ شیراز‘‘ میں بدلنے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟
Post Views: 217
