اسماعیل قمر بستوی

 

یہ عطاءِ کبریا رمضان ہے

میہماں اک ماہ کا رمضان ہے

سب مہینوں کاہے یہ سردار بھی

ہر مہینے سے جدا رمضان ہے

اس میں اتریں آسمانی سب کتب

ماہ یہ قرآن کا رمضان ہے

مقصدِ روزہ ہے تقویٰ کا حصول

دلنشیں اور جاں فزاء رمضان ہے

مفلسوں کو یاد رکھیں مالدار

یہ سبق بھی دے رہا رمضان ہے

روزہ داروں کاخدا بدلہ ہے خود

عظمتوں والا بڑا رمضان ہے

رحمتیں اور برکتیں ہیں بےشمار

قیمتی لا انتہاء رمضان ہے

صبر کا بھی ہے مہینہ بالیقیں

درس یہ عمدہ دیا رمضان ہے

ماہ غم خواری کا بھی ہے مومنو

یہ دلوں کا آسرا رمضان ہے

قدر اس کی کیجیے دل سے قمر

یہ مقدر سے ملا رمضان ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے