ممبئی راج بھون کی مسجد کی امامت، روزنامہ انقلاب کی کتابت اور قرآنِ کریم کی خطاطی کے ساتھ انصاف کی جدوجہد کی داستان
:(جاوید جمال الدین)ممبئی، 15 مارچ
ممبئی ایک ایسا شہر ہے جہاں ہر روز ہزاروں لوگ اپنے خوابوں کو حقیقت بنانے کی امید کے ساتھ قدم رکھتے ہیں۔ کوئی روزگار کی تلاش میں آتا ہے، کوئی قسمت آزماتا ہے اور کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی محنت، خدمت اور جدوجہد کے ذریعے ایک پوری نسل کے لیے مثال بن جاتے ہیں۔ حافظ محمد غیاث الدین بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تقریباً پچاس برس دینی خدمات، اردو صحافت، قرآنِ کریم کی کتابت اور مزدوروں کے حقوق کی طویل جدوجہد کے لیے وقف کر دیے۔
ان کی زندگی ایک سادہ انسان کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی گواہی ہے جس میں اردو صحافت کے عروج و زوال، مذہبی خدمات کی روایت اور محنت کش طبقے کی جدوجہد سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی خطاطی سے لے کر اخباری کتابت تک اور پھر انصاف کے لیے پچیس سال کی طویل لڑائی تک، حافظ محمد غیاث الدین کا سفر صبر، استقامت اور ایمان کی ایک زندہ مثال ہے۔
ممبئی آمد: خوابوں اور مشکلات کا آغاز
حافظ محمد غیاث الدین سن 1977 میں ممبئی آئے۔ اس وقت یہ شہر ان کے لیے ایک نئی دنیا تھا۔ یہاں کی رفتار تیز تھی، ماحول مختلف تھا اور زندگی کے تقاضے بھی سخت تھے۔ مگر یہی شہر ان کی زندگی کا میدانِ عمل بننے والا تھا۔
ابتدائی دنوں میں انہوں نے مختلف اداروں میں کام کیا۔ کبھی چھوٹی ملازمتیں کیں، کبھی وقتی کام کر کے زندگی کی گاڑی چلائی۔ اس دوران وہ شہر کے مزاج کو سمجھتے رہے اور اپنی راہ تلاش کرتے رہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ممبئی صنعتی اور تجارتی اعتبار سے تیزی سے ترقی کر رہا تھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے لوگ یہاں آ کر بس رہے تھے۔ ایسے ماحول میں اپنی شناخت بنانا آسان نہیں تھا، لیکن حافظ محمد غیاث الدین نے صبر اور محنت کے ساتھ اپنا راستہ بنایا۔
اسی دوران ان کا تعلق اجمل پریس سے قائم ہوا۔ یہ پریس اس زمانے میں اردو کتابت اور طباعت کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں انہوں نے کتابت کے فن کو قریب سے سیکھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے ان کے اندر خطاطی اور تحریر کا شوق پیدا کیا۔ سن 1978 کے آس پاس انہوں نے باقاعدہ طور پر کتابی اور تحریری کاموں کا آغاز کیا۔
راج بھون کی مسجد میں امامت
1980 کی دہائی میں حافظ محمد غیاث الدین کی زندگی میں ایک اہم مرحلہ آیا جب انہیں ممبئی کے راج بھون میں واقع مسجد میں امامت کے فرائض انجام دینے کا موقع ملا۔ راج بھون دراصل مہاراشٹر کے گورنر کی سرکاری رہائش گاہ ہے اور یہاں کی مسجد بھی اپنی ایک خاص اہمیت رکھتی ہے۔
اس دور میں مہاراشٹر کی سیاست میں ایک نمایاں شخصیت عبدالرحمن انتولے تھے جو ریاست کے وزیر اعلیٰ رہے۔ حافظ محمد غیاث الدین کا ان سے اچھا تعلق قائم ہوا اور وہ اس زمانے میں مذہبی اور سماجی سرگرمیوں میں کافی سرگرم رہے۔
راج بھون میں امامت کے دوران انہیں مختلف سرکاری شخصیات، دانشوروں اور سماجی کارکنوں سے ملنے کا موقع ملا۔ یہ تجربہ ان کی شخصیت کو وسعت دینے والا ثابت ہوا اور ان کی پہچان مختلف حلقوں تک پھیل گئی۔
اخبار اور کتابت کا سنہری دور
ممبئی کی اردو صحافت میں روزنامہ انقلاب کا ایک نمایاں مقام رہا ہے۔ حافظ محمد غیاث الدین کی زندگی کا ایک طویل حصہ اسی ادارے کے ساتھ وابستہ رہا۔ وہ تقریباً پچیس سے تیس سال تک اس اخبار میں کتابت کے شعبے سے وابستہ رہے۔
اس زمانے میں اخبارات کی تیاری آج کی طرح کمپیوٹر کے ذریعے نہیں ہوتی تھی۔ مضامین، سرخیاں اور دیگر مواد ہاتھ سے لکھے جاتے تھے۔ کاتب حضرات نہایت مہارت اور صبر کے ساتھ اخباری صفحات کو تیار کرتے تھے۔
حافظ محمد غیاث الدین بھی انہی ماہر کاتبوں میں شامل تھے جن کے ہاتھ کی لکھائی نہ صرف صاف اور خوبصورت ہوتی تھی بلکہ اخبار کے معیار کو بھی بلند کرتی تھی۔
1980 اور 1990 کی دہائی روزنامہ انقلاب کے لیے بھی ایک متحرک دور تھا۔ اس زمانے میں دفتر کا ماحول علمی اور صحافتی سرگرمیوں سے بھرپور ہوتا تھا۔ صحافیوں، مدیران اور کاتبوں کے درمیان فکری گفتگو ہوتی اور ایک طرح کا علمی ماحول قائم رہتا تھا۔
انصاف کی طویل جنگ
لیکن اس سنہری دور کے بعد ایک ایسا مرحلہ آیا جس نے کئی محنت کشوں کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
حافظ محمد غیاث الدین کے مطابق ایک ایڈیٹر کی سازش اور انتظامیہ کے غیر انسانی رویے کے نتیجے میں ادارے کے ایڈیٹوریل شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ اس سازش کے تحت پہلے تقریباً تیس افراد سے استعفیٰ لے کر انہیں ادارے سے باہر کر دیا گیا۔
اس کے بعد کتابت کے شعبے کے پندرہ سے بیس کاتب بھی متاثر ہوئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جوانی اور محنت اس ادارے کو دی تھی، مگر اچانک انہیں بے روزگاری اور بے یقینی کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ معاملہ صرف ملازمت سے محرومی تک محدود نہیں رہا بلکہ انصاف کی ایک طویل لڑائی میں تبدیل ہو گیا۔ حافظ محمد غیاث الدین اور ان کے ساتھی گزشتہ پچیس برس سے لیبر کمشنر کے دفتر میں انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
یہ صرف چند افراد کی لڑائی نہیں بلکہ محنت کش طبقے کے حقوق کی ایک علامت بن چکی ہے۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس طویل انتظار کے دوران ان پندرہ بیس کاتبوں میں سے بیشتر دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ کچھ بیمار ہو گئے، کچھ مایوسی میں زندگی کی جنگ ہار گئے۔ آج صرف چند لوگ باقی رہ گئے ہیں جو اب بھی انصاف کی امید میں اس جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال ہمارے معاشرتی اور ادارہ جاتی نظام کے لیے ایک بڑا سوال بھی چھوڑ جاتی ہے کہ آخر مزدوروں کو انصاف حاصل کرنے میں اتنا طویل وقت کیوں لگ جاتا ہے۔
قرآنِ کریم کی خطاطی: زندگی کا روحانی پہلو
صحافتی اور قانونی جدوجہد کے ساتھ ساتھ حافظ محمد غیاث الدین کی زندگی کا سب سے روشن پہلو قرآنِ کریم کی خدمت ہے۔
انہوں نے نہ صرف قرآنِ کریم کی تلاوت اور تعلیم کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا بلکہ اس کی کتابت اور خطاطی بھی کی۔ ان کے مطابق قرآن لکھنا صرف ایک فنی مہارت نہیں بلکہ ایک روحانی عبادت ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ یہ کام کسی منصوبہ بندی کے تحت شروع نہیں ہوا بلکہ دل کے ایک جذبے کے تحت شروع ہوا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ شوق ایک مستقل خدمت میں تبدیل ہو گیا۔
آج بھی ستر سے بہتر برس کی عمر میں وہ کلامِ الٰہی کی خطاطی کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں آج بھی وہی روانی اور محبت محسوس ہوتی ہے جو ایک سچے خادمِ قرآن کے دل میں ہوتی ہے۔
رمضان المبارک اور قرآن کی محفلیں
رمضان المبارک کا مہینہ حافظ محمد غیاث الدین کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں وہ نمازِ عصر کے بعد قرآنِ کریم کی تلاوت اور تعلیم کی محفلیں منعقد کرتے ہیں۔
علاقے کے لوگ بڑی عقیدت کے ساتھ ان محفلوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ان محفلوں میں نہ صرف قرآن کی تلاوت ہوتی ہے بلکہ اس کے معانی اور پیغام کو بھی سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ان کے مطابق رمضان کا مہینہ دراصل انسان کو قرآن کے قریب لانے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔
صبر، امید اور جدوجہد کی داستان
حافظ محمد غیاث الدین کی زندگی دراصل صبر اور امید کی ایک طویل داستان ہے۔ ایک طرف قرآن کی خدمت ہے، دوسری طرف صحافت کا تجربہ اور تیسری طرف انصاف کے لیے پچیس برس کی جدوجہد۔
وہ کہتے ہیں کہ زندگی میں مشکلات آتی ہیں مگر انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر نیت صاف ہو اور مقصد درست ہو تو ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ملتا ہے۔
ان کی زندگی اس حقیقت کی مثال ہے کہ انسان اگر ایمان، علم اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو وہ حالات کی سختیوں کے باوجود اپنی راہ بنا سکتا ہے۔
قرآن کی خدمت، مسجد کی امامت، اردو صحافت میں طویل تجربہ اور مزدوروں کے حقوق کے لیے پچیس برس کی جدوجہد—یہ سب مل کر حافظ محمد غیاث الدین کی زندگی کو ایک ایسی داستان بنا دیتے ہیں جس میں خدمت بھی ہے، قربانی بھی ہے اور انصاف کی امید بھی۔
اور شاید یہی امید انسان کو زندہ رکھتی ہے کہ ایک دن سچ اور انصاف ضرور غالب آئے گا۔

