رمضان المبارک کے آخری ایام اور عید الفطر کی مناسبت سے مولانا مجاہد عالم ندوی کا خصوصی پیغام
الفیض ماڈل اکیڈمی بابوآن بسمتیہ کے استاد اور معروف عالم دین مولانا مجاہد عالم ندوی نے رمضان المبارک کے الوداعی ایام اور عید الفطر کی آمد کے پیش نظر ملت اسلامیہ کے نام ایک اہم ویڈیو پیغام جاری کیا ہے ۔ اس پیغام میں انہوں نے مسلمانوں کو ایک ذمہ دار شہری اور سچا مومن بننے کی تلقین کرتے ہوئے درج ذیل نکات پر توجہ دلائی ہے :
شاہراہوں کا احترام اور نماز کا نظم :
مولانا نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں واضح کیا کہ راستوں پر نماز ادا کرنا عام راہگیروں کے حقوق کی تلفی ہے ۔ اگر مسجد میں جگہ کم ہو تو سڑک جام کرنے کے بجائے عید اور جمعہ کی دو جماعتوں کا نظم کیا جانا چاہیے تاکہ کسی غیر مسلم بھائی کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور نہ ہی ایمبولینس یا ضرورت مندوں کا راستہ مسدود ہو ۔ اسلام میں دوسروں کو تکلیف دے کر کی جانے والی عبادت کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔
راستوں پر بیٹھنے کے آداب :
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا ضرورت راستوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے ۔ اگر ناگزیر ہو تو شاہراہ کے حقوق ادا کرنا لازم ہیں ، جن میں نگاہوں کی حفاظت (غضِ بصر) سلام کا جواب ، تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر شامل ہیں ۔ نوجوانوں کو خاص طور پر عید کی راتوں میں چوراہوں پر ہلہ گلہ کرنے سے بچنا چاہیے ۔
مساجد کا تقدس اور سوشل میڈیا کا فتنہ :
مساجد اللہ کا گھر ہیں ، نہ کہ فوٹو گرافی کے مراکز ۔ مولانا نے سخت افسوس کا اظہار کیا کہ نئی نسل مساجد میں ریلز (Reels) بنانے اور دوران نماز ویڈیو گرافی میں مصروف ہے ، جو کہ شرعاً ممنوع اور عبادت کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ مساجد میں شور و غل اور موبائل کا غیر ضروری استعمال اللہ کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔
زکوٰۃ و صدقات کی درست تقسیم :
مولانا نے اپیل کی کہ عید کی خوشیوں میں اپنے غریب رشتہ داروں اور سفید پوش پڑوسیوں کو فراموش نہ کریں ۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کریں تاکہ مستحقین بھی خوشیوں میں شریک ہو سکیں ۔ نیز ، زکوٰۃ کی رقم محض نمائشی افطار پارٹیوں کے بجائے بیواؤں کی کفالت ، غریب بچوں کی تعلیم اور ہسپتالوں کے واجبات پر خرچ کریں ۔
فضول گوئی سے اجتناب اور خود احتسابی :
انسان کی اخلاقی تکمیل اسی میں ہے کہ وہ "ایران و توران” کی لایعنی بحثوں اور غیر معتبر خبروں کو پھیلانے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دے ۔ مولانا نے کہا کہ امت کو لاحق موجودہ مصائب کا حل دوسروں پر انگلی اٹھانے میں نہیں بلکہ اپنے اعمال کی درستگی اور "خیر کے کاموں” میں سبقت لے جانے میں ہے ۔
عید کی سادگی اور انسانی ہمدردی :
عید الفطر محض نئے کپڑوں اور لذیذ پکوانوں کا نام نہیں بلکہ یہ تقویٰ کے حصول کا جشن ہے ۔ عید کے دن مسکینوں کے گھروں کا چولہا جلانا اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنا ہی اصل عید ہے ۔ ہمیں اپنی خوشیوں میں اعتدال اور سادگی کو اپنا کر ایک بہترین معاشرے کی مثال پیش کرنی چاہیے ۔
خلاصہ کلام :
مولانا مجاہد عالم ندوی نے تمام مسلمانوں کے لیے رمضان کی عبادات کی قبولیت اور عید الفطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالٰی ہمیں دین کا صحیح فہم اور ایک ذمہ دار شہری بن کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین )

