مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
تعلیم کے حوالے سے انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں، ایک تو مذہبی ضرورت ہے، جس کا ایک سرا اس دنیا سے اور دوسرا آخرت سے جڑا ہوا ہے، یہ تعلیم دنیوی سعادت اور اخروی نجات کے لیے ضروری ہے، اسی لیے اس تعلیم کو فرض قرار دیا گیا ، جسے اصطلاح میں بنیادی دینی تعلیم کہتے ہیں، یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سرکار کے رائٹ ٹو ایجو کیشن ( تعلیم کے حق ) سے الگ ایک چیز ہے، جب ہم حق کی بات کرتے تو اس سے لزوم کا پتہ نہیں چلتا، کیونکہ اپنے حق سے دست برداری کو سماج میں بُرا نہیں سمجھا جاتا، بلکہ اگر اس کا تعلق مالی حقوق سے ہو اور کوئی اس سے دست بردار ہو جائے تو اسے ایثار قرار دیا جاتا ہے، لیکن فرض وہ چیز ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں لازم ہے، اور اگر کوئی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو وہ باز پرس ، دارو گیر اور سزا کا مستحق ہوتا ہے، اس لیے تعلیم کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض قرار دیا ، یعنی اس میں کوتاہی پر سزا بھی دی جاسکتی ہے، جبکہ حقوق کے حصول میں کوتا ہی سزا کا موجب نہیں ہوا کرتا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بچے کے بجائے تنبیہ اور دار و گیر گارجین کی ، کی جائیگی، کیونکہ بچوں کی طرف احکام متوجہ نہیں ہوتے۔ تعلیم کے اس مرحلے کے لیے ضروری ہے کہ سماج کے ہر طبقہ کے بچہ کو کم عمری میں ہی تعلیمی اداروں سے جوڑ دیا جائے ، انہیں زری کے کارخانوں اور ہوٹلوں سے اٹھا کر مکتب، مدرسہ اور اسکول کی میز و چٹائی پر بیٹھالا جائے؛ تاکہ ان کی بنیادی دینی تعلیم سلیقے سے ہو سکے اور ان کا بچپنہ ضائع ہونے سے بچ جائے ۔ پورے ہندوستان میں پھیلے مکاتب و مدارس الحمد للہ اس کام کو بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں اور عمدگی اور خوش اسلوبی سے انجام دےرہے ہیں، لیکن خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہنی چاہیے۔
دوسرے علوم وہ ہیں جن کی ضرورت ہمیں اپنی زندگی بسر کرنے میں پڑتی ہے، اور چونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس لیے ان علوم کو اس درجہ میں تو نہیں رکھا جا سکتا کہ سب کے اوپر اس کا حصول فرض قرار دیا جائے، لیکن سماجی اور تمدنی ضرورت کے اعتبار سے مہذب سماج کی تشکیل، عمرانی ضروریات اور زندگی برتنے کے فن کی واقفیت کے لیے الگ الگ علوم و فنون میں مہارت بھی ضروری ہے، ہمیں رہنے کے لیے گھر چاہیے؛ اس گھر کا نقشہ بنانے کے لیے اچھے انجینئر کی ضرورت ہے، بغیر انجینئرنگ میں مہارت کے ہم اس کام کو سلیقے سے نہیں کر سکتے، یہ سلیقگی مکتبی تعلیم سے اوپر اٹھ کر جدید عصری اعلیٰ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس کے لیے مسلمانوں کو انجینئرنگ کالج کھولنے بھی چاہیے اور اپنے بچوں کو اس شعبے میں تیار بھی کرنا چاہیے، کیونکہ آج یہ معاشی استحکام کا بڑا ذریعہ ہے، اور پوری دنیا میں سول اور مکینیکل انجینئرنگ کی مانگ بہت زیادہ ہے، اس میدان میں آگے بڑھنے کا سیدھا مطلب اعلیٰ تعلیم میں مہارت کے ساتھ مسلمانوں کے افلاس اور پس ماندگی کو دور کرنا ہے۔
اسی طرح ہماری صحت کا مسئلہ ہے، یہ ایک جسمانی ضرورت ہے، اس کے لیے ہمارے پاس اچھے ڈاکٹر ہونے چاہیے، جو ہماری بیماریوں کا علاج کر سکیں، میڈیکل کی تعلیم کے لیے ہمارے پاس میڈیکل کالج بھی ہونے چاہیے اور اچھے ہسپتال بھی، دو چار مسلمانوں کے میڈیکل کالج اور دس بیس ہسپتال، آبادی کی ضرورت کو پوری نہیں کر پاتے، یقیناً ہسپتال کا کام انسانی بنیادوں پر ہوتا ہے اور مریض اور ہسپتال کے منتظمین کو یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون کس علاقے اور کس مذہب کا ہے، لیکن ہسپتال بڑی تعداد میں ہوں گے تو مریضوں کو سہولت ہوگی اور کم خرچ میں علاج کے حصول کے لیے بھی سوچنا ممکن ہوگا، بہر حال دیگر سائنسی علوم میں مہارت کا ہے، ہمارے بچے ابتدائی تعلیم سے ثانوی تک جاتے جاتے گھر بیٹھنے اور معاشی وسائل کے حصول کے لیے فکر مند ہو جاتے ہیں، اعلیٰ تعلیم کی طرف توجہ کم ہے، اس لیے ہماری حصہ داری اوپر میں کم ہوتی جا رہی ہے، آئی، ایس، آئی پی ایس، میں نمائندگی گھٹتی جا رہی ہے، سیاسی گلیاروں اور حکومت کے ایوانوں میں بھی آزادی کے بعد ہم مسلسل کم ہو رہے ہیں، ہمارے یہاں لیاقتوں کی کمی نہیں ہے، کئی فکر مندی، منصوبہ بندی اور اس حوصلے کی ہے جو انسان کو آگے بڑھنے کے لیے مہمیز کیا کرتا ہے، یہ مہمیز کرنے والی قوت الگ ہونی چاہیے، اس کے لیے ادارے، تنظیمیں، جماعتیں، شخصیتیں اور سماج کے مختلف طبقات کو آگے آنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی صلاحیتوں کو جدید اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کرنے، یونیورسٹی، کالج، انٹر کالج اور عصری علوم کے اداروں کے کھولنے میں لگانی چاہیے، شرعی حدود و قیود کے ساتھ لڑکیوں کے لیے بھی تعلیمی ادارے کھولنے چاہیے اور ان کو آگے بڑھانا چاہیے اس لیے کہ ایک مرد پڑھتا ہے تو فرد پڑھتا ہے، لیکن ایک لڑکی پڑھتی ہے تو گھر پڑھتا ہے، خاندان کی تعلیم کی بنیاد پڑتی ہے، اور آنے والی نسل کے تعلیم یافتہ ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں، ہمیں ذریعہ تعلیم کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے، انگلش میں بچے کی مہارت اور چیز ہے اور ذریعہ تعلیم اسے بنانا بالکل دوسری چیز، ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان ابتدائی تعلیم کے حصول میں زیادہ معاون اور مؤثر ہے لیکن ہمارا رجحان انگلش میڈیم اسکولوں اور کونونٹوں کی طرف بڑھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں کے بچے بھی اردو زبان سے نابلد ہیں اور اردو کا بڑا سرمایہ ان کی پہونچ سے باہر ہے، ہمیں یہ اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ اردو صرف ایک زبان نہیں ہے، یہ ایک تہذیب ہے، یہ ایک ثقافت اور کلچر ہے، اردو زبان سے نابلد رہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک تہذیب اور ثقافت و کلچر سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں، ضرورت ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ہم اپنی مادری زبان کو فراموش نہ کریں، تاکہ ہماری تہذیب، مذہب اور ثقافت سے ہمارا رشتہ منقطع نہ ہو، ان تمام باتوں کے ساتھ ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ محض تعلیم کا حاصل کر لینا کافی نہیں ہے، بلکہ ہمیں ہر سطح پر اعلیٰ اخلاقی اقدار بھی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، جس کے بغیر انسانی ہمدردی، خیر خواہی اور بھلائی کا تصور ناپید ہوتا ہے، غرض تعلیم کے ساتھ تربیت بھی انتہائی ضروری ہے، ان اداروں میں تربیتی نظام کو اعلیٰ پیمانے پر رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان اداروں سے فارغ ہونے والے صرف ڈاکٹر انجینئر سیاست داں، دانشور نہ ہوں؛ بلکہ وہ اپنی خدمات کے ذریعے فرد سے لے کر سماج کے مختلف طبقات کو فائدہ پہونچا سکیں۔
ایک بڑا مسئلہ حصولِ تعلیم میں گراں قدر اخراجات کا ہے، مسلمانوں کی معاشی حالت عمومی طور پر ایسی نہیں ہے کہ وہ تعلیم کی انڈسٹری سے مطلوبہ علوم حاصل کر سکیں، اس کے لیے ان تمام سرکاری اور غیر سرکاری اسکیموں سے ہمیں طلبہ کو واقف کرانا چاہیے، جس سے فائدہ اٹھا کر ہمارے بچے اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں، اور تعلیم چھوڑنے کے تناسب میں کمی آسکے، میرا خیال ہے کہ تھوڑی سی چوکسی اور مختلف تنظیموں کی طرف سے تھوڑی معلومات کی فراہمی سے ہم اس پریشانی سے چھٹکارا پا سکتے ہیں، ضرورت ہے عزم و ارادہ کی، عزم کمزور ہو اور ارادہ متزلزل تو مالی مشکلات راستے میں حائل ہو جائیں گی اور ان کو عبور کرنا آسان نہیں ہوگا، اس لیے ہمیں اپنے جوانوں میں، طالب علموں میں اعتماد پیدا کرنا چاہیے کہ تم ساری رکاوٹوں دشواریوں اور مشکلات کے باوجود بہت کچھ کر سکتے ہو بقول شاعر:
چٹانیں چور ہو جائیں جو ہو عزمِ سفر پیدا
ایک بڑا کام یہ بھی کرنے کا ہے کہ جو طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، ان کے لیے معیاری تعلیم کا نظم کیا جائے، ادارہ جس سطح کا ہو اور جس طرح کا بھی، وہاں سے ہمارے فارغین اپنی اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے مکمل ہوں، ہم جانتے ہیں کہ یہ دور مقابلوں کا ہے، معیار کا ہے، کوالٹی نہیں رہے گی تو ہم کمپٹیشن کے اس دور میں بچھڑتے چلے جائیں گے، ہم جس معیار کی بات کرتے ہیں، وہ ہمارے مقابل سے کئی گنا آگے ہونا چاہیے، اس لیے کہ بحالی والا قلم جن کے ہاتھ میں ہے، وہ عام حالات میں ہم تک پہونچتے پہونچتے شل ہو جاتا ہے اور ہمارے طلبہ کو مختلف قسم کے تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس لیے ہمیں ہیوی ایکسٹرا صلاحیت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا، میں بات صلاحیت کی کر رہا ہوں، صرف نمبرات کی نہیں، نمبرات کے باوجود کاغذات کے اس ٹکڑے کے پیچھے علمی صلاحیت کا فقدان ہو تو ہمیں کوئی آگے نہیں بڑھا سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہے، علم کے میدان میں، تحقیق کے میدان میں، تجربات کے میدان میں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و ملت کا مفید حصہ بننا ہے، یہ ایک تحریک ہے، یہ مہم ہے اس تحریک اور مہم کو کامیاب کرنے کے لیے سب کو آگے آنا چاہیے۔

