سہلاؤشریف/باڑمیر(پریس ریلیز): مغربی راجستھان کی عظیم و ممتاز اور علاقۂ تھار کی مرکزی دینی درسگاہ "دارالعلوم انوارِ مصطفیٰ سہلاؤ شریف” سے روحانیت و عقیدت کا ایک نورانی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب دارالعلوم کے مہتمم و شیخ الحدیث اور خانقاہ عالیہ بخاریہ کے صاحبِ سجادہ پیرِ طریقت، رہبرِ راہِ شریعت، نورالعلماء حضرت علامہ الحاج سید نوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی کی قیادت میں تقریباً 70 خوش نصیب زائرین پر مشتمل ایک بابرکت قافلہ حجِ بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے  6 ذوالقعدہ 1447ھ مطابق 24 اپریل 2026ء بروز جمعہ حرمین طیبین کی جانب روانہ ہوا۔
قابلِ ذکر ہے کہ اس نورانی قافلے میں شامل خوش نصیب حجاجِ کرام میں چند معزز و معتمد شخصیات کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
حضرت مولانا غلام رسول صاحب خطیب وامام جامع مسجد ایٹادہ،حضرت مولانا امیر علی صاحب،حضرت مولانا عبدالرسول صاحب قاادری انواری، جناب سرپنچ سچو خان صاحب،ماسٹر علم خان، سرپنچ لال محمد وغیرہ جو اس سعادتِ عظمیٰ کے حصول کے لیے شوق و وارفتگی کے ساتھ حرمین طیبین کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کے حج کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں مقبولانِ بارگاہِ الٰہی میں شامل فرمائے۔ آمین۔
حج بیت اللہ بلا شبہ ایک مومن کی زندگی کا سب سے عظیم، مبارک اور روح پرور سفر ہے۔ یہ وہ مقدس عبادت ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ “جو شخص اللہ کے لیے حج کرے اور اس میں نہ کوئی فحش بات کرے اور نہ گناہ، تو وہ ایسے لوٹتا ہے جیسے آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو”۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صاحبِ ایمان کے دل میں بیت اللہ کی حاضری اور روضۂ رسول ﷺ کی زیارت کی تڑپ موجزن رہتی ہے۔
مکہ مکرمہ کی عظمتیں جلالِ خداوندی کی آئینہ دار ہیں تو مدینہ منورہ کی فضائیں جمالِ مصطفوی ﷺ سے معطر ہیں۔ یہی وہ مقدس سرزمین ہے جہاں قرآن نازل ہوا، جہاں سے ہدایت کی کرنیں پھوٹیں اور جہاں نبی اکرم ﷺ اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے انسانیت کے لیے رہنمائی کا کامل نمونہ پیش فرمایا۔
اس بابرکت سفر کے موقع پر قبلہ سید صاحب کی طرف سے الوداعی ملاقات کے لیے آنے والے مہمانوں نیز دارالعلوم کے اساتذہ و طلبہ کے لیے کوٹ شریف (پیر صاحب کے اوطاق) میں دعوت کا انتظام تھا، یہ سلسلہ تقریباً 9 بجے صبح سے شام تک چلتا رہا، لوگ لنگر بخاری سے شادکام ہوتے رہے۔ بعد نماز عصر کوٹ شریف کی مسجد میں ایک روح پرور الوداعیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں علاقے کے علماء، حجاج کرام، مریدین و متوسلین، اساتذۂ کرام، طلبۂ عزیز اور عوامِ اہلِ سنت کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، بعد ازاں معروف نعت خواں حضرات مولانا قاری محمد جاوید صاحب سکندری انواری و عزیزالقدر مولانا عبد الرسول صاحب قادری انواری نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے اور رقت انگیز الوداعی کلام پیش کر کے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔
اس موقع پر خود پیرِ طریقت حضرت علامہ سید نوراللہ شاہ بخاری مدظلہ العالی نے ایک مختصر مگر جامع خطاب فرمایا، جس میں آپ نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس مبارک سفر کے لیے دعاؤں کی اپیل کی۔ آپ نے فرمایا کہ حج محض ایک سفر نہیں بلکہ بندے اور رب کے درمیان تعلق کی تجدید کا نام ہے، لہٰذا اخلاص، تقویٰ اور اتباعِ سنت کے ساتھ اس کی ادائیگی ہی اس کی روح ہے۔ آخر میں آپ نے تمام حاضرین کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھنے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
اس نورانی قافلے میں دارالعلوم کے معزز اساتذہ، حضرت مولانا باقر حسین صاحب قادری برکاتی انواری، حضرت مولانا علم الدین صاحب قادری انواری سمیت متعدد اہلِ علاقہ شامل ہیں، جو اس سعادتِ عظمیٰ کے لیے روانہ ہو رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مبارک قافلے کے سفر کو آسان فرمائے، حج کے جملہ ارکان کو صحیح طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، حرمین طیبین میں کثرتِ عبادت و ریاضت کی سعادت نصیب کرے اور ان مقدس مقامات کے صدقے ان کی تمام جائز دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
مذکورہ اطلاع دارالعلوم انوارِمصطفیٰ سہلاؤ شریف کے ناظم تعلیمات ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی نے پریس ریلیز کے ذریعہ دیا-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے