محمد قاسم ٹانڈؔوی
ہمارے اس ملک ہندوستان کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک خاصیت و خوبی یہ بھی رہی ہے کہ یہاں صدیوں سے آباد چلے آ رہے لوگ مشترکہ طور پر اور آپسی تال میل کے بہ حیثیت ہندوستانی قوم بن کر ایک ساتھ زندگی گزر بسر کرتے آئے ہیں، باوجود رنگ و نسل، زبان و بیان اور مذہب و ملت کی باہمی تفریق و امتیاز کے رنج و غم کے مواقع اور خوشی و مسرت کے عنوان پر پورا سماج لڑی میں پروئے ہوئے موتی اور پھولوں کی مالا کے مانند شریک اور ایک جگہ جمع ہوتا نظر آتا تھا۔ آج بھی قدیم و تاریخی مقامات اور بستیاں ہیں، وہاں مسجد و مندر کی دیواریں اور قبرستان و شمشان گھاٹ کی طرف جانے والے راستے آپ کو ایک ہی نظر آئیں۔ یہی کچھ حال مذہبی امور اور سماجی رسوم کا بھی تھا؛ کہ اگر کسی مسلمان کے گھر خوشی یا غم کا ماحول ہوتا تو پڑوس میں آباد غیرمسلم کا پورا گھرانہ اس مسلم خاندان کے رنج و غم میں برابر کا شریک رہتا اور اگر کسی غیرمسلم کے یہاں کوئی رنج و آفت آ پڑتی تو مسلمان اپنے جان و مال کے ساتھ حاضر ہوتا اور اس مصیبت زدہ ہندو خاندان کو اپنی طرف سے ہر ممکن مدد پہنچا کر اپنا دینی و ملی فریضہ تصور کرتا اور سکون کی سانس لیتا۔
ملک اپنی قدیم تاریخ و وراثت، مشترکہ تہذیب و ثقافت اور صدیوں تک یہاں کے تخت و تاج کے تن تنہا مالک اور بےمثال عوامی خدمت انجام دینے والے مسلم بادشاہوں کی حکمرانی کا جو عالمی ریکارڈ حاصل ہے؛ اس کےلیے ہمارا یہ ملک ایک تاریخی ریکارڈ و مثال کے طور جانا پہچانا جاتا ہے۔ جہاں ہر دور کے حکمرانوں نے بلا تفریق و امتیاز تمام مذاہب کے احترام و تقدس کو پامال ہونے سے بچائے رکھا اور کسی بھی مذہب کی تعلیم و ترویج پر نہ تو کوئی بندش و جرمانہ لگایا اور نہ ہی مذہبی شخصیات کے ادب و احترام میں عوامی سطح پر کمی آنے دی؛ بلکہ تاریخ بتاتی ہے کہ اپنے اپنے مذہب کی نشر و اشاعت اور رسم و رواج پر جتنی آزادی مغل سلطنت میں لوگوں کو حاصل رہی ہے، اتنی نہ تو انگریزوں کے دور میں رہی اور نہ ملک آزاد ہونے کے بعد اب تک کسی بھی دور میں لوگوں کو حاصل ہو سکی ہے۔
آزادی کے بعد ملک کے طول و عرض پر کانگریس پارٹی کی حکومت رہی ہے اور بہ حیثیت اقتدار ریاستی و مرکزی حکمرانی کی جو صورت حال موجودہ وقت میں دکھائی دے رہی ہے، کبھی ویسا ہی دور کانگریس کا بھی رہا ہے، اور بیشتر ریاستوں میں اسی کے بٹھائے ہوئے وزیراعلی حکمرانی کرتے تھے۔ ریاست اترپردیش؛ جہاں کی سیاسی حکمت عملی اور عوامی ہلچل کو ہمیشہ دارالحکومت کا سیاسی رخ طے کرنے کا اہم ترین سبب تصور کیا جاتا ہے، اور وہاں کے انتخابی نتائج کو دہلی کی حکومت سازی کے واسطے سیمی فائنل کے طور پر گردانا جاتا رہا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ:
"سفید گنبد والی عمارت (پارلیمنٹ) کا راستہ دراصل اترپردیش کی پر پیچ راہوں سے ہو کر گزرتا ہے؛ چنانچہ اترپردیش میں جس کی حکومت ہوگی، مرکز کا اقتدار واسطہ یا بلاواسطہ اسی کے کنٹرول میں ہوگا۔”
جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ ملک کے طول و عرض پر طویل عرصے تک اسی کانگریس پارٹی نے حکومت کی ہے، جسے اپنا مرکزی اقتدار کھوئے ہوئے آج تقریبا 13/سال ہو گئے، جس کی ہر ممکن کوشش یہی ہے کہ اقتدار میں واپسی ہو جائے، جس کےلیے پارٹی صدر کھڑگے سمیت راہل گاندھی اور ان کی پوری ٹیم رات و دن ایک کئے ہوئے ہیں، اور جس ریاست میں بھی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے، پوری شد و مد اور حکمت عملی کے ساتھ وہاں تیاری میں لگے نظر آتے ہیں اور پوری طاقت و توانائی اور جوش و خروش کے ساتھ مدمقابل کا سامنا کیا جاتا ہے۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ کانگریس اور اس کی ہمنوا (سیکولر) پارٹیوں کی اب واپسی ہونی بھی چاہئے، ہم بھی اس کی واپسی کے خواہاں ہیں؛ کیوں گذشتہ تیرہ سالوں سے ملک کے عوام جن حالات سے دوچار ہیں، وہ حالات کسی بھی فرد بشر اور عقل و شعور رکھنے والے سے مخفی نہیں ہیں۔ مسئلہ کمر توڑ مہنگائی کا ہو یا نوجوانوں کی بےروزگاری سے مربوط ہو، ہند و مسلم کے درمیان گہری ہوتی نفرت کی کھائی کا ہو یا کسانوں سے وابستہ مسائل و معاملات کا ہو؛ موجودہ حکومت تمام مسائل سے آنکھیں موندے اپنے ایک خاص ایجنڈے پر کار بند ہے اور ملک کو مزید مشکلات میں دھکیلنے پر آمادہ نظر آتی ہے؛ اس لیے عوام کی نظریں ایک بار پھر کانگریس اور اس کی اتحادی پارٹیوں کی طرف ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہی ہیں۔
گرچہ شکایتیں کانگریس سے بھی بہت ہیں، اور اسے اس کی سیاسی منصوبہ بندی پر کلین چٹ نہیں دی جاسکتی ہے؛ کیوں آج مسلمانوں کی جو صورت حال بنی نظر آتی ہے، اس میں بڑا کردار کانگریس ہی کا ہے، جہاں اس نے مسلمانوں کو یکطرفہ مظالم کا شکار بنا کر نقصان سے دوچار کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر مسلمانوں کا سیاسی نقصان جو تصور کیا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کانگرس نے مولانا آزاد کے بعد آج تک کسی مسلم قائد کو ابھرنے ہی نہیں دیا اور دوسرے مسلم مخالف جتنے بھی قانون اور ان کے مسودے تیار ہوئے، ان سب کی تیاری میں بھی کانگریس کی سوچ کار فرما رہی ہے، اور جہاں جہاں سے بھی مذہب اسلام اور مسلمانوں کو زک پہنچائی جا سکتی تھی؛ کانگریس پارٹی اس کو یکطرفہ طور پر کر گزرتی تھی۔
یہی وہ دہلی ہے، جہاں سے پہلے مغلوں نے، اس کے بعد قابض و ظالم انگریزوں نے اور پھر آزادی کے بعد یہاں سے جمہوری نظام تشکیل پاکر الگ الگ سیاسی جماعتیں حکمرانی کی کرسی پر سوار اپنا اپنا سیاسی سفر طے کر رہی ہیں؛ جس پر کبھی تو نرم ہندتوا کا نظریہ رکھنے والی (کانگریس اور اس کی اتحادی) پارٹیوں کا قبضہ اور سکہ چلتا رہا اور کبھی گرم ہندتوا سے مشہور (بھارتیہ جنتا پارٹی، اور اس کی اتحادی) جماعتوں کا راج قائم رہا، آج بھی جبکہ بیشتر ریاستوں اور مرکز جہاں این ڈی اے گروپ کی تشکیل دی ہوئی حکومتیں ہیں، ان کے سیاسی نظریات اور فکری زاویوں کو دیکھ کر پورے وثوق کے ساتھ یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ ملک کے جمہوری نظام کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس کی جگہ منواسمرتی کو لا کر اپنی اس دیرینہ خواہش کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں، جس کےلیے گھر گھر، گاؤں گاؤں اور بستی بستی نفرت و تشدد کا ماحول بنا رکھا ہے، اور اس کام کےلیے انہوں تمام سرکاری و نیم سرکاری ایجنسیز اور اداروں کو مٹھی میں لےکر ایک خاص ماحول بنا رکھا ہے۔ اور عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھا کر اپنے مذہب کی بالادستی قائم کرنے کےلیے الگ الگ حصوں میں منقسم کر رکھا ہے۔ جس کی مذمت پر نہ اکثریتی طبقے کی زبان کھل رہی ہے اور آئین و دستور کے محافظ دستوں کی خاموشی ٹوٹ رہی ہے، سب کے سب تماش بین بنے شاید اس موقع کے انتظار میں ہیں، جہاں سے واپسی تقریبا ناممکن ہوتی ہے اور ہونے والے قومی و ملکی نقصان کی تلافی مشکل؛ اس لیے ملک کے ہر بالغ و شعور یافتہ شہری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ: وہ ملک کی سلامتی اور ترقی و خوشحالی کےلیے آواز بلند کرے اور جو طاقتیں ملک کے آئین اور جاری نظام کو کمزور کرنے کی فکر و کوشش میں لگے ہیں، ان کو بر وقت جواب دینا چاہئے اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کرکے سزا بھی دینی چاہئے۔
