منااکھیلی- 28/اپریل (عبدالقدیر لشکری): ہمناآباد شہر کے مشہور فنکشن ہال ’نور گارڈن‘ میں جناب امان خان کی جانب سے عازمینِ حج کی رہنمائی کے لیے ایک روزہ ’حج تربیتی کیمپ‘ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ اس کیمپ میں ہمناآباد اور اطراف و اکناف کے عازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا نذیر احمد رشادی (بانی و مہتمم مدرسہ تجوید القرآن، گلبرگہ) نے کہا کہ حج اللہ کا عظیم بلاوا ہے، لیکن اس مقدس سفر پر روانگی سے قبل بندوں کے حقوق (حقوق العباد) ادا کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں حج کا سفر دشوار گزار تھا، آج سہولیات ہیں، لہٰذا عازمین اپنا پورا وقت اللہ کی عبادت اور ذکر و اذکار میں گزاریں۔مولانا مفتی عبد ا لصبور صاحب قاسمی (جنرل سیکرٹری جمیعت علماء ہند سنگاریڈی) نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں کہا کہ خانہ ء کعبہ توحید کا مرکز ہے۔ انہوں نے عازمین کو متنبہ کیا کہ حج صرف اللہ کی رضا کے لیے ہو، نام و نمود یا اپنے نام کے آگے ’حاجی‘ لکھوانے کے شوق میں نیت خراب نہ کریں۔ انہوں نے حج کے تین فرائض (احرام، وقوفِ عرفات اور طوافِ زیارت) اور واجبات بشمول وقوفِ مزدلفہ کی تفصیلات بتائیں۔ کیمپ میں عازمین حجاج کو مشورہ دیا گیا کہ وہ سفر کے دوران اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں، ضروری ادویات ساتھ رکھیں اور غیر ضروری دعوتوں سے پرہیز کریں۔ مفتی صاحب نے بتایا کہ مردوں کے لیے سلے ہوئے کپڑے، خوشبو اور سلے ہوئے جوتوں کا استعمال ممنوع ہے۔ انہوں نے عمرہ کی نیت کے حوالے سے فقہی مسائل بھی واضح کیے۔
مولانا محمد فیاض الدین قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے جناب امان خان کی سماجی خدمات کو سراہا اور کہا کہ ہمناآباد میں طویل عرصے بعد عازمین کے لیے اتنے بہترین کیمپ کا انتظام کیا گیا ہے۔ انہوں نے عازمین پر زور دیا کہ وہ ’سیرت النبی ﷺ‘ اور ’فضائلِ اعمال‘ کا مطالعہ کر کے جائیں، وہاں تصویر کشی اور سیاسی گفتگو سے مکمل اجتناب کریں اور صرف صبر کا دامن تھامے رکھیں۔پروگرام کے اختتام پر مولانا محمد مجیب صاحب نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ مولانا محمد فیاض قاسمی کی رقت انگیز دعا پر کیمپ کا اختتام ہوا اس موقع پر جناب امان خان کی جانب سے تمام عازمینِ حج کی شالپوشی اور گلپوشی کی گئی اور انہیں مبارکباد دی گئی۔آخر میں تمام کے لئے طعام کا اہتمام کیاگیاتھا۔ مولانا مفتی تنویر صاحب،حافظ سید عرفان اللہ،مفتی سہیل عاطف، مفتی اسلم صاحب،مولانا وسیم صاحب،مفتی اویس صاحب،اور دیگر افراد موجود تھے ،خواتین بھی موجود تھیں۔
