تصویر محمد محب اللہ المحمدی (بائیں) اور سرفراز احمد المحمدی(دائیں)

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے دو دیرینہ رفقاء محمد محب اللہ المحمدی (کلیۃ الحدیث) اور سرفراز احمد المحمدی (کلیۃ العقیدہ) کی فراغت کے موقع پر ایک تاثراتی و تہنیتی مضمون

✍️✍️✍️: فخر الحسن المحمدی 

طالب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ 

الحمد للہ رب العالمین، حمداً یوافی نعمہ ویکافئ مزیدہ، والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین، خاتم النبیین، محمدٍ مصطفیٰ ﷺ، وعلی آلہ واصحابہ اجمعین، اما بعد:

آج کا دن، 27 اپریل 2026ء، ہمارے لیے نہایت مسرّت انگیز، فرحت آفریں اور باعثِ شکر و امتنان ہے کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ، جو علم و عرفان کا مرکزِ تابندہ اور فیضانِ نبوت کا امین ادارہ ہے، سے ہمارے دو نہایت قریبی، دیرینہ اور مخلص رفقائے کار، محمد محب اللہ المحمدی اور سرفراز احمد المحمدی، کامیابی و کامرانی کے ساتھ اپنی علمی مسافت مکمل کرکے فراغت کے شرف سے سرفراز ہوئے۔

یہ حضرات محض ہم عصر یا ہم درس نہیں، بلکہ رفاقت کے ان گہرے رشتوں سے وابستہ ہیں جن کی بنیاد خلوص، مودّت، باہمی احترام اور مشترکہ علمی و فکری سفر پر قائم ہوتی ہے۔ زمانۂ طالب علمی کی وہ ساعتیں، جن میں ہم نے یکجا ہوکر علم کی جستجو کی، کتبِ علمیہ کی ورق گردانی کی، اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا، اور فکری و علمی مباحث میں شرکت کی، آج یادوں کے ایک حسین مرقع کی صورت میں ذہن و دل کے اوراق پر ثبت ہیں۔ ان ایام کی رفاقت نے نہ صرف علمی استعداد کو جِلا بخشی بلکہ شخصی و اخلاقی تربیت میں بھی گراں قدر اضافہ کیا۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کا شمار عالمِ اسلام کے ان ممتاز علمی مراکز میں ہوتا ہے جہاں سے فیوضِ نبویہ کی خوشبوئیں مہکتی ہیں، اور جہاں کے فارغ التحصیل حضرات علمِ نافع، فکرِ سلیم اور منہجِ مستقیم کا بیش بہا سرمایہ لے کر دنیا میں قدم رکھتے ہیں۔ اس جامعہ سے فراغت، محض ایک تعلیمی مرحلہ کی تکمیل نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور خطیر ذمہ داری کا آغاز ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ حاملینِ علم اپنے علم کو اخلاص، دیانت اور حکمت کے ساتھ امت تک منتقل کریں۔

محمد محب اللہ المحمدی نے کلیۃ الحدیث سے اپنی تعلیم مکمل کی، جو علومِ حدیث کا ایک معتبر و مستند مرکز ہے۔ یہاں سے فراغت اس امر کی غماز ہے کہ انہوں نے اقوالِ رسول ﷺ، آثارِ صحابہؓ، اور اصولِ روایت و درایت میں قابلِ قدر مہارت حاصل کی ہے۔ علمِ حدیث کی یہ نسبت نہایت جلیل القدر ہے، کیونکہ یہی وہ علم ہے جو دین کے مصادرِ اصلیہ میں سے ایک عظیم مصدر کی حفاظت اور اشاعت کا ضامن ہے۔

اسی طرح سرفراز احمد المحمدی نے کلیۃ العقیدہ سے فراغت حاصل کی، جو عقیدۂ صحیحہ، منہجِ سلف صالحین، اور فکری استقامت کی تعلیم کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ عصرِ حاضر میں جہاں فکری انتشار اور اعتقادی انحرافات نے جنم لیا ہے، وہاں ایسے ماہرین کی اشد ضرورت ہے جو بصیرت، اعتدال اور حکمت کے ساتھ حقائقِ دین کو واضح کریں اور امت کی فکری رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیں۔

ان دونوں معزز رفقاء کی یہ کامیابی محض ذاتی محنت و جستجو کا ثمر نہیں بلکہ ان کے عزمِ صمیم، استقامتِ مسلسل، اور علم کے ساتھ گہری وابستگی کا آئینہ دار ہے۔ ان کے شب و روز کی محنت، اساتذۂ کرام سے اخذ و استفادہ، اور علمی انہماک نے انہیں اس مقام تک پہنچایا جہاں آج وہ امت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ بن چکے ہیں۔

یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ فراغت، اختتام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ اب ان حضرات پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علم کو عمل سے مزین کریں، اپنے کردار کو علم کا آئینہ بنائیں، اور دعوت و اصلاح کے میدان میں اخلاص و حکمت کے ساتھ اپنی خدمات پیش کریں۔ یقیناً علم بغیر عمل کے بے نور ہے، اور عمل بغیر اخلاص کے بے اثر۔

ہم بارگاہِ رب العزت میں نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات کے علم میں برکت عطا فرمائے، ان کے افکار کو اعتدال و استقامت سے مزین رکھے، اور ان کی مساعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ انہیں علماءِ ربانیین، دعاۃِ مخلصین، اور خدامِ دین میں شامل فرمائے، اور ان کے ذریعے امتِ مسلمہ کو ہدایت، بصیرت اور خیرِ کثیر نصیب فرمائے۔

آخر میں، ہم دل کی عمیق گہرائیوں سے اپنے ان دیرینہ رفقاء کو اس عظیم کامیابی پر ہدیۂ تہنیت پیش کرتے ہیں۔ ان کی یہ کامیابی ہمارے لیے بھی باعثِ افتخار ہے، اور ہمیں کامل یقین ہے کہ یہ حضرات مستقبل میں علم و عمل کے افق پر نمایاں مقام حاصل کریں گے۔

اللہ تعالیٰ ان کے ایام کو مزید کامیابیوں سے مملو فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

واللہ ولی التوفیق

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے