حیدرآباد 15/ اگست(مشرقی آواز جدید): ہمارے ملک کو آزادی حاصل کئے ہوئے 79 سال مکمل ہوچکے ہیں اور اس سال ہم آزادی کے 80 ویں سال کی شروعات کر رہے ہیں، اس یادگار موقع پر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ اس ملک کی آزادی کے حصول میں مسلمانوں اور خاص کر مدارس کے فارغین نے بڑی قربانیاں دی ہیں، اور بحیثیت خواتین ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ان مجاہدین آزادی کے شانہ بہ شانہ خواتین نے بڑا اہم رول ادا کیا۔
ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر رفعت سیما صاحبہ، نے اپنی صدارتی تقریب میں کیا، انہوں نے ان خواتین مجاھد آزادی کے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بیگم حضرت محل جنہوں نے نواب واجد علی شاہ کو جلا وطن کردئے جانے کے بعد زمام حکومت نہ صرف اپنے ہاتھ میں لے لی بلکہ میدان جنگ میں بھی اپنے جوہر دکھائے، اسی طرح مجاہدین آزادی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کی والدہ بی اماں جن کا اصل نام واجدی بیگم تھا انہوں نے پورے ملک میں آزادی کی جدوجہد میں ایک نیا ولولہ پیدا کردیا، انکی بہو امجدی بیگم جو مولانا محمد علی کی بیوی تھیں انہوں نے بھی جدوجہد آزادی کی تحریک کو ایک نئی جلا بخشی ، اسی طرح مولانا حسرت موہانی کی اہلیہ نشاط بیگم نے انگریزی عدالتوں میں اپنے شوہر کی قانونی پیروی بھی کی جبکہ مولانا أبو الکلام آزاد کی بیوی،زلیخا بیگم نے اپنے شوہر کی گرفتاری کے بعد انکے بنگال خلافت کمیٹی کے پورے کاموں کی ذمہ داری خود ادا کرنے لگیں، اس طرح ہر قدم پر ان اولوالعزم خواتین نے اپنے دور کی ذمہ داریاں نبھائیں، آج ہم خواتین کو بھی اپنی صلاحیتوں اور توانائیوں سے اپنے ملک و قوم کو فائدہ پہنچانا اور اس دور کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔
پروگرام کے آغاز میں عالمہ و انجینئر سیدہ صدف نے آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ ایک مسلمان کبھی غلامی کو برداشت نہیں کرسکتا کیوں کہ،اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو انسانی غلامی سے آزاد کرکے صرف اللہ واحد کا غلام بناتا ہے،
اس موقع پر عظمئ مہک اور خدیجہ اور سمیہ اور عائشہ نے حب الوطنی پر مبنی نظمیں پڑھیں، اور طالبہ أقصئ اور افشاں نے مولانا شوکت علی اور مولانا اشفاق اللہ ، مجاہدین آزادی کی خدمات پر روشنی ڈالی، اور آخر میں خوشحال اور تعصب اور نفرت سے پاک ایک پر امن ملک کی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام عمل میں آیا۔۔۔
