جاوید جمال الدین
ہندوستان کی موجودہ سیاست میں جاری نظریاتی کشمکش کو اگر ایک بنیادی سوال میں سمیٹا جائے تو وہ یہ ہے کہ کیا ڈیڑھ ارب آبادی والے ملک میں چند افراد یا کوئی ایک تنظیم یہ طے کرے گی کہ پورے ملک کے لیے سچ کیا ہے، یا ہر شہری کو اپنی زندگی، اپنے تجربات، اپنے خوابوں اور اپنی سچائی کو خود سمجھنے اور تلاش کرنے کا حق حاصل ہوگا؟ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے جمعرات کو جواہر بھون میں منعقدہ پروگرام ’’ہرا بھرا سوراج: راجیو گاندھی کے ویژن کو خراج‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے اسی سوال کو ہندوستان کی موجودہ نظریاتی جنگ کا مرکزی نکتہ قرار دیا۔
راہل گاندھی کی تقریر محض بھارتیہ جنتا پارٹی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر سیاسی تنقید تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس میں فرد کی آزادی، سوراج، تعلیم، امتحانی نظام، معاشی مساوات، مذہبی و سماجی شمولیت اور جمہوری حقوق کے بارے میں ان کے سیاسی تصور کی جھلک بھی نمایاں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک ایسا گروپ موجود ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہر شخص کی سچائی جانتا ہے، حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان اپنے تجربات، دکھوں، خوابوں اور حالات کو خود سب سے بہتر جانتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی طالب علم ان کے پاس آتا ہے تو ان کا کام اسے یہ بتانا نہیں کہ اس کی سچائی کیا ہے، بلکہ اس کی بات سننا، اس کے تجربے کا احترام کرنا اور اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ خود یہ سمجھنے لگیں کہ وہ کسی دوسرے انسان کی سچائی کو پوری طرح جانتے ہیں تو یہ غیر معقول بات ہوگی، کیونکہ انہوں نے وہ حالات نہیں جھیلے جو دوسرے شخص نے جھیلے ہیں، نہ وہ چیزیں دیکھی ہیں جو اس نے دیکھی ہیں۔ اسی بنیاد پر راہل گاندھی نے آر ایس ایس پر الزام عائد کیا کہ اس نے یہ فرض کرلیا ہے کہ وہ ہندوستان کے تقریباً ڈیڑھ ارب لوگوں کی سچائی جانتی ہے۔
یہاں راہل گاندھی نے ’’سوراج‘‘ کی بھی وسیع تشریح پیش کی۔ ان کے مطابق سوراج کا مطلب صرف بیرونی آزادی نہیں بلکہ ’’اپنے اوپر راج‘‘ ہے۔ یعنی انسان اپنی سوچ، اپنے فیصلوں اور اپنی زندگی کی ذمہ داری خود قبول کرے۔ کسی دوسرے شخص کو آزادی دی جاسکتی ہے، لیکن اسے سوراج نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ سوراج بنیادی طور پر فرد کے اندر سے پیدا ہونے والی آزادی، خود شناسی اور اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔
اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی نوجوان انجینئر، باورچی، موچی یا خلا باز بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی پسند کے مطابق زندگی کا راستہ اختیار کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ شہریوں کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالیں، بلکہ یہ ہے کہ ان کے تخیل اور خوابوں کے دروازے کھولے جائیں، انہیں تعلیم، مواقع اور ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق آگے بڑھ سکے۔
راہل گاندھی نے اس تصور کو مہاتما گاندھی کے ہندوستان اور سوراج کے نظریے سے جوڑا۔ ان کے مطابق گاندھی کا تصور ایسا ہندوستان تھا جہاں ہر انسان کو اپنی زندگی کا راستہ تلاش کرنے کی آزادی حاصل ہو۔ لیکن یہ تصور اس وقت تک عملی شکل اختیار نہیں کرسکتا جب تک ملک کا تعلیمی نظام عام آدمی کی پہنچ میں نہ ہو اور امتحانات کا نظام منصفانہ نہ بنایا جائے۔ اگر تعلیم انتہائی مہنگی ہو اور امتحانی نظام طلبہ کے ساتھ انصاف نہ کرے تو نوجوانوں کے خواب محض خواب بن کر رہ جاتے ہیں۔
ان کی تقریر کا ایک اہم پہلو معاشی نظام سے متعلق بھی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گاندھی کے ہندوستان کی تعمیر ایسے مالیاتی نظام کے تحت ممکن نہیں جس میں دولت اور وسائل چند افراد یا بڑے گروپوں کے گرد مرتکز ہوجائیں۔ اسی طرح سیاسی نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جو عوام سے جڑا ہو اور عام شہری کو اپنی آواز بلند کرنے اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں حصہ لینے کا حقیقی موقع فراہم کرے۔
راہل گاندھی نے اس نظریاتی بحث کو ملک کے مختلف محروم اور کمزور طبقات سے بھی جوڑا۔ انہوں نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ مسلمانوں، عیسائیوں اور سکھوں کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ ان کی موجودگی اور شناخت کی اہمیت نہیں۔ قبائلی برادریوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی زمین اور وسائل سے محرومی کا خوف ہے، جبکہ دلتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو بھی وہ مناسب اہمیت نہ دینے کا الزام بی جے پی پر عائد کرتے ہیں۔
ان الزامات کی اپنی سیاسی تعبیر ہوسکتی ہے اور بی جے پی یقیناً ان سے اختلاف کرتی رہی ہے، لیکن راہل گاندھی کی تقریر میں ایک بنیادی سوال ضرور نمایاں ہوا: ہندوستانی قومیت کا دائرہ کتنا وسیع ہے؟ کیا ہندوستان صرف اکثریت کی شناخت سے تشکیل پاتا ہے یا اس میں مذہب، ذات، جنس اور علاقے سے قطع نظر ہر شہری کی یکساں شرکت ضروری ہے؟ راہل گاندھی کے مطابق ہندوستان کی تعمیر اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک ہر فرد کو یہ احساس نہ ہو کہ یہ ملک اس کا بھی ہے، یہاں اس کی عزت ہوتی ہے اور اس کی سچائی کی تلاش بھی اہمیت رکھتی ہے۔
اسی نظریاتی بحث کا ایک عملی پہلو دہلی میں پیلٹ گن سے زخمی ہونے والے 19 سالہ ساحل لوچپ کے معاملے میں سامنے آیا۔ ساحل، جو 20 جولائی کو ایک احتجاج کے دوران زخمی ہوا تھا، کے بارے میں بتایا گیا کہ پیلٹ کے چھروں سے اس کی ایک آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کا خطرہ ہے، جبکہ کچھ چھرے اس کے دل کے قریب موجود ہیں اور انہیں نکالنے میں بھی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔
ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج نہ ہونے کے خلاف راہل گاندھی نے دہلی کے مندر مارگ پولیس اسٹیشن سے اپنی کوشش شروع کی۔ ساحل اور اس کی والدہ جیوتی بھی ان کے ساتھ تھیں۔ جب وہاں ان کی درخواست پر کارروائی نہ ہوئی تو وہ پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن پہنچے اور نئی دہلی ضلع کے ڈپٹی کمشنر پولیس سچن شرما سے ملاقات کی۔ بات چیت بے نتیجہ رہنے کے بعد راہل گاندھی نے پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنا شروع کردیا۔
اس احتجاج میں پرینکا گاندھی، جے رام رمیش، وویک تنکھا، سپریا شرینیت اور پارٹی کے دیگر سینئر رہنما بھی موجود تھے۔ راہل گاندھی نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ صرف ایف آئی آر اور تفتیشی افسر کی تعیناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کئی ماہ تک پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھے رہیں گے۔ ان کا الزام تھا کہ پولیس افسر ’’اوپر سے‘‘ ہدایات کا حوالہ دے رہے ہیں، جبکہ متاثرہ نوجوان اور اس کی والدہ کئی دنوں سے ایک پولیس اسٹیشن سے دوسرے پولیس اسٹیشن کے چکر لگا رہے تھے۔
بعد ازاں پولیس نے ساحل کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی۔ پولیس کے مطابق کارروائی بھارتیہ نیائے سنہتا کی متعلقہ دفعات کے تحت کی گئی، جن میں خطرناک ہتھیار یا ذرائع سے چوٹ پہنچانے اور دوسروں کی زندگی یا ذاتی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد راہل گاندھی نے اسے ’’انصاف کی جانب پہلا قدم‘‘ قرار دیتے ہوئے کئی گھنٹوں سے جاری دھرنا ختم کردیا۔
اس معاملے میں راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی براہ راست نشانہ بنایا، کیونکہ دہلی پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جرم ہوا ہے، جسم سے پیلٹ برآمد ہوئے ہیں اور نوجوان شدید زخمی ہوا ہے تو پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے میں تامل کیوں تھا؟ انہوں نے اسے آئینی حقوق اور انصاف کے بنیادی اصولوں سے جوڑا اور کہا کہ وہ ساحل اور اس جیسے دیگر متاثرہ طلبہ کے لیے انصاف کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
راہل گاندھی کے دھرنے پر بی جے پی نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے اسے ’’انارکی کی سیاست‘‘، سیاسی مایوسی اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا۔ روی شنکر پرساد نے عدالتی عمل اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے احتجاج پر سوال اٹھایا، جبکہ جے پی نڈا نے اسے حقیقی انصاف کے بجائے سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔ راج ناتھ سنگھ نے اسی دوران وندے ماترم کے معاملے کو بھی اٹھایا اور اسمرتی ایرانی نے احتجاج کو ’’دکھاوا‘‘ قرار دیا۔ بی جے پی کے ان حملوں کے باوجود امیت شاہ کی خاموشی سیاسی بحث کا موضوع بنی رہی۔
یہ پورا واقعہ راہل گاندھی کی وسیع تر سیاسی حکمت عملی سے بھی جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف وہ فرد کے تجربے، آزادی اور خود اختیاری کی بات کررہے ہیں اور دوسری طرف ایسے معاملات کو اٹھا رہے ہیں جن میں ان کے مطابق ریاستی اداروں سے عام شہری کے حقوق کا تحفظ مطلوب ہے۔ اگر شہری اپنی زندگی اور سچائی کا خود تعین کرنے کا حق رکھتا ہے تو ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ اس حق، عزت اور انصاف کی حفاظت کریں۔
آخرکار ہندوستانی جمہوریت کا اصل امتحان یہی ہے کہ اختلاف کے باوجود کیا ہر شہری کو برابر کی عزت، آواز اور مواقع حاصل ہیں؟ کسی سیاسی جماعت یا تنظیم کو اپنے نظریے کے مطابق ملک کی سمت متعین کرنے کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن جمہوریت میں کسی فرد یا گروہ کی سچائی کو تمام شہریوں پر حتمی سچ کے طور پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع میں ہے اور اس تنوع کی حفاظت صرف آئینی دفعات سے نہیں بلکہ سماجی رویوں اور سیاسی برداشت سے بھی ہوتی ہے۔
راہل گاندھی کا ’’سوراج‘‘ کا تصور اسی بڑے سوال کو سامنے لاتا ہے۔ سوراج اگر واقعی اپنے اوپر راج ہے تو پھر اس میں فرد کو اپنی شناخت، اپنی سوچ، اپنے خواب اور اپنی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق بھی شامل ہوگا۔ ریاست کا کام اس سفر کو روکنا نہیں بلکہ اسے آسان بنانا ہوگا۔ تعلیم سستی اور معیاری ہو، امتحانات منصفانہ ہوں، معاشی مواقع وسیع ہوں، سیاسی ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور مذہب، ذات، زبان یا جنس کی بنیاد پر کسی شہری کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ اس ملک میں اجنبی ہے۔
ہندوستان کا مستقبل شاید اسی توازن میں پوشیدہ ہے: ایک ایسا ملک جہاں اکثریت کو اپنی شناخت کے اظہار کی آزادی ہو، مگر اقلیت کو اپنے وجود کے ثبوت کے لیے مسلسل جدوجہد نہ کرنی پڑے؛ جہاں حکومت طاقت کا استعمال کرے تو جواب دہ بھی ہو؛ جہاں طالب علم کی آواز کو اس کے مستقبل کا حصہ سمجھا جائے؛ اور جہاں ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کی زندگی، اس کا خواب اور اس کی سچائی بھی ہندوستان کی اجتماعی کہانی کا اہم حصہ ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں راہل گاندھی کا ’’سوراج‘‘ ایک سیاسی نعرے سے آگے بڑھ کر ہندوستانی جمہوریت کے بنیادی سوال سے جڑ جاتا ہے: کیا ہندوستان ایسا معاشرہ ہوگا جہاں چند لوگ سب کے لیے سچ طے کریں، یا ایسا جمہوری ملک جہاں ہر شہری کو اپنی زندگی کا راستہ خود تلاش کرنے کا حق حاصل ہو؟ اس سوال کا جواب صرف سیاست دان نہیں، بلکہ ہندوستان کے شہری اپنے اجتماعی عمل، جمہوری شعور اور آئینی اقدار کے ذریعے دیں گے۔
