از قلم : مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآباد
استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
ماہ ربیع الاول اسلامی و ہجری سال کا تیسرا مہینہ کہلاتا ہے اور لفظ ربیع کے معنی عربی میں موسم بہار کے آتے ہیں اور اول کے معنی پہلے کے آتے ہیں اس لحاظ سے ربیع الاول کا مطلب ہوا پہلا موسم بہار جاننا چاہیے کہ موسم بہار دو زمانوں پر مشتمل ہوتا ہے پہلا موسم بہار وہ ہوتا ہے جس میں پھول و کلیاں کھلتے ہیں اور دوسرا موسم بہار وہ ہوتا ہے جس میں پھل پک جاتے ہیں پہلے موسم کو ربیع الاول جبکہ دوسرے کو ربیع الثانی کہا جاتا ہے جب قدیم عربوں نے قمری مہینوں کے نام رکھے تو یہ مہینہ اس وقت آیا جب موسم بہار کی ابتداء ہوئی تھی پھر بعد میں ان کے یہی نام پڑگئے
ماہ ربیع الاول اسلامی تاریخ کے اہم ترین مہینوں میں سے ایک مہینہ ہے کیونکہ یہ وہ مبارک و مقدس مہینہ ہے جس میں خالق دو جہاں مالک ارض وسماء اللہ تبارک و تعالی نے امام الانبیاء محبوب کبریاء سرور کائنات فخر دموجودات محسن انسانیت خلاصہ کائنات رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت اللعالمین بنا کر اس دنیائے رنگ و بو میں مبعوث فرمایا اور اسی مہینے کے اندر اللہ تبارک و تعالی کے حکم سے آپﷺ اور مسلمانوں نے مکۃ المکرمہ سے مدینۃ المنورۃ کی جانب ہجرت فرمائی نیز اسی مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرض منصبی کو ادا کرنےاوردین اسلام کو امت تک پہنچانے کے بعد اس دنیاسے وصال فرماگئے
یقینا خلاصہ کائنات محسن انسانیت رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد مبارک اس دنیا ئےانسانیت کے لیے حیات نو کی مانند ہے اور اس امت کے لیے احسان عظیم ہے اللہ تبارک و تعالی نے ہم سب کو محض اپنے فضل و کرم سے انگنت و بے شمار نعمتوں سے نوازا لیکن اللہ تبارک و تعالی نے کسی نعمت پر احسان نہیں جتلایا لیکن اللہ تبارک و تعالی نے قرآن مجید کے اندر دو نعمتوں کا تذکرہ فرمایا اور اس کے بعد اسے احسان عظیم قرار دیا چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
لَقَدۡ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِہِمۡ یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ۚ وَ اِنۡ کَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ (آل عمران :١٦٤)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں پاک صاف بنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے، جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقینا کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔
اللہ تبارک و تعالی نے آپ کی بعثت کو بطور احسان بیان کیا ہے کیونکہ آپ ہی نے دم توڑتی ہوئی انسانیت کو حیات نو کا جام پلایا دنیا انسانیت کو کفر و شرک ظلم و بربریت کی گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ایمان و ایقان اخلاق و کردار کی راہ دکھا کر دونوں جہانوں کی کامیابی وہ کامرانی سے سرفراز فرمایا تو جس طرح اللہ تبارک و تعالی نے آں حضرت ﷺ کی بعثت کے ذریعہ امت مسلمہ پر احسان عظیم فرمایا ہے اور آنحضر صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بعثت کے مقصد کی تکمیل بھی فرمادی اور اللہ تبارک و تعالی کی دی ہوئی امانت دین اسلام کو کو کما حقہ امت تک پہنچا دیا امت کے جو حقوق تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کر دیا تو امت مسلمہ پر بھی ضروری ہے کہ اپنے نبی کی سیرت طیبہ حیات مبارکہ کو جانیں اور حقوق کو جانے اور پہچانے اور ان نبی کے حقوق کو اداکرنے کی بھر پورسعی وکوشش کرتا رہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت طیبہ کے بے شمار پہلو اور مختلف گوشے ہیں ان میں ایک اہم پہلو آپ کے حقوق ہیں جو امت پر عائد ہوتے ہیں ماہ ربیع الاول اپنی آمد کے ساتھ اہل ایمان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ نبی کے حقوق کو پہچانے اور اپنی زندگیوں میں لانے کی کوشش کرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا موضوع ایسا ہے جو ہم نے بڑی حد تک نظر انداز کر دیا ہے جبکہ قرآن و حدیث میں بڑی اہمیت کے ساتھ اس کو بیان کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے حقوق ہیں لیکن ان میں نمایاں چند حقوق کا مختصر تذکرہ ان سطور کے اندر کیا جائے گا۔
پہلا حق نبی پر ایمان لانا
امت پر نبی کا سب سے پہلا حق جو عائد ہوتا ہے وہ نبی پر ایمان لانا ہے آپ کی نبوت و رسالت پر ایمان لاناضروریات دین میں سے ہے ایمانیات میں توحید کے بعد سب سے بڑا درجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان لانا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے سے مراد یہ ہے کہ اس بات کی گواہی دینا کہ آپ اللہ تبارک وتعالیٰ کےبرگزیدہ بندے اور آخری نبی ورسول ہیں اور جو کچھ دین و شریعت آپ لے کر آئے ہیں ان سب کو صدق دل سے یقین کرنا اور سچا سمجھنا اور زبان سے اقرار کرنا نبی پر ایمان لانےمیں شامل ہے
قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:
قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ (الأعراف:١٥٨)
ترجمہ: (اے اے نبی ان سے کہہ دیجیے : اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جس کے قبضے میں تمام آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندگی اور موت دیتا ہے۔ اب تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ جو نبی امی ہے، اور جو اللہ پر اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تمہیں ہدایت حاصل ہو۔
لہٰذا اللہ تبارک و تعالی پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت پر ایمان لانا اور آپ جو دین لے کر آئے اسے سچے دل سے قبول کرنا فرض ہے۔
اگر کوئی صرف اللہ تعالی پر کامل و مکمل ایمان رکھتا ہے اور اللہ کے نبی پر ایمان نہیں رکھتا تو اس کا ایمان ناقابل قبول ہے جو اللہ تبارک و تعالی کے ساتھ ساتھ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے گا اسے وعید سنائی گئ
وَ مَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا (الفتح:١٣)
ترجمہ: اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لائے تو (وہ یاد رکھے کہ) ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔
اسی طرح حدیثِ جبریل میں آپ ﷺ نے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ اس کے فرشتوں، کتابوں اور رسولوں پر ایمان لایا جائے
مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: ” أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ(ترمذی)
اے محمد! ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، آخرت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر پر ایمان لاؤ“
جو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے اس کے بارے میں حدیث پاک میں جہنم کی وعید آئی ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الأُمَّةِ يَهُودِيٌّ، وَلَا نَصْرَانِيٌّ، ثُمَّ يَمُوتُ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ، إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ (مسلم)
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے کہ اس امت کا کوئی بھی فرد چاہے یہودی ہویا نصرانی جو میرے متعلق سن لے پھر وہ مرجائے اور اس دن پر ایمان نہ لائے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے تو اس کا ٹھکانہ جہنم والوں میں سے ہوگا۔
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم نبوت پر بھی ایمان لانا ضروری ہے عقیدہ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور قطعی عقیدہ ہے جس کا مطلب یہ ہے اللہ تبارک و تعالی نے جن و انس کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا عظیم الشان سلسلہ جاری فرمایا تھا اس سلسلے کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس پر مکمل فرما دیا اورآپ کو آخری نبی ورسول بناکر اس دنیا میں بھیجا ہے اب قیامت تک کوئی نئے نبی اور رسول نہیں آسکتے
جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں شرکت ممکن نہیں ،اسی طرح حضر ت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں بھی شرکت ممکن نہیں اور جس طرح آپ کو اللہ کےنبی و رسول ماننا ضروری ہے ایسے ہی خاتم النبیین ماننا بھی ضروری ہے قران مجید میں اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے
مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمۡ وَ لٰکِنۡ رَّسُوۡلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمًا (الأحزاب:٤٠)
ترجمہ: (مسلمانو ! ) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سب سے آخری نبی ہیں، اور اللہ ہر بات کو خوب جاننے والا ہے۔
ختم نبوت کا عقیدہ تقریباً سو قرآنی آیات سے صراحتاًواشارۃً ثابت ہے ،دوسوسے زاید احادیث اوراجماع امت سے ثابت ہے ۔
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
إِنَّ مَثَلِي وَمَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَأَجْمَلَهُ إِلَّا مَوْضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَعْجَبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبِنَةُ، قَالَ: فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَأَنَا خَاتِمُ النَّبِيِّينَ.(بخاری)
میری اور مجھ سے پہلے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک گھر بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی مگر اس کے ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوڑدی۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑجاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ لگائ گئ ؟(اگر لگادی جاتی تو کیا ہی بہتر ہوتا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں وہی کونے کی آخری اینٹ ہوں اور میں خاتم النبیین ہوں۔
اسی طرح ایک حدیث پاک میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
أَنا خاتمُ النَّبيِّينَ لاَ نبيَّ بَعدي (ترمذی)
میں نبیوں میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا
دین کے تمام احکامات میں چاہے وہ اصولی ہوں یا فروعی ہوں اللہ تبارک و تعالی نے حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ذات کو بعد میں آنے والوں کے لیے نمونہ اور مثال بنایا ہے ایمان کے متعلق بھی اللہ تبارک و تعالی نے صحابہ کے ایمان کو بعد میں آنے والوں کے لیے معیار کسوٹی قرار دیا
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَاۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ فَقَدِ اہۡتَدَوۡا (البقرہ:١٣٧)
اگر یہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی ہدایت یافتہ ہوجائیں گے
اس آیت کے مخاطب حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں اور اس آیت میں ان کے ایمان کو مثالی نمونہ قرار دے کر حکم دیا گیا کہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک وہی ایمان معتبراور قابل قبول ہوگا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے اختیار فرمایا ہو
کیونکہ صحابہ کا ایمان ساری انسانیت میں سب سے اعلی ان کے خلاق و کردار سب سے عمدہ نبی پر ایمان لانے کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شدید آزمائش کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اورکلمہ حق کا دامن نہیں چھوڑا اللہ اور اس کے رسول کے دین پر پہاڑ کی طرح جمے رہے اور اس ایمان کی راہ میں انہوں نے ظلم و ستم کا مقابلہ کیا جان و مال کی قربانیاں پیش کی ہجرت کی صعوبتوں برداشت کی لیکن ایمان میں ذرہ برابر کمی کو گوارہ نہیں کیا
دوسرا حق نبی کی عظمت
نبی کا دوسرا حق جو ہم پر عائد ہوتا ہے وہ نبی کی عظمت بجالانا اورنبی تعظیم وتکریم کرنا
اللہ تبارک و تعالی نے اپنے پیارے حبیب سید الاولین و الآخرین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جو محاسن ومحامد شمائل وخصائل اور عظمت و فضیلت عطا فرمائی ہے ساری کائنات کے اندر کسی کو وہ عظمت و فضیلت حاصل نہیں ہے
چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
وَ رَفَعۡنَا لَکَ ذِکۡرَکَ (الم نشرح)
ترجمہ: اور ہم نے تمہاری خاطر تمہارے تذکرے کو اونچا مقام عطا کردیا ہے۔
اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو اتنا بلند ترین مقام عطاء فرمایا کہ تمام اسلامی شعائر میں اللہ تبارک وتعالیٰ کے نام کے ساتھ آپ کا نام لیا جاتا ہے جو ساری دنیا میں میناروں اور ممبروں پر اشہد ان لا الہ الا اللہ کے ساتھ اشہد ان محمد رسول اللہ پکارا جاتا ہے اور دنیا میں کوئی سمجھدار انسان آپ کا تذکرہ بغیر تعظیم کے نہیں کرتا اگرچہ وہ مسلمان نہ ہو (معارف القرآن)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مقام ومرتبہ اتنا بلند ہے کہ آپ کی بعثت اگرچہ سب سے آخر میں ہوئی لیکن اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت سب سے پہلے عطاء فرمائ تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا فیصلہ اسی وقت کر دیا گیا تھا جب کہ حضرت آدم علیہ السلام اپنے تخلیق کے مراحل میں تھے یہ محض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خصوصیت ہے
چنانچہ ایک حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا
يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى وَجَبَتْ لَكَ النُّبُوَّةُ ؟
اے اللہ کے رسول! نبوت آپ کے لیے کب واجب ہوئی؟
قَالَ: وَآدَمُ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ (ترمذی)
تو آپ نے فرمایا: جب آدم روح اور جسم کے درمیان تھے (یعنی ان کی پیدائش کی تیاری ہو رہی تھی) ۔
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل البشر سید البشر ہونا اور روزِ محشر سب سے پہلے قبر سے اٹھایا جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان گنت خصائص اور فضائل میں سے ایک خصوصیت اور فضیلت ہے،
چنانچہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَنْشَقُّ عَنْهُ الْقَبْرُ وَأَوَّلُ شَافِعٍ وَأَوَّلُ مُشَفَّعٍ (مسلم)
ترجمہ: قیامت کے دن میں حضرت آدم کی اولاد کا سردار ہوں گا اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور سب سے پہلے میں شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے میری شفاعت قبول کی جائے گی۔
اور آپ ہی کی یہ امتیازی خصوصیت ہوگی کہ قیامت کے اس حیرت انگیز اور خوفناک ماحول میں حمد کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں ہوگا قیامت کے دن سب سے اونچا درجہ مقام محمود آپ کو ملے گا۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، وَبِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَوْمَئِذٍ آدَمُ فَمَنْ سِوَاهُ إِلَّا تَحْتَ لِوَائِي، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ (ترمذی) میں قیامت کے دن تمام اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور میرے ہاتھ میں حمد کا پرچم ہوگا اور اس پر مجھے فخر نہیں، حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر تمام انبیاء کرام اس دن سب میرے پرچم کے نیچے ہوں گے، اور میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس کے لیے زمین شق ہوگی، اور سب سے پہلے قبر سے میں اٹھوں گا اور اس پر مجھے فخر نہیں۔
کسی بھی شخصیت کی قدر و منزلت کا اندازہ ان کے محاسن ومحامد شمائل وخصائل خصوصیات و امتیازات کے ذریعے سے لگایا جا سکتا ہے اور اللہ تبارک و تعالی نے نبی رحمت رسول کائنات فخر موجودات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ کو ان تمام محاسن و محامد سے سرفراز فرمایا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کی تعظیم و توقیر آپ کا ادب و احترام بھی آپ کے شایان شان ہونا چاہیے اور اللہ تبارک و تعالی نے قران کریم کے اندر آپ کی تعظیم و توقیر ادب واحترام کرنے کی تاکید فرمائی ہے:
اِنَّآ اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا o لِّتُوٴْمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہوَتُعَزِّرُوْہُ وَتُوَقِّرُوْہُ وَتُسَبِّحُوْہُ بُکْرَةً وَّاَصِیْلاً ﴾(الفتح:۹)
ترجمہ ”بے شک ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہی دینے والا ، خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا بناکر، تا کہ اے لوگو! تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاوٴ۔ اور رسول کی توقیر وتعظیم کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔ “
قران مجید میں ایک مقام پر اللہ تبارک و تعالی نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے نبی کا ادب بتایا
لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمۡ کَدُعَآءِ بَعۡضِکُمۡ بَعۡضًا
(اے لوگو) اپنے درمیان رسول کو بلانے کو ایسا (معمولی) نہ سمجھو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلایا کرتے ہو (النور:٦٣)
تفسیر: اس ایت کی ایک تفسیر میں مفسرین نے بیان فرمایا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ضرورت کے لیے بلاؤ یا مخاطب کرو تو اس طرح مخاطب نہ کرو جیسے ایک دوسرے کو نام لے کر مخاطب کرتے ہو چنانچہ یا محمد کہہ کر مخاطب نہ کرو کیونکہ یہ بے ادبی ہے بلکہ تعظیم القاب کے ساتھ یا رسول اللہ یا نبی اللہ وغیرہ کہاکرو اس حکم کے ذریعے اللہ تعالی نے مسلمانوں پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کو واجب کیا ہے اور ہر ایسے عمل سے بچنے کی تاکید کی جس میں بے ادبی ہو اور جس سے آپ کو تکلیف پہنچے
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی بھی قول و فعل میں پیش قدمی اور آپ کے سامنے بلند آواز سے بات کرنے کو سختی سے منع فرمایا
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ (الحجرات:٢)
ترجمہ: اے ایمان والو ! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیا کرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔
اس ایت میں اللہ تبارک و تعالی نے مسلمانوں کو نبی کی عظمت بتاتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قول و فعل میں پیش قدمی نہ کرو آپ کے سامنے آپ کی اواز سے زیادہ اپنی آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے آپس میں اس طرح گفتگو کرنا ایک قسم کی بے ادبی اور گستاخی ہے اس آیت کے نزول کے بعد صحابہ کا یہ حال ہو گیا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ قسم ہے اللہ کی کہ میں مرتے دم تک آپ سے اس طرح گفتگو کیا کروں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس قدر آہستہ بولنے لگے بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا اور حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی طبعی طور پر آواز بلند تھی یہ آیت سن کر بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کی تعظیم و توقیر اور ادب و احترام میں ایسی داستان رقم کی ہیں جن کو پڑھ کر ایمان تازہ ہو جاتا ہے چنانچہ بخاری شریف کی ایک طویل حدیث ہے جس میں عروہ بن مسعود ثقفی کا واقعہ نقل کیا گیا ہے کہ جب وہ صلح حدیبیہ کے موقع پر قریش مکہ کی جانب سے سفیر بن کر بارگاہ رسالت میں تشریف لائے تھے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے جذبہ عشق و محبت اور حد درجے ادب و احترام کو دیکھ کر حیرت و تعجب میں پڑ گئے اور واپس آکر اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ اے لوگو میں بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار میں گیا ہوں قیصر کسری اور نجاشی کے دربار میں گیا ہوں خدا کی قسم میں نے کہیں ایسا بادشاہ نہیں دیکھا جس کی تعظیم اس کے دربار کے لوگ اتنی کرتے ہوں جتنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اپ کی کرتے ہیں خدا کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی تھوکتے ہیں تو اسے کوئی نہ کوئی صحابی اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتے ہیں اور جس کام کے کرنے کا حکم دیتے ہیں وہ فورا کر لیتے ہیں اور وہ جو وضو کرتے تو ان کے وضو کا پانی لینے کے لیے گزرے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور لڑنے کے قریب ہو جاتے ہیں جب آپ گفتگو کرتے ہیں تو ہر طرف خاموشی چھا جاتی ہے ان کے دلوں میں اپ کی تعظیم کا یہ عالم تھا کہ نظر بھر کر دیکھ نہیں سکتے (بخاری)
اس لیے ہر مسلمان پر لازم و ضروری ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے تعلق رکھنے والی تمام چیز وں کی تعظیم و تکریم کرے اور ہرگز بھی اپنے قول و عمل سے ایسی حرکت نہ کرے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں معمولی سی بھی بے ادبی ہو
تیسرا حق نبی کی محبت
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت پر جس طرح ایمان لانا فرض ہے اور جس طرح اپ کی تعظیم و توقیر فرض ہے ٹھیک اسی طرح آپ سے والہانہ عشق و محبت رکھنا ایمان کا بنیادی و لازمی حصہ ہے آپ سے محبت دین حق کی شرط اول ہے اور ایسی محبت مطلوب و مقصود ہے جو مال و دولت عزیز واقارب والدین آل و اولاد تمام مخلوقات اور خود اپنی جان سے بھی بڑھ کرہو
نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی کے ساتھ جب تک اس درجہ کی محبت اور اس قسم کا قلبی تعلق اور عزت و ناموسِ رسالت ﷺ پر مرمٹنے کا حقیقی جذبہ و داعیہ پیدا نہ ہو تو آدمی نہ ایمان کی حلاوت پاسکتا ہے، نہ کامل ایمان کے درجہ پر فائز ہوسکتا ہے اور نہ ازروئے قرآن اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکتاہے
قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ (التوبہ:٢٤)
ترجمہ: (اے پیغمبر ! مسلمانوں سے) کہہ دو کہ : اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال و دولت جو تم نے کمایا ہے اور وہ کاروبار جس کے مندا ہونے کا تمہیں اندیشہ ہے، اور وہ رہائشی مکان جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں۔ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرما دے۔ اور اللہ نافرمان لوگوں کو منزل تک نہیں پہنچاتا
مذکورہ آیات میں براہ راست تو خطاب ان لوگوں سے ہے جنہوں نے ہجرت فرض ہونے کے وقت دنیاوی تعلقات سے مغلوب ہوکر ہجرت نہیں کی لیکن آیت کے الفاظ کا عموم تمام مسلمانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس درجے لازم اور واجب ہے کہ کوئی دوسرا تعلق اور کوئی دوسری محبت اس پر غالب نہ آئے اور جس نے اس درجے کی محبت پیدا نہیں کی وہ مستحق عذاب ہوگا اس کو عذاب الہی کا منتظر رہنا چاہیے (معارف القرآن)
اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے
اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ (الأحزاب:٦)
ترجمہ: ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں۔
اسلیے ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ دنیا کی ساری چیزوں سے بڑھ کر اپنے دل میں خدا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کو جگہ دے کیوں کہ وہی اصل ایمان ہے حدیث مبارکہ میں ہے
حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺنے ارشاد فرمایا:
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی أَکُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِه وَوَلَدِه وَالنَّاسِ أَجْمَعِيْنَ.(البخاری)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اس کو اپنے والد (ماں اور باپ)، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔
نبی کی محبت میں صحابہ نے ان قرآن و حدیث کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی جان مال آل اولاد وطن عزیزسب کچھ قربان کر دیا صحابہ کے دلوں میں کس قدر نبی کی محبت کا جذبہ تھا اور صحابہ نے کس طرح محبت رسول کے عملی مظاہرے پیش فرمائیں ہیں وہ ہم ان واقعات سے اندازہ لگا سکتے ہیں
جنگ بدر کے بعد حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مشرکین نے دھوکہ سے گرفتار کرلیا۔ صفوان بن امیہ نے اپنے باپ کا انتقام لینے کے لئے انھیں خرید لیا اورانھیں قتل کرنے کے لئے اپنے غلام نسطاس کو دے کر حرم سے باہر بھیج دیا اور قریش آپ کے قتل کا تماشا دیکھنے کے لئے جمع ہوگئے
جن میں ابو سفیان بھی تھے۔ جب ان کو سولی پر چڑھا کر قاتل نے تلوار ہاتھ میں لی تو ابو سفیان نے کہا کہ اے زید! میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم اس بات کو پسند کروگے کہ ہم تم کو چھوڑ دیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے بدلے میں قتل کردیں، اور تم اپنے گھر آرام سے رہو حضرت زید رضی اﷲ تعالٰی عنہ ابو سفیان کی اس طعنہ زنی کو سن کر تڑپ گئے اور جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ اے ابو سفیان! خدا کی قسم! میں اپنی جان کو قربان کر دینا عزیز سمجھتا ہوں مگر میرے پیارے رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقدس پاؤں کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ مجھے کبھی بھی یہ گوارا نہیں ہو سکتا۔ یہ سن کر ابو سفیان نےکہا خدا کی قسم!:”ما رأیت من الناس أحدا یحب کحب أصحاب محمد محمدا صلی اللہ علیہ وسلم ” کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ آپ سے جس قدر محبت کرتے ہیں، میں نے کسی قوم کو کسی سے اس درجہ محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا
قبیلے بنو دینار کی ایک انصاری صحابیہ کا عشق رسول اور محبت نبی کا حیرت انگیز واقعہ ہمارے لیے نمونہ ہے جب جنگِ احد کے موقعے پراہلِ مدینہ بہت گھبراہٹ کا شکار ہو گئے تھے کیونکہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کر دیا گیا ہے حتی کہ مدینے کے گلی کوچوں میں چیخ پکار مچ گئی تھی تو ایک انصاری خاتون پریشان ہو کر گھر سے نکلی تو اس نے میدان میں اپنے بھائی کو شہید پایا پھر بیٹے کو شہید پایا اور پھر آگے شوہر کو بھی شہید پایا لیکن اس نے کوئ پرواہ نہیں بس اس کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے کہا وہ آ گے ہیں۔ وہ عورت چلتی ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن تھام لیا اور بے ساختہ بول اٹھیں: یا رسول اللہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں
آپ کے سلامت و محفوظ رہ جانے کے بعد ہر مصیبت میرے لیے معمولی ہے
یہ ایک دو نہیں سیکڑوں واقعات ہیں اس میں صحابہ نے جان نثاری فداکاری اور محبت رسول کے عملی مظاہرے پیش کیے ہیں
چوتھا حق نبی کی اطاعت
اطاعت و اتباع رسول ﷺ ایمان کی بنیادہے اللہ کی محبت کے حصول کا واحد ذریعہ اور کامیابی کی ضمانت ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری ہر مسلمان پر واجب اور ضروری ہے جو شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت اور رسالت پر دل و جان سے ایمان رکھتا ہوں اور دل و جان سے آپ سے محبت رکھتا ہو تو یقینا اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت وفرمانبرداری کرےگا جب تک کوئی مسلمان اپنے نبی کی مکمل اطاعت نہیں کرے گا اس وقت تک وہ مومن نہیں بن سکتا اور نہ ہی وہ دنیا اور آخرت کی فلاح و کامیابی کو حاصل کر سکتا ہے قرآن مجید میں اللہ تبارک و تعالی نے جہاں اپنی اطاعت کا حکم دیا وہی نبی کی بھی اطاعت کا حکم دیا ہے
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ (النساء:٥٩)
ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی بھی اطاعت کرو
دوسری جگہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اطاعت ِرسولؐ کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے
وَمَا اٰتٰـکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوْہُ ق وَمَا نَھٰکُمْ عَنْہُ فَانْتَھُوْا (الحشر۵۹:۷)
جو کچھ رسول ﷺ تمھیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رک جائو
ایسے ہی قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالی نے نبی کی اتباع کو عین اپنی اطاعت قرار دیتے ہوئے فرمایا
مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ (سورۃ النساء ٨٠)
جو رسول کی فرماں برداری کرے تو بے شک اس نے اللہ کی فرماں برداری کی
اللہ تبارک وتعالیٰ کی محبت کے حصول کا واحد ذریعہ اتباع نبی ہے اللہ تبارک و تعالی نے اپنی محبت کو نبی کے اتباع کے ساتھ مشروط کر دیا چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران:٣١)
ترجمہ: (اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خاطر تمہارے گناہ معاف کردے گا۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا مہربان ہے۔
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی نے اپ کی ذات اقدس کو امت کے لیے نمونہ اور آئیڈیل بنایا ہے
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا (الأحزاب:٢١)
ترجمہ: حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لیے رسول اللہ کی ذات میں ایک بہترین نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے اور یوم آخرت سے امید رکھتا ہو، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرتا
احادیث مبارکہ میں بھی اطاعت نبی اہمیت کو بتاتے ہوئے اس کو دخول جنت کا ذریعہ بتایا گیا اور نبی کی نافرمانی کرنے والوں کو جہنم کی وعید سنائی گئ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
کُلُّ أُمَّتِي یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَی۔ قَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللهِ، وَمَنْ یَأْبَی؟ قَالَ : مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَی ( بخاری)
میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : یا رسول اللہ! انکار کون کرے گا؟ فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے انکار کیا
کوئی بھی شخص اس وقت تک کامل ایمان والانہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ ان تمام باتوں کو پسند نہ کرے اور ان پر عمل پیرا نہ ہوجائے جنہیں رسول ﷺ لے کر آئے ہیں اور جن باتوں سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے ان سے نفرت نہ کرنے لگے اور ان سے اجتناب نہ کرنے لگے۔
چنانچہ ایک حدیث پاک میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَكُونَ هَوَاهُ تَبَعًا لِمَا جِئْتُ بِهِ(مشکوۃ)
تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع ہو جائیں
صحابہ کرام ؓ کو آپؐ کی اطاعت و اتباع کااس قدر لحاظ تھا کہ آپ ؐ کی معمولی سی ناگواری ان کو متنبہ کرنے کیلئے کافی ہوتی تھی۔ حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص ؓ کے جسم پر کسم کے رنگ کی ایک چادر تھی، حضور ؐ نے اس پر کسی قدر ناگواری کا اظہار فرمایا، گھر واپس آئے تو چولہا سلگا ہوا تھا؛ چنانچہ اسی چولہے میں چادر ڈال دی۔ دوسرے روز حضور ؐ سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عورتوں کو دے دیا ہوتا ، کیوں کہ ان کے خواتین کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ( ابوداؤد )
صحابہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دیکھ اپنے کردار کو درست کرتے تھے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ آپ ؐنے ابتداء میں سونے کی انگوٹھی بنائی، لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنائیں ، پھر جب آپ ؐنے اس کے حرام ہونے کا اعلان فرمایا اور اپنی انگوٹھی پھینک دی تو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی انگوٹھیاں اُتار پھینکیں ( بخاری)
پانچواں حق نبی پر درود و سلام بھیجنا
آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں نذارنۂ درود و سلام پیش کرنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہم ترین حقوق میں سے ہے ایک حق ہے اور ایمان والوں کے لیے بڑی سعادت مندی ہے اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا محبوب ترین عمل ہے لذیذ ترین عبادت ہے اللہ تبارک و تعالی کی رضا اور قرب حاصل کرنے کا اہم ذریعہ محبت رسول کو حاصل کرنے کا اہم وسیلہ ہے اس سلسلے میں سب سے اہم تو حق تعالی شانہ کا پاک ارشاد قرآن مجید میں ہے:
اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ((الأحزاب:٥٦)
ترجمہ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خوب سلام بھیجا کرو
اللہ تبارک و تعالی نے قران کریم میں بہت سے احکامات نازل فرمائے اور بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کی توصیفیں اور تعریفیں بھی فرمائی اور ان کے بہت سے اعزاز و اکرام بھی فرمائے لیکن کسی حکم یا کسی اعزاز و اکرام میں یہ نہیں فرمایا کہ میں بھی یہ کام کرتا ہوں اور تم بھی کرو یہ اعزاز صرف سید الکونین فخر دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے ہے اللہ تبارک و تعالی نے الصلوۃ کی نسبت اولا اپنی طرف کی اس کے بعد فرشتوں کی طرف کرنے کے بعد مسلمانوں کو حکم دیا کہ اللہ اور اس کے فرشتے اپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے مومنو تم بھی درود بھیجو اس سے بڑھ کر اور کیا فضیلت ہوگی کہ اس عمل میں اللہ اور اس کے فرشتوں کے ساتھ مومنین کی شرکت ہے
درود شریف پڑھنے والوں پر اللہ تبارک و تعالی کی جانب سے رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ایک حدیث مبارک میں ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ صَلّٰی عَلَیَّ وَاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیہِ عَشْرًا”.(صحیح مسلم)
ترجمہ:جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ (صحیح مسلم)
ایسے ہی دوسری حدیث میں درود شریف پڑھنے کو رحمتوں کا نزول گناہوں کی بخشش اور رفع درجات کا ذریعہ بتایا گیا چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً وَّاحِدَۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ عَشْرَ صَلٰواتٍ وَحُطَّتْ عَنْہُ عَشْرُ خَطِیْأَتٍ وَرَفَعْتُ لَہ، عَشْرُ دَرَجَاتٍ”.( النسائی )
جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائیں گے، اس کے دس گناہوں کو معاف کرے گا اور اس کے دس درجات کو بلند فرمائیں گے
قیامت کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو آپ پر کثرت سے درود پڑھتا ہو چنانچہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
اَوْلَی النَّاسَ بِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُ ھُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً”. (مشکوٰۃ)
ترجمہ: قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے قریب وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر کثرت سے درود پڑھتے ہوں گے۔
لہٰذا مومنین پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم کاحق ہے کہ آپ پردرود وسلام پڑھیں، چنانچہ علماء نے لکھا ہے کہ بالغ ہونے کے بعد پوری زندگی میں کم ازکم ایک بار درود پڑھنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں اورمجلس میں جب ایک سے زیادہ بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہو تو کم ازکم ایک بار درود پڑھنا واجب ہے اور ہر مرتبہ درود پڑھنا افضل اور بہتر ہے۔(ردالمحتار)اور بعض حضرات کے نزدیک تو ہرمرتبہ پڑھنا واجب ہے اوراحتیاط بھی اسی میں ہے، لیکن اگرواجب نہ بھی ہو تب بھی ایک مسلمان کے ایمان اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کاتقاضایہ ہے کہ جب کبھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کانام مبارک سنے توکم ازکم ’’صلی اللہ علیہ وسلم کہے
یہ چند حقوق ہیں بہت ہے اختصار کے ساتھ رقم کئے گئے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعاء ہے اللہ تبارک و تعالی اس حقیر سے کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور امت مسلمہ کو نبی کے حقوق کو صحیح جان کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
