فخرالدین ریاضی

🔹️ ہمارے موجودہ معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ غلطی کو غلطی کی حیثیت سے نہیں، بلکہ غلطی کرنے والے کی حیثیت سے دیکھا جانے لگا ہے۔ اگر کوئی صاحبِ ثروت، صاحبِ اقتدار، بااثر یا منصب دار شخص کوئی غلطی کرے تو لوگ اسے غلط کہنے سے ہچکچاتے ہیں۔ بعض لوگ مصلحت کے نام پر خاموش رہتے ہیں، کچھ تعلقات خراب ہونے کے خوف سے زبان بند رکھتے ہیں، اور کچھ تو غلط کو بھی درست ثابت کرنے کے لئے دلائل تراشنے لگتے ہیں۔

لیکن یہی معاشرہ اگر کسی کمزور، غریب، بے اثر یا عام آدمی سے معمولی سی چوک دیکھ لے تو اسے معاف کرنے کے بجائے اس کی معمولی لغزش کو رائی کا پہاڑ بنا کر پیش کرتا ہے، گویا اس سے کوئی ناقابلِ معافی جرم سرزد ہوگیا ہو۔

یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرے کا عدل، انصاف اور اخلاقی معیار سوالیہ نشان بن کر یہ سوال کرتا ہے کہ:

کیا طاقتور کی غلطی: مصلحت، کمزور کی غلطی: جرم ہے؟

یہ کیسا عجیب معیار ہے کہ صاحبِ اختیار غلط کرے تو کہا جاتا ہے:

"آخر انسان ہے، غلطی ہوگئی ہوگی۔”

اور کوئی کمزور غلطی کر بیٹھے تو کہا جاتا ہے: "اس نے تو حد ہی کردی!”

طاقتور کے لئے توجیہات تلاش کی جاتی ہیں اور کمزور کے لیے الزامات۔

طاقتور کی بدعنوانی کو "مجبوری” کہا جاتا ہے، کمزور کی معمولی کوتاہی کو "بددیانتی”۔

طاقتور کی سخت کلامی کو "جرأت” کہا جاتا ہے، کمزور کی سچ گوئی کو "بدتمیزی”۔

طاقتور کی خاموشی کو "حکمت” کہا جاتا ہے، کمزور کی خاموشی کو "کمزوری”۔

یہ دوہرا معیار کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

🔹️ انسان سے غلطی ہونا کوئی عجیب بات نہیں۔ ہر انسان خطا کا پتلا ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ ہم غلطی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

اگر اصول یہ ہے کہ غلطی غلطی ہے تو پھر وہ چاہے کسی بادشاہ سے ہو یا فقیر سے، استاد سے ہو یا شاگرد سے، امیر سے ہو یا غریب سے، اپنے سے ہو یا پرائے سے اسے ایک ہی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

لیکن جب ہمارا معیار شخصیت بن جائے تو پھر حق و باطل کا فیصلہ دلیل سے نہیں، تعلق سے ہونے لگتا ہے۔ اور یہ بات صادق آتی ہے کہ: اپنا ہو تو عذر، پرایا ہو تو جرم۔

بااثر ہو تو مصلحت، کمزور ہو تو مواخذہ۔

یہ عدل نہیں بلکہ شخصیت پرستی ہے، انصاف نہیں بلکہ ظلم ہے۔

🔹️ اس سے بھی زیادہ رونا اس وقت آتا ہے جب کوئی شخص کسی بااثر فرد کی غلطی کی نشاندہی کرتا ہے تو بجائے اس کے کہ اصل غلطی پر غور کیا جائے، سوال اٹھانے والے ہی کو نشانے پر لے لیا جاتا ہے اور اسے اس طرح دھمکایا جاتا ہے کہ:

"تمہیں بولنے کی کیا ضرورت تھی؟”

"تم نے معاملہ کیوں اٹھایا؟”

"تم نے بڑوں کی مخالفت کیوں کی؟”

"تم نے تو ماحول خراب کردیا۔”

یعنی غلطی کرنے والا محفوظ، اور غلطی کی نشاندہی کرنے والا مجرم!

یہ طرزِ فکر معاشرے میں اصلاح کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ کیونکہ جب لوگ یہ دیکھیں گے کہ غلطی پر آواز اٹھانے کی سزا ملتی ہے اور غلطی کرنے والا طاقت کی وجہ سے محفوظ رہتا ہے تو پھر سچ بولنے کی جرأت کون کرے گا؟

اسی لیے کہاوت ہے:

"آئینہ وہی دکھاتا ہے جو سامنے ہوتا ہے، مگر کچھ لوگ آئینہ ہی توڑ دیتے ہیں۔”

جس طرح آئینہ چہرے پر داغ نہیں لگاتا، صرف داغ دکھاتا ہے۔ اسی طرح حق بات کہنے والا ہمیشہ مسئلے کا سبب نہیں ہوتا، بسا اوقات وہ صرف پہلے سے موجود مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔

🔹️دوسری طرف ہمارے معاشرے میں بعض لوگوں کو دوسروں کی معمولی لغزشیں تلاش کرنے کا ایسا شوق ہوتا ہے جیسے انہیں دوسروں کی اصلاح نہیں بلکہ کردار کشی کرنی ہو۔

کسی سے ایک لفظ غلط نکل گیا، بات آگے بڑھ گئی۔

کسی سے ایک انتظامی کوتاہی ہوگئی، اسے بدعنوانی بنا دیا گیا۔

کسی سے اجتہادی یا فکری چوک ہوئی، اسے کردار کا مسئلہ بنا دیا گیا۔

کسی نے ایک موقع پر غلط فیصلہ کیا، اسے پوری زندگی کا مجرم قرار دے دیا گیا۔

 بلکہ اصلاح کا مقصد انسان کو بہتر بنانا ہے، جبکہ عیب اچھالنے کا مقصد اسے معاشرے میں گرانا ہوتا ہے۔

اسی لئے کہا جاتا ہے:

"دوسروں کے عیب تلاش کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لینا چاہیے۔”

اور ایک مشہور کہاوت ہے:

"وہی شخص پتھر پھینکے جو خود شیشے کے گھر میں نہ رہتا ہو۔”

لہذا ہمیں اپنا معیار بدلنا ہوگا۔

معاشرے کی اصلاح اس وقت شروع ہوگی جب ہم یہ اصول طے کریں کہ:

شخص نہیں، عمل دیکھا جائے گا۔

عہدہ نہیں، حق دیکھا جائے گا۔

دولت نہیں، کردار دیکھا جائے گا۔

رشتہ نہیں، انصاف دیکھا جائے گا۔

طاقتور غلط کرے تو بھی غلط کہا جائے، اور کمزور سے غلطی ہو تو بھی اسے انسان سمجھ کر اصلاح کا موقع دیا جائے۔ نہ کسی کی طاقت ہمیں حق بات کہنے سے روکے اور نہ کسی کی کمزوری ہمیں ظلم کرنے کا حوصلہ دے۔

ہمیں اتنا یاد رکھنا چاہیے کہ: طاقتور کی غلطی پر خاموشی اور کمزور کی لغزش پر شور، یہ انصاف نہیں، معاشرتی منافقت ہے۔ اور جس معاشرے میں سچ بولنے والا مجرم اور غلط کرنے والا معزز بن جائے، وہاں مسئلہ چند افراد کا نہیں رہتا، پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کا بن جاتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ:

حق، حق ہے۔ چاہے کہنے والا کمزور ہو۔

غلط، غلط ہے۔ چاہے کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے