کیا مذہبی احترام کو بھی سیاسی عینک سے دیکھا جائے گا؟
از: عبدالحلیم منصور
ہندوستان کی تہذیبی روایت میں مذہبی شناختیں ہمیشہ ایک دوسرے سے مکالمہ کرتی رہی ہیں۔ مسلم فنکاروں کا بھجن گانا، مسلم شعرا کا ہندو مذہبی روایات اور دیوی دیوتاؤں کے تذکروں کو اپنے کلام میں جگہ دینا اور مختلف مذہبی افکار پر مشترکہ مجالس میں گفتگو کرنا کبھی مذہبی حدود کی خلاف ورزی نہیں سمجھا گیا؛ اسے باہمی احترام، تہذیبی کشادگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت قرار دیا گیا۔ پھر آج ایک غیر مسلم وزیر جب اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات اور اخلاقی اقدار کا اعتراف کرتا ہے تو یہی کشادہ روی سیاسی اعتراض اور مذہبی تنازع میں کیوں تبدیل ہوجاتی ہے؟ کیا احترام اور تحسین کا یہ اصول بھی مذہب دیکھ کر بدلنے لگا ہے؟
کرناٹک کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم بسواراج رائے ریڈی نے کوپل ضلع کے کُکانور میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ولادت کے موقع پر مسلم برادری کے اجتماعی شادیوں کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اسلام کو عظیم اور انسانی اقدار سے بھرپور مذہب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں، وہ قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں، اور مذہب کے ساتھ اس کی تاریخ کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قرآن صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، ہر شخص اسے پڑھ سکتا ہے۔ اسی موقع پر انہوں نے اپنی حج کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کم از کم ایک مرتبہ حج کرنا چاہتے ہیں، لیکن غیر مسلم ہونے کی وجہ سے مکہ نہیں جاسکتے۔ انہوں نے لوگوں کو مذہبی جنون اور ذات پات کی تفریق سے دور رہنے اور ہر مذہب کی اچھی تعلیمات کو زندگی میں اپنانے کی تلقین بھی کی۔
رائے ریڈی کے بیان کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے پورے سیاق و سباق کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اسلام کی بعض تعلیمات کو انسانیت، اخلاق اور معاشرتی زندگی کے حوالے سے سراہا اور بعد میں یہ وضاحت بھی کی کہ اسلام کو عظیم کہنا دوسرے مذاہب کو برا یا کمتر کہنا نہیں ہے اور تمام مذاہب میں اچھی تعلیمات موجود ہیں۔ البتہ ’’برتر‘‘ یا ’’سب سے عظیم‘‘ جیسے الفاظ مذہبی معاملات میں غیر ضروری حساسیت پیدا کرسکتے ہیں، اس لیے ایک ذمہ دار عوامی نمائندے سے زیادہ محتاط طرزِ بیان کی توقع فطری ہے۔ مگر الفاظ کی اس نزاکت کو بنیاد بنا کر پورے بیان کو کسی مذہب کی توہین کا عنوان دے دینا بھی مناسب نہیں۔ اصل انصاف یہی ہے کہ بیان کو اس کے مکمل پس منظر، مقصد اور بعد میں دی گئی وضاحت کے ساتھ سمجھا جائے، نہ کہ ایک لفظ کو پورے موقف کا پیمانہ بنا دیا جائے۔
یہاں کرناٹک کی اپنی سماجی روایت ایک اہم آئینہ پیش کرتی ہے۔ مرحوم ابراہیم سوتار، جنہیں ’’کرناٹک کا کبیر‘‘ کہا گیا، ہندو اور اسلامی مذہبی روایتوں سے قصے اور تعلیمات بیان کرتے، بھجن گاتے اور اپنی مجالس کے ذریعے ہندو مسلم اتحاد اور اخلاقی زندگی کا پیغام دیتے رہے۔ اسی وسیع روایت میں شِشونالا شریف جیسے مسلم صوفی شاعر بھی ملتے ہیں، جن کی شخصیت اور شاعری ہندو مسلم تہذیبی ہم آہنگی کی نمایاں علامت بن گئی۔ یعنی مذہبی شناخت اور دوسرے مذہب کے احترام کو ایک دوسرے کی ضد سمجھنا خود کرناٹک کی تاریخی و تہذیبی روایت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ تو پھر آج مسئلہ کہاں پیدا ہورہا ہے؟ کیا اس لیے کہ تعریف کرنے والا ایک غیر مسلم ہے اور تعریف اسلام کی ہے؟
بی جے پی نے رائے ریڈی کے بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے معافی اور استعفے کا مطالبہ کیا اور اسے سناتن دھرم کی توہین اور ’’اپیزمنٹ‘‘ کی سیاست سے جوڑا۔ یہ سیاسی جماعت کا حق ہے کہ وہ وزیر کے الفاظ پر تنقید کرے، لیکن تنقید اور مذہبی اشتعال کے درمیان ایک باریک مگر اہم حد ہوتی ہے۔ اگر کسی وزیر کا بیان سیاسی طور پر غلط، غیر محتاط یا قابلِ اعتراض ہے تو اس پر دلیل سے بات کی جاسکتی ہے؛ اسے فوراً ہندو بمقابلہ مسلمان کے فریم میں رکھ دینا خود اس سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے جس کا دعویٰ تمام سیاسی جماعتیں کرتی ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض بی جے پی رہنماؤں کی تنقید سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر وزیر کی ذاتی خواہشات اور نجی کردار پر طنز تک پہنچ گئی۔ سابق رکن پارلیمان پرتاپ سمہا نے چار شادیوں اور آخرت میں حوروں کے حوالے سے طنزیہ تبصرے کیے، جبکہ ایم ایل سی سی ٹی روی نے بھی اسی نوعیت کا اشارہ دیا کہ شاید رائے ریڈی نے اسلام کو اس لیے عظیم کہا کہ اس مذہب میں متعدد شادیوں کی اجازت ہے۔
یہ طرزِ بیان نہ صرف اصل موضوع سے توجہ ہٹاتا ہے بلکہ سیاسی مباحثے کے معیار کو بھی نیچے لے جاتا ہے۔ کسی وزیر کے مذہب سے متعلق بیان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس کے الفاظ کو چیلنج کیا جاسکتا ہے اور اس کی سیاسی نیت پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے؛ لیکن چار شادیوں، حوروں یا ذاتی خواہشات کے حوالے سے تمسخر پیدا کرنا دلیل نہیں۔ ایسے تبصرے کسی سنجیدہ جمہوری بحث کو آگے بڑھانے کے بجائے مذہبی جذبات کو مزید مشتعل کرتے ہیں۔ سیاسی اختلاف کو شخصی تمسخر میں تبدیل کرنا کسی بھی جماعت کے لیے قابلِ فخر طرزِ عمل نہیں ہوسکتا۔
اور یہاں ایک بنیادی اصول بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مذہبی آزادی صرف اس بات کا حق نہیں کہ انسان اپنے مذہب کی تعریف کرے؛ آئین ہر شخص کو اپنے ضمیر اور مذہب کی آزادی دیتا ہے۔ سپریم کورٹ بھی واضح کرچکا ہے کہ ہندوستانی سیکولرازم محض مذہبی برداشت کا نام نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ساتھ مساوی سلوک کا آئینی اصول ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ رائے ریڈی کے بیان میں سیاسی مصلحت کا کوئی پہلو موجود ہو؛ سیاست میں ہر عوامی بیان کے سیاسی اثرات ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض امکان ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اس لیے وزیر کی نیت پر قیاس آرائی کے بجائے ان کے الفاظ، ان کی بعد کی وضاحت اور اس پر ہونے والے سیاسی ردعمل کو موضوعِ بحث بنانا زیادہ ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔
اسلام کی اچھی تعلیمات کا اعتراف نہ کسی کو مسلمان بناتا ہے اور نہ کسی دوسرے مذہب کی توہین کے مترادف ہے۔ اسلام عدل، احسان، رحم، انسانی وقار، اخلاق اور ظلم سے گریز کی تعلیم دیتا ہے؛ قرآن کا واضح پیغام ہے: ’’إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ‘‘۔ اگر کوئی غیر مسلم ان تعلیمات میں انسانیت کے لیے خیر، اخلاق اور بھلائی کا پیغام محسوس کرتا ہے تو اس اعتراف کو تعصب کی عینک سے دیکھنے کے بجائے بین المذاہب احترام، فکری کشادگی اور انسانی قدروں کی مشترکہ بنیاد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ آخر کسی دوسرے مذہب کی کسی خوبی کو تسلیم کرنا اپنے مذہب سے بے وفائی کب سے ہوگیا؟ کیا اپنے عقیدے پر قائم رہنے کے لیے دوسروں کی ہر خوبی سے انکار بھی ضروری ہے؟
اصل تشویش شاید یہ نہیں کہ ایک وزیر نے اسلام کو عظیم کہا؛ تشویش اس بات کی ہونی چاہیے کہ ہم نے مذہب کے بارے میں مثبت گفتگو کو بھی سیاسی وفاداری کے پیمانے میں ناپنا شروع کردیا ہے۔ اگر ایک مسلمان فنکار کا بھجن گانا بھائی چارہ ہے، ایک مسلم شاعر کا دوسری مذہبی روایت کے روحانی پہلو سے متاثر ہونا تہذیبی وسعت ہے اور مختلف مذاہب کے بارے میں گفتگو بین المذاہب مکالمہ ہے، تو پھر ایک غیر مسلم وزیر کا اسلام کی انسانی اور اخلاقی تعلیمات کی تعریف کرنا بھی اسی پیمانے سے دیکھا جانا چاہیے۔
اختلاف کا حق سب کو ہے، مگر مذہبی احترام کو دوہرے معیار کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ رائے ریڈی کو اپنے الفاظ میں زیادہ احتیاط برتنی چاہیے تھی؛ بی جے پی کو اپنے اعتراض کا حق ہے؛ لیکن سیاسی اختلاف کو ذاتی تمسخر اور مذہبی اشتعال تک لے جانا نہ جمہوری مکالمے کو مضبوط کرتا ہے، نہ سماجی ہم آہنگی کو۔ کسی مذہب کی تعریف کو دوسرے مذہب کی توہین بنا دینا بھی انصاف نہیں۔
مذہب کی عظمت دوسرے مذہب کو نیچا دکھانے سے ثابت نہیں ہوتی، اور کسی دوسرے مذہب کی خوبی تسلیم کرنے سے اپنی عقیدت کم نہیں ہوجاتی۔ ہندوستان کی تہذیبی طاقت ہی اس کشادگی میں رہی ہے کہ یہاں اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی اچھی بات کو تسلیم کرنے کی گنجائش باقی رہی ہے۔ شاید آج ضرورت اسی گنجائش کو دوبارہ زندہ کرنے کی ہے—تاکہ مذہب سیاست کا ہتھیار نہیں بلکہ انسان کو انسان کے قریب لانے کا وسیلہ بن سکے۔
